آر ایس ایس جو مودی کو اپنا سمجھتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, راجیش جوشی
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
بھارت کی سرکاری ٹی وی دور درشن نے حال میں غیر معمولی طور پر ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھگوت کے سالانہ خطاب کو براہِ راست نشر کیا۔
آر ایس ایس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک خفیہ، پرتشدد ہندو تنظیم ہے جس کے ملک کی حکمران جماعت پی جے پی کے ساتھ پسِ پردہ روابط ہیں۔
موہن بھگوت نے اپنے خطاب میں ماضی میں گزرے ہندو بادشاہوں اور دیگر موضوعات پر بات کی جبکہ موجودہ حکومت کے اقدامات کی حمایت کی۔
یہ آزاد بھارت کی تاریخ میں پہلا موقعہ ہے کہ بی جے پی کے نظریاتی منعبے کے سربراہ کو سرکاری میڈیا نے اتنی اہمیت دی۔
ملک کے نئے وزیرِ اعظم نریندر مودی خود ماضی میں آر ایس ایس کے کل وقتی رکن تھے۔ موہن بھگوت کے خطاب کو براہِ راست نشر کرنے کے خلاف حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور آزاد خیال لوگوں نے آواز اٹھائی۔
حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی نے دور درشن کی جانب سے موہن بھگوت کی تقریر کو براہِ راست نشر کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ متنازع تنظیم آر ایس ایس حکومت کو ریموٹ کنٹرول سے کنٹرول کر رہی ہے۔
اس کے جواب میں دور درشن نے کہا کہ اس نے اس خطاب کو خبر کے طور پر لیا اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
متنازع ماضی
آر ایس ایس سنہ 1925 میں قائم کی گئی تھی جس پر آزادی کے بعد تین دفعہ پابندی عائد کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
اس پر پہلی دفعہ پابندی سنہ 1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد لگی۔ اس پر الزام تھا کہ قومی ہیرو کو قتل کرنے کا منصوبہ اس نے بنایا تھا لیکن بعد میں اسے بری الذمہ قرار دیا گیا۔
تنظیم کے لیے یہ الزام ایک بہت بڑا دھچکہ تھا اور اسے اس تاثر کو بدلنے میں تقربیاً تین دہائیاں لگیں۔
آر ایس ایس پر دوبارہ پابندی سنہ 1975 میں اس وقت لگائی گئی جب اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے تمام بنیادی حقوق معطل کرتے ہوئے تنظیم کی ساری لیڈرشپ کو جیل بھیج دیا۔
تنظیم نے لوہا گرم دیکھ کر کانگریس مخالف گروپوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا اور اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھایا۔
آر ایس ایس نے سنہ 1980 کی دہائی کے اواخر میں اپنی ذیلی گروہوں کے ذریعے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ ہندو مندر تعمیر کرنے کے لیے ایک بہت بڑی مہم چلائی۔
شدت پسند ہندو گروپوں بشمولِ آر ایس ایس کے حامیوں نے بابری مسجد کو دسمبر سنہ 1992 میں مسمار کر دیا۔ آر ایس ایس پر تیسری بار پابندی عائد کی گئی لیکن عدالت نے اس فیصلے کو رد کر دیا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس فرقہ پرست، عسکری تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے جو ’ہندوؤں کی بالادستی‘ پر یقین رکھتی ہے اور مسلمان و عیسائی اقلیتوں کے خلاف ’نفرت کی پرچار‘ کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
آر ایس ایس کی ویب سائٹ کے مطابق صرف ’مرد ہندو‘ اس میں شامل ہو سکتے ہیں جبکہ خواتین کے لیے ایک علیحدہ تنظیم ہے جسے راشٹر سویکا سامیاتا (قومی خواتین رضاکاروں کی کمیٹی) کہا جاتا ہے۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے خطاب کو سرکاری میڈیا پر براہ راست نشر کرنے سے حکومت اور تنظیم کے مستقبل کے تعلق کے بارے میں ایک وسیع پیمانے پر بحث چھڑ گئی ہے۔
