بھارتی ’روح کے محافظوں‘ کی نئی وردی

آر ایس ایس خود کو ہندو تہذیب کی محافظ اور ضامن سمجھتی ہے
،تصویر کا کیپشنآر ایس ایس خود کو ہندو تہذیب کی محافظ اور ضامن سمجھتی ہے
    • مصنف, جسٹن رولاٹ
    • عہدہ, نامہ نگار جنوبی ایشیا، بی بی سی

بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریا سوامی سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ایک ایسی تنظیم ہے جو تقریباً ہر لحاظ سے ایک ٹھوس تنظیم ہے۔

یہ وہ نظریاتی چشمہ ہے جہاں سے کئی ہندو تنظیموں کی نظریاتی سیرابی ہوئی ہے جن میں بھارت کی موجودہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔

آر ایس ایس خود کو ہندو تہذیب کی محافظ اور ضامن سمجھتی ہے اور نریندر مودی کو اقتدار میں لانے کے لیے اس تنظیم نے ملک بھر میں پھیلے ہوئے لاکھوں کارکنوں کی مدد سے کامیاب مہم چلائی تھی۔

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی رضاکار تنظیم ہے جس کے ارکان کی تعداد 60 لاکھ ہے۔

لیکن آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جس نے اس بات کو غلط ثابت کیا ہے کہ قوم پرست تنظیموں کے یونیفارم ہمیشہ بہترین ہوتے ہیں۔

’بھدّا یونیفارم‘

آر ایس ایس کے ارکان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس قسم کی خاکی نیکریں پہنیں جو عموما سکاؤٹ لڑکے پہنتے ہیں۔

نیکر کبھی بھی کوئی فیشن ایبل لباس نہیں رہی لیکن جس قسم کی نیکریں آر ایس ایس کے رضاکار پہنتے ہیں وہ تو خاص طور پر بھدّی ہوتی ہیں۔ یہ نیکر نیچے سے اتنی کُھلی ہوتی ہے کہ کسی پہلوان کی ٹانگیں بھی اس میں مریل دکھائی دیتی ہیں او گھُٹنے بھی نہایت کمزور۔

جس قسم کی نیکریں آر ایس ایس کے رضاکار پہنتے ہیں وہ تو خاص طور پر بھدّی ہوتی ہیں
،تصویر کا کیپشنجس قسم کی نیکریں آر ایس ایس کے رضاکار پہنتے ہیں وہ تو خاص طور پر بھدّی ہوتی ہیں

لیکن اب تنظیم اپنا حلیہ مکمل طور پر تبدیل کرنے جا رہی ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں خبریں آ رہی ہیں کہ تنظیم اب زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے نیکر کی روایت کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنے جا رہی ہے۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس نے تنظیم کے ایک سینیئر ’پرچارک‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ آر ایس ایس کے دو مرکزی رہنما تنظیم کی نئی وردی کے حق میں ہیں۔ اخبار کے مطابق تنظیم کے رہنماؤں کا منصوبہ ہے کہ ہوادار خاکی نیکروں کی جگہ اب رضاکار خاکی پتلونیں پہنیں گے۔

بھارت کے ایک آئن لائن اخبار ’سکرول‘ کے مطابق ’ایسا نہیں ہے کہ آر ایس ایس نے اچانک یہ فیصلہ کر لیا ہو کہ اب وہ گائے کے پیشاب کی شان میں ترانے نہیں گائیں گے اور گوشت کھانے کی مذمت کرنا بند کر دیں گے، بلکہ ان کی بڑی پریشانی خاکی نیکر کی روایت کو ختم کرنا ہے۔ تنظیم کے قائدین کا خیال ہے کہ دراصل یہ خاکی نیکر ہی ہے جس کی وجہ سے نوجوان صبح صبح اٹھ کر جسمانی ورزش کے لیے نہیں آتے اور اقلیتیوں کو برا بھلا کہنے میں تنظیم کا بھرپور ساتھ نہیں دے رہے۔

بہت بڑا فیصلہ

آر ایس ایس میں اس سوچ کا آنا حیران کن ہے کہ ان کی وردی میں کوئی کمی ہے، حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس قوم پرست تنظیم کی بنیاد ہی ان فسطائی یا فاشسٹ تحریکوں کو دیکھ کر رکھی گئی تھی جو جنگ عظیم دوئم کے برسوں میں یورپ میں پروان چڑھ رہی تھیں۔

کہا جاتا ہے کہ آر ایس ایس کے بانی کیشو بلی رام ہیجیوار نے اپنی تحریک کے لیے سیاہ شرٹ کا انتخاب مسیولینی کی تحریک کے رضاکاروں کی وردی سے متاثر ہو کر کِیا تھا۔

