ماحول ایسا ہی رہا تو معاشی ترقی کا کیا ہوگا؟

ادیبوں کی یہ مخالفت اب مختلف رخ اختیار کرنے لگی ہے اور حکومت پر اس اس جگہ چوٹ کر رہی ہے جہاں درد زیادہ ہوتا ہے یعنی معیشت پر سخت چوٹ

،تصویر کا ذریعہ UDAY PRAKASH FACEBOOK BBC IMRAN QURESHI ASHOK VAJPAYEE

،تصویر کا کیپشنادیبوں کی یہ مخالفت اب مختلف رخ اختیار کرنے لگی ہے اور حکومت پر اس اس جگہ چوٹ کر رہی ہے جہاں درد زیادہ ہوتا ہے یعنی معیشت پر سخت چوٹ
    • مصنف, پرنجوائے گہا ٹھاکرتا
    • عہدہ, ماہر سیاست و اقتصادیات

انعام واپس کرنے والے مصنفین، ادیبوں، فلم سازوں، سماجی کارکنوں اور سائنسدانوں کے اجتماعی فیصلے کو بی جے پی اور آر ایس ایس بھلے ہی سیاسی فیصلہ اور ’دانشورانہ عدم برداشت‘ قرار دے کر اسے مسترد کر دیں لیکن یہ مخالفت اب مختلف رخ اختیار کرنے لگی ہے اور حکومت پر اس اس جگہ چوٹ کر رہی ہے جہاں درد زیادہ ہوتا ہے۔

اور حقیقت میں یہ درد بہت شدید ہے، یعنی معیشت پر سخت چوٹ۔

سب سے بری بات تو یہ ہے کہ معروف کارپوریٹ شخصیات بھی اب کھل کر حکومت کی لعنت ملامت کر رہے ہیں، لیکن اس لیے نہیں کہ حکومت اقتصادی اصلاحات کو تیزی سے آگے بڑھانے میں نا اہل ثابت ہوئی ہے بلکہ اس لیے کہ حکومت نے کس طرح سے فرقہ وارانہ ہجوم کی طاقت کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔

اور جو لوگ فکر مند ہیں کہ بی جے پی کی حکومت ہندوستانی سماج کی جامعیت اور رواداری کو یقینی بنانے سےگریزاں نظر آتی ہے وہ سب کے سب کانگریس پارٹی کے حامی نہیں ہیں، جیسا کہ دعوی کیا جا رہا ہے۔

حالت یہ ہے کہ جن صنعت کاروں نے مودی کے وزیر اعظم بننے کا دل سے استقبال کیا تھا ان میں سے کچھ نے شروع میں ہی مودی کی طرز حکومت پر نکتہ چینی شروع کر دی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحالت یہ ہے کہ جن صنعت کاروں نے مودی کے وزیر اعظم بننے کا دل سے استقبال کیا تھا ان میں سے کچھ نے شروع میں ہی مودی کی طرز حکومت پر نکتہ چینی شروع کر دی تھی

نہ ہی یہ عدم اطمینان ہندوؤں کے خلاف دانستہ طور پر کی گئي سازش کا نتیجہ ہے، جیسا کہ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس ظاہر کر رہی ہے۔

حالت یہ ہے کہ جن صنعت کاروں نے مودی کے وزیر اعظم بننے کا دل سے استقبال کیا تھا ان میں سے کچھ نے شروع میں ہی لیبر قوانین میں تبدیلی، سود کی شرح میں کمی اور خاص طور پر نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے حکومت کی سست رفتار کی شکایت کی تھی۔

اب تو حکومت کی ہمیشہ حمایت کرنے والے صنعت کار بھی سوال پوچھ رہے ہیں۔ بی جے پی سے وابستہ وزرا اور ارکان پارلیمان سمیت جو لوگ بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں تو آخر ان کو مودی نے خاموش کیوں نہیں کرایا؟ دادری واقعے کی مذمت کرنے میں انھوں نے اتنی دیر کیوں کی؟

حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے اور ان معاملات پر مودی کی ہچکچاہٹ نے ملک میں ماحول کو اتنا زہریلا بنا دیا ہے کہ اب بی جے پی کے حامی بھی تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔

