کیا بھارتی مسلمان آر ایس ایس کے ساتھ آئیں گے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
آر ایس ایس اور بی جے پی کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ انہیں مسلمانوں کی حمایت حاصل نہیں ہے اگرچہ 16ویں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو مسلمانوں کے ایک طبقے کا ووٹ ملا تھا۔
وہیں ایک ایسی مسلم تنظیم بھی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلمانوں کو آر ایس ایس کے قریب لانے کا کام کر رہی ہے۔آر ایس ایس اس تنظیم کو اپنا حصہ نہیں مانتی لیکن اس پر نظر ضرور رکھتی ہے۔
’مسلم راشٹریہ منچ‘ (مسلم قومی پلیٹ فارم) نامی اس تنظیم کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ سنگ کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں اور آر ایس ایس مسلم مخالف نہیں ہے۔
اگر آپ سے پرانی دلی کے جامع مسجد علاقے کا ذکر کیا جائے تو آپ کے دماغ میں کس طرح کی تصویر ابھرے گی؟
تنگ گلیاں، بھیڑ بھاڑ والے محلے، غریب، کم تعلیم یافتہ ٹوپی اور داڑھی والے مسلمان مرد اور برقع والی خواتین اور شاید ہندو مخالف ماحول جہاں حب الوطنی کم دیکھنے کو ملتی ہے؟
وشو ہندو پریشد کے ایک رہنما نے میرے سامنے اس علاقے کو ’منی پاکستان‘ کہا تھا۔
لیکن اس خیال کے برعکس یہاں ’ کنول‘ کا پھول کِھل رہا ہے۔ عمران چوہدری 40 سال پہلے یہیں پیدا ہوئے تھے اور وہ 2002 سے آر ایس ایس کی حامی تنظیم’مسلم راشٹریہ منچ‘ سےوابستہ ہیں۔
آج وہ اس ادارے کے نمبر دو کے لیڈر ہیں۔ پہلے نمبر کے لیڈر، محمد افضل حج کرنے مکہ گئے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عمران چوہدری کہتے ہیں: ’انہیں کچھ لوگوں کی نفرت کا سامنا ضرور کرنا پڑا ہے لیکن ہمارے حامی بھی بہت ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں:’جیسے جیسے مسلم راشٹریہ منچ کا بھگوا (نارنجی) رنگ نكھرتا جا رہا ہے ویسے ویسے اس سے وابستہ لوگوں کے خلاف مسلم سماج میں نفرت بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔‘
’ مسلم راشٹریہ منچ‘ کے لیڈر بی بی سی ہندی کے سٹوڈیو میں آنے والے مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ابو طالب کہتے ہیں کہ پودا درخت بن کر ابھر رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس کام میں وقت ضرور لگے گا لیکن نفرت کی یہ دیوار ضرور گرے گی۔
12 سال پہلے سنگ کے اس وقت کے سربراہ كےایس سدرشن کی مدد سے قائم ’ مسلم راشٹریہ منچ‘ کو آر ایس ایس باضابطہ طور پر اب بھی نہیں اپناتی لیکن اس پر آر ایس ایس کی نظر ضرور رہتی ہے۔
مرلي دھر راؤ سنگ کے ایک پرانے حامی ہیں اور اب بی جے پی کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں ان کے مطابق مسلم راشٹریہ منچ ’ملک کے مسلمانوں کے اندر خود اعتمادی اور قوم پرستی کے خیال کی بیداری کی ایک کوشش ہے‘۔
وہ کہتے ہیں، ’ان سرگرمیوں میں آر ایس ایس کے لوگ نظر آتے ہیں اور فعال بھی ہے‘۔
محمد بلال منچ کے پرانے رکن ہیں وہ ہندو اور مسلم دونوں کی مقدس کتابوں سے کچھ سطروں کو سنا کر کہتے ہیں کہ مذہب الگ ہو سکتا ہے لیکن پیغام ایک ہے اور وہ ہے بھائی چارے کا پیغام۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ مسلم راشٹریہ منچ‘ کا کام باہمی میل جول کو بڑھانا ہے۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ناگپور کے ریشم باگ میدان میں اپنے سالانہ خطاب میں کہا تھا کہ ہندو معاشرے کو آسام، بنگال اور بہار کے راستے آنے والے دراندازوں سے خطرہ ہے۔
ظاہر ہے ان کا اشارہ بنگلہ دیش سے آنے والے لوگوں کی طرف تھا۔
قوم پرستی کا نعرہ دینے والے سنگ کے ایک سینئر رہنما کہتے ہیں ’وہ معاشرے کے تمام طبقوں کو لے کر چلتے ہیں لیکن بھاگوت کے اس بیان سے ایسا لگتا ہے وہ صرف ہندو سماج کے بارے میں فکر مند ہیں‘۔
تو منچ کے لوگ اس طرح کے بیانات کو کس طرح دیکھتے ہیں جن میں صرف ہندو سماج کے مفاد کی بات کی جاتی ہو۔
محمد بلال اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں،’بیرونی طاقتوں سے پورے ملک کے لوگوں کو خطرہ ہے کسی ایک طبقے کو نہیں‘۔
عمران کے مطابق وہ یونین کے لوگوں سے مل کر مسلمانوں کے خدشات کو ان تک پہنچاتے ہیں۔

مسلم راشٹریہ منچ کے لوگ کہتے ہیں وہ ہندو مسلم اختلافات کو کم کرنے اور باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا کام کرتے ہیں۔
ڈاکٹر اقبال بھی منچ سے منسلک ہیں وہ کہتے ہیں، ’مذہبی مسئلے کو ہم چھیڑتے نہیں ہیں اور دنیاوی مسئلے کو ہم چھوڑتے نہیں ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان پچھلی حکومتوں نے غلط فہمی پھیلائی ہے۔ سنگ مسلم مخالف نہیں ہے۔
بلال کہتے ہیں کہ انہیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر ہے اور سنگ کو اس میں کوئی اعتراض نہیں۔
مرلي دھر راؤ کہتے ہیں سنگ مخالف جذبات مسلمانوں میں پیدا کرائےگئے ہیں جو اب کم ہو رہے ہیں۔
آر ایس ایس کے اندر ان مسلم رضاکاروں کی حیثیت کیا ہے؟
منچ کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ سنگ جیسی ایک پرانی تنظیم سے وابستہ ہونے پر خود کو خوش قسمت محسوس کرتے ہیں۔
ان کی باتیں سن کر ایسا محسوس ہوا کہ منچ کے لوگوں کا موازنہ انڈین نیشنل کانگریس کے ابتدائی دنوں کے لیڈروں سے کیا جا سکتا ہے جب کانگریس کے رہنما انگریزوں کی حکومت کے سامنے صرف درخواستیں ڈال کر مطمئن رہتے تھے۔
منچ سے وابستہ لوگ بھی آر ایس ایس کے سامنے اپنی باتیں ہی کہہ پاتے ہیں اس سے زیادہ ان کی اہمیت نظر نہیں آتی۔
آخر آر ایس ایس میں کسی بڑے عہدے پر کوئی مسلمان کیوں نہیں؟ اس بارے میں مرلی دھر راؤ کہتے ہیں ایک دن ایسا آئے گا جب مسلمان سنگ سے جڑیں گے۔