اگر وہ مسیولینی کے بجائے نازی جرمنوں کے یونیفارم کی نقل کرتے تو شاید اچھا ہوتا
،تصویر کا کیپشناگر وہ مسیولینی کے بجائے نازی جرمنوں کے یونیفارم کی نقل کرتے تو شاید اچھا ہوتا

اگر وہ مسیولینی کے بجائے نازی جرمنوں کے یونیفارم کی نقل کرتے تو شاید اچھا ہوتا، کیونکہ جو چمڑے کے کوٹ، نوکدار ٹوپیاں اور جودھپوری جوتے نازی پہنتے تھے اس سے زیادہ خوبصورت وردی آج تک دائیں بازو کی کسی دوسری تحریک کے حصے میں نہیں آئی۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آر ایس ایس کے نئے فیشن ایبل ’سوایم سیوک‘ آنے والے برسوں میں کیا پہنا کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق گزشہ عرصے میں آر ایس ایس کے رہنما نئی وردی کے لیے مختلف رنگوں کے قمیصوں اور پتلونوں کے نمونوں پر غور کرتے رہے ہیں۔

لیکن یونیفارم تبدیل کرنے کا فیصلہ کوئی چھوٹا فیصلہ نہیں ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ملک میں آر ایس ایس کی 50 کے قریب شاخیں یا ’شاخا‘ ہیں۔ اگر آپ کا اندازہ محتاط بھی ہو تب بھی ہر شاخا میں باقاعدہ رضاکاروں یا سوایم سیوک کی تعداد تقریباً دس ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر تنظیم نیکروں کی جگہ پتلونوں کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے کم از کم پانچ لاکھ پتلونیں درکار ہوں گی۔

آخر تنظیم نے اس لباس کو جلا دینے کا فیصلہ کیا کیوں جو ایک زمانے میں اس کی کشش سمجھا جاتا تھا؟
،تصویر کا کیپشنآخر تنظیم نے اس لباس کو جلا دینے کا فیصلہ کیا کیوں جو ایک زمانے میں اس کی کشش سمجھا جاتا تھا؟

سنہ 2010 میں جب تنظیم نے کپڑے کی پیٹی کی جگہ چمڑے کی بیلٹ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا تو ملک میں چمڑے کی بیلٹوں کی اتنی کمی تھی کہ اس تبدیلی کا اطلاق کرتے کرتے تنظیم کو دو سال لگ گئے تھے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر تنظیم نے اس لباس کو جلا دینے کا فیصلہ کیوں کیا جو ایک زمانے میں اس کی کشش سمجھا جاتا تھا۔

نہایت اہم کردار

آج آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ اس کے ہندو قوم پرستی کے نظریات بھارت میں اتنے مقبول کبھی نہ تھے جتنے آج ہیں۔تنظیم میں نئے رضاکاروں کی بھرتی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2013 میں پانچ لاکھ اور 2014 میں چھ لاکھ نئے رضاکاروں نے تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ چونکہ سرکاری طور پر کوئی اعداد شمار نہیں شائع کیے جاتے اس لیے یہ ممکن نہیں کہ تنظیم کے ان دعؤوں کی تصدیق کی جا سکے۔

نریندر مودی کے اپنے سیاسی خیالات اور نظریات کی تشکیل میں آر ایس ایس کا کردار نہایت اہم رہا ہے
،تصویر کا کیپشننریندر مودی کے اپنے سیاسی خیالات اور نظریات کی تشکیل میں آر ایس ایس کا کردار نہایت اہم رہا ہے

قطع نظر اس بحث کہ کتنے نئے لوگ تنظیم میں شامل ہو رہے ہیں، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا سوایم سیوک جو بھی پہنیں، نریندر مودی کی حکومت میں آر ایس ایس ایک نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

نریندر مودی کے اپنے سیاسی خیالات اور نظریات کی تشکیل میں آر ایس ایس کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ اپنے بچپن اور نوجوانی کے دنوں میں مودی آر ایس ایس کے مستقل رکن رہ چکے ہیں اور وہ اپنی محنت، نظم و نسق کی صلاحیت اور سیاسی کامیابیوں کا سہرا آر ایس ایس میں اپنی شمولیت کے سر ہی باندھتے ہیں۔

نہ صرف مودی خود، بلکہ بی جے پی کے سربراہ امت شاہ اور مودی کابینہ کے سات ارکان ماضی میں آر ایس ایس کے رکن رہ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ بھارت کے وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ، جنھیں موجودہ حکومت کی گائے کشی پر پابندی کے متنازع قانون کا معمار سمجھا جاتا ہے، وہ بھی اسی قوم پرست تنظیم سے منسلک رہے ہیں۔

آر ایس ایس سمجھتی ہے کہ وہ ایک ایسی فوج ہے جو بھارت کی روح کی بحالی کی جنگ لڑ رہی ہے۔

لگتا ہے کہ جلد ہی یہ فوج ہمیں نیکروں کی بجائے پتلونوں میں نظر آئے گی۔