’شاہ رخ خان کی روح پاکستان میں‘

،تصویر کا ذریعہKAILASH VIJAYAVARGIYA TWITTER HANDLE AND EPA
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بالی وڈ کے سپر سٹار شاہ رخ خان اگر کبھی پاکستان گئے تو وہاں انھیں اپنی روح مل سکتی ہے!
کسے معلوم تھا کہ انسان روح کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے، لیکن بھلا ہو بی جے پی کے ایک رہنما کا کہ انھوں نے شاہ رخ خان کو بتا دیا اور ساتھ ہی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ناقابل فراموش مثال قائم کردی۔ ورنہ آج کل نفرتوں کے اس دور میں کون کس کی پرواہ کرتا ہے۔
شاہ رخ چونکہ فلمی ستارے ہیں، وہ اپنی ایک الگ ہی دنیا میں رہتے ہیں، اپنی عالیشان کوٹھی کی کھڑکیوں سے جب وہ جھانک کردیکھتے ہیں تو انھیں ملک میں عدم رواداری کا ماحول نظر آتا ہے۔
لگتا ہے کہ ان کی کھڑکیاں کس ’ڈارک آرٹ فلم‘ کی گلیوں میں کھلتی ہیں کیونکہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی بھی اسی ملک میں رہتے ہیں، ممبئی کی چمک دمک سے دور، اقتدار کے گلیاروں میں اور انھیں چاروں طرف صرف بھائی چارہ نظر آرہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
زمین سے جڑے ہوئے کسی بھی دوسرے سیاسی رہنما کی طرح ان کی شاندار کوٹھی کی کھڑکی سے بھی ملک کے ہر گلی کوچے کی جھلک نظر آتی ہے اور جب وہ اپنی کھڑکی سے جھانک کر دیکھتے ہیں تو انھیں ’سد بھاؤ‘ یا ہم آہنگی کا ماحول نظر آتا ہے۔ ان کے خیال میں چاروں طرف ’امن ہے ۔۔۔ نہ اس ملک میں کبھی عدم رواداری تھی، اور نہ ہوسکتی ہے، اس لیے سیاسی وجوہات سے اس مسئلے کو اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔‘
بہر حال، شاہ رخ خان اب بڑے ہوگئے ہیں، اسی ہفتے انھوں نےاپنی 50 ویں سالگرہ منائی ہے۔ انھیں شاید لگا ہوگا کہ کچھ تو ایسی بات کہنی چاہیے جس سے سیاسی شعور جھلکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بی جے پی کے جنرل سیکریٹری کیلاش وجے ورگیا نے ان کی اس نا سمجھی کے جواب میں کہا کہ ’شاہ رخ رہتے تو ہندوسان میں ہیں، لیکن لگتا ہےکہ ان کی روح پاکستان میں ہے، ان کی فلمیں ہندوستان میں کروڑوں روپے کماتی ہیں۔۔۔لیکن وہ دنیا کی نظروں میں دیش کو کمزور کر رہے ہیں، اگر وہ غدار نہیں تو اور کیا ہیں؟‘
جواب تو شاہ رخ کو ہی بہتر معلوم ہوگا لیکن سوال کافی دلچسپ ہے۔ ایسے ہی کچھ اور سوال بی جے پی کےکچھ دوسرے رہنماؤں نے بھی کیے ہیں۔ مثال کے طور پر جنرل وی کے سنگھ، جو جب تک فوج کے سربراہ رہے، اپنی تاریخ پیدائش درست کرانے کی کوشش میں لگے رہے، وہ فوج کے پہلے سربراہ تھے جو حکومت کو سپریم کورٹ تک کھینچ کر لے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت انھیں لگتا تھا کہ حکومت انھیں ان کے حق سے محروم کر رہی ہے، لیکن جب سے وہ وزیر بنے ہیں، ان کا نظریہ بدل گیا ہے۔ اس لیے جب دلی کے قریب دو معصوم دلت بچوں کو جلا کر مار دیا گیا، تو انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی کتے کو پتھر بھی مار دے تو اس کے لیے حکومت کیسے ذمہ دار ہوسکتی ہے؟‘

اصولاً تو بات درست ہے، ہر جرم روکا نہیں جاسکتا لیکن الفاظ کا انتخاب ایک مخصوص سوچ کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔ اسی لیے ہندوستان میں بہت سے مورخین، سنگت کار، فلم ساز اور ادیب وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
ایک کالم نگار کا کہنا ہےکہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی سالگرہ پر ٹوئیٹ کرنے کا وقت ہے تو وہ اتنے بڑے افسوس ناک واقعات پر کیوں خاموش رہے؟
عدم رواداری صرف تشدد کی شکل میں ہی سامنے نہیں آتی۔ جب لوگوں کو کچھ کھانے، پینے، پہننے یا بولنے سے ڈر لگنے لگے، تو ہوسکتا ہے کہ کھڑکی سے وہ تصویر نظر آنے لگتی ہو جو شاہ رخ خان اور بہت سی دوسری ممتاز شخصیات نے دیکھی ہے۔
یہ سیاسی نظریات کا نہیں، کھڑکیوں کا قصور ہے۔