کیا آر ایس ایس حکومت کو اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد کرانے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو سکے گی؟ یا کیا مودی جیسا ’سخت گیر رہنما‘ اس کی اجازت دے گا اور یا پھر کیا دونوں ہندوتوا کو جدید بھارت میں ایک بڑا سیاسی نظریہ بنانے کے لیے اکٹھے کام کریں گے؟
بعض مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ ملک کا کثیرالجماعتی جمہوری نظام سے باہر ہے ایک غیر منتخب تنظیم کو حکومت کی فیصلہ سازی کے عمل پر اثر انداز ہونے کی اجازت کیوں دی جائے؟
یہ سوالات سنہ 1998 سے سنہ 2004 کے درمیان بی جے پی کے دورِ اقتدار میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے درمیان کھل کر چلنی والی کشیدگی کے پس منظر میں اٹھائے جاتے ہیں۔
حکمتِ عملی میں تبدیلی
لیکن اس کے بعد سے حالات بدل گئے ہیں۔
جب سنہ 2004 میں بی جے پی کو انتخابات میں کانگریس کے ہاتھوں شکست ہوئی تو آر ایس ایس کا اثر رسوخ بہت کم ہوا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ آر ایس ایس نے سخت مراحل سے گزر کر سبق سیکھ لیا ہے کہ اسے موثر رہنے کے لیے دہلی میں ایک دوست حکومت کی ضرورت ہے۔
سیاسی تجزیہ کارہ نیرا جی چوہدری کہتی ہیں کہ آر ایس ایس نے سنہ 2014 کے انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار کے طور پر پارٹی کے سینیئر رہنماؤں ایل کے ایڈوانی اور میورلی مانوہار جوشی کے مقابلے میں نریندر مودی کی حمایت کرکے عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسا اس کے باوجود ہوا کہ گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے نریندر مودی نے ریاست میں آر ایس ایس کے رہنماؤں کو ایک طرف کر دیا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’آر ایس ایس نے ایک خطرہ مول لیا کیونکہ مودی اپنی مرضی پر چلے گا اور ضروری نہیں کہ وہ آر ایس ایس سے احکامات لیں۔‘
لیکن سینیئر صحافی رام بہادر رائے کہتے ہیں کہ ’آر ایس ایس اور مودی کے درمیان کوئی کشیدگی نہیں ہے۔‘

رام بہادر رائے اور نیرا جی چوہدری اس پر متفق ہیں کہ اس وقت نریندر مودی اور آر ایس ایس کے درمیان ایک دوسرے کے دائرہ کار پر واضح سمجھوتہ ہے اور وہ یہ کہ حکمرانی کا کام نریندر مودی کریں گے اور وہ نچلی سطح پر ’قابلِ قبول حد میں ہندوتوا‘ کے ایجنڈے کے فروغ کے لیے کیے جانے والے کام سے چشم پوشی کریں گے۔
نیرا جی کہتی ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی خاموش رہتے ہیں جب ان کے ساتھی ’لو جہاد‘ کی بات کرتے ہیں اور مسلمان لڑکوں پر ہندو لڑکیوں کو بہکانے کا الزام لگاتے ہیں یا پھر الزام لگاتے ہیں کہ ’مسلمانوں کے مدرسوں میں دہشت گردی سکھائی جاتی ہے۔‘
نیرا جی چوہدری کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کا مستقبل میں کسی وقت نریندر مودی کو چیلنج کرنے کا امکان ہے لیکن’اس کی پیشگوئی کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ اس وقت مودی اونچی پرواز پر ہیں۔‘
’لیکن دباؤ اس وقت بڑھتا ہے جب رہنما کی اتھارٹی اور اس کی لیڈرشپ کی مقبولیت میں کمی واقع ہو۔‘
اور شاید اس وقت بی جے پی اور آر ایس ایس کے اندر مودی کے مخالف گروپ اپنی چال چلانے کا سوچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا کبھی ہوگا بھی تو یہ بہت ہی بعد میں ہوگا۔