سنہ 2002 میں گجرات فسادات کے دوران جب ہندوؤں کے پر تشدد ہجوموں نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا تو اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے مودی کو 'راج دھرم' کی یاد دلائی تھی۔

آج بی جے پی کے کچھ حامی بھی کھلے طور پر کہہ رہے ہیں کہ موجودہ ماحول ملک میں تیزی سے ترقی کے لیے معقول نہیں ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا تو دور کی بات ہے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنآج بی جے پی کے کچھ حامی بھی کھلے طور پر کہہ رہے ہیں کہ موجودہ ماحول ملک میں تیزی سے ترقی کے لیے معقول نہیں ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا تو دور کی بات ہے

آج بی جے پی کے کچھ حامی بھی کھلے طور پر کہہ رہے ہیں کہ موجودہ ماحول ملک میں تیزی سے ترقی کے لیے معقول نہیں ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا تو دور کی بات ہے۔

گذشتہ فروری میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے سربراہ دیپک پاریکھ نے کہا تھا کہ زمینی سطح پر کچھ بھی نہیں بدلا اور انڈسٹری کے لیے ابھی تک ’اچھے دن‘ نہیں آئے۔

چند روز پہلے ہی انفوسس کے بانی این آر نارائن مورتی نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے ’ذہن میں بہت ڈر‘ بیٹھا ہوا ہے، جو اقتصادی ترقی پر اثر ڈال رہا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کوئی سیاسی شخص نہیں ہیں۔

ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رگھو رام راجن نے بھی اپنے تبصر ے میں لوگوں کو رواداری برقرار رکھنے کی تلقین کی۔ انھوں نے کہا کہ رواداری کا ماحول، مختلف خیالات کے احترام اور سوال کرنے کے حق کی حفاظت ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ان کا پیغام سب کے لیے واضح تھا تاہم انھوں نے کسی شخص یا سیاسی پارٹی کا نام نہیں لیا۔

اگر اقتدار سے وابستہ انتہا پسند ہندؤں کے گروپوں کو یوں ہی اشتعال انگیز تقریر کرنے اور تشدد کے واقعات کو کرنے کی اجازت ملتی رہی اور حکمرانوں نے اس پر لگام نہیں لگائي تو پھر حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی کے بارے میں بھول جائے

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH

،تصویر کا کیپشناگر اقتدار سے وابستہ انتہا پسند ہندؤں کے گروپوں کو یوں ہی اشتعال انگیز تقریر کرنے اور تشدد کے واقعات کو کرنے کی اجازت ملتی رہی اور حکمرانوں نے اس پر لگام نہیں لگائي تو پھر حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی کے بارے میں بھول جائے

جس امر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ جو معروف کارپوریٹ شخصیات ان خیالات کو ظاہر کرتی رہی ہیں، وہ مودی، وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی طرح ہی آزاد صنعتی سرمایہ دارانہ نظام کی سخت حامی رہی ہیں اور کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کانگریس کا ایک بہت بڑا طبقہ اس کا حامی رہا ہے۔

لیکن یہی لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقلیت مخالف موقف اور معاشرے میں اس کے عدم رواداری کے ایجنڈے کے حوالے سے زیادہ بے چین ہیں۔

جس تیزی سے مودی کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوا، اسے دیکھنا، ہم میں سے بہتوں کے لیے جنہوں نے کبھی اس ایجنڈے کی حمایت نہیں کی تھی، بہت ہی حیرت انگیز ہے۔

آٹھ نومبر کو بہار کے انتخابات کے جو بھی نتائج آئیں، بھارتی سماج کے مختلف طبقوں میں اس بات کا ڈر بڑھتا جا رہا ہے کہ اگر اقتدار سے وابستہ انتہا پسند ہندؤں کے گروپوں کو یوں ہی اشتعال انگیز تقریر کرنے اور تشدد کے واقعات کو کرنے کی اجازت ملتی رہی اور حکمرانوں نے اس پر لگام نہیں لگائي تو پھر حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی کے بارے میں بھول جائے۔

اور پوری دنیا میں مودی کے دوروں کا نتیجہ صفر بن کر رہ جائے گا۔