کیرالہ: بھارت میں مذہبی رواداری کی مثال

تھریسور ضلع میں قدیم موزیری بندرگاہ کے نواح میں واقع ہندوستان کا پہلا گرجا گھر

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنتھریسور ضلع میں قدیم موزیری بندرگاہ کے نواح میں واقع ہندوستان کا پہلا گرجا گھر
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا میں عدم رواداری بھلے ہی بڑھ رہی ہو لیکن جنوبی ریاست کیرالہ میں آج بھی مذہبی اور ثقافتی تنوع کی قدیم روایت برقرار ہے۔

یہاں جگہ جگہ مسجدیں، گرجا گھر اور سناگوگ نظر آتے ہیں، ایک دوسرے کے قریب، باہمی بقا کی ایک مثال۔

یہ علاقہ ہزاروں سال سے سمندر کے راستے مسالوں کی تجارت کا اہم مرکز رہا ہے جس کی جھلک جگہ جگہ نظر آتی ہے۔

بھارت میں عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اتنی تشویش ناک شکل اختیار کر لی ہے کہ 40 سے زیادہ ممتاز ادیبوں نے ملک کے سرکردہ ادبی ادارے ’ساہیتہ اکیڈمی‘ کو اپنے اعزازات واپس کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

لیکن اس کے برعکس کیرالہ میں مذہبی اور ثقافتی تنوع کا جشن منایا جاتا ہے۔ وہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور عیسائیوں اور مسلمانوں کی بھی بڑی آبادی ہے لیکن کبھی مذہبی تشدد کے واقعات پیش نہیں آتے۔

کوچین شہر کے بیچوں بیچ ہندو راجہ کے پرانے محل سے بالکل متصل ایک سناگوگ ہے جو 11ویں صدی میں تعمیر ہوا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکوچین شہر کے بیچوں بیچ ہندو راجہ کے پرانے محل سے بالکل متصل ایک سناگوگ ہے جو 11ویں صدی میں تعمیر ہوا

وہ مالابار کا ہی خوبصورت ساحل تھا جہاں سے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں نے صدیوں پہلے ہندوستان میں قدم رکھا تھا۔

تھریسور ضلعے میں قدیم موزیری بندرگاہ کے نواح میں ہندوستان کا پہلا گرجا گھر، سناگوگ (یہودیوں کی عبادت گاہ) اور پہلی مسجد واقع ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ تقریباً دو ہزار سال پہلے یہودی اور عیسائی مالابار پہنچے تھے۔ موزیری بندرگاہ کے قریب واقع سینٹ ٹامس گرجا گھر کے پادری فادر جوز فرینک کہتے ہیں کہ دور دراز سے آنے والوں کا مقامی لوگوں نے ہمیشہ کھلے دل سے استقبال کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ تمام بڑے مذاہب پہلے یہاں ہی کیوں آئے، تو پہلی بات یہ کہ یہاں بڑی بندرگاہ واقع ہونے کی وجہ سے آنا آسان تھا، اور اس لیے بھی کہ مقامی لوگوں نے کھلے دل سے ان کا استقبال کیا۔ یہ علاقہ ہزاروں سال سے کاروبار کا ایک بڑا مرکز تھا۔‘

کوچین شہر کے بیچوں بیچ ہندو راجہ کے پرانے محل سے بالکل متصل ایک سناگوگ ہے۔ راجہ نے نہ صرف یہودیوں کا استقبال کیا بلکہ انھیں ’جیو ٹاؤن‘ بسانے کے لیے اپنے ہی محل کے بالکل برابر میں جگہ بھی دی۔

یہاں پہلے عرب تاجر آئے، پھر یہودی اور عیسائی، اور پھر اسلام۔ نئی تہذیبیں بھی آئیں اور نئے نظریات بھی، لیکن مقامی مورخین کے مطابق طویل عرصے تک باہر کی دنیا کے ساتھ کاروباری تعلق کی وجہ سے معاشرے میں رواداری شاید اتنی رچ بس چکی تھی کہ کبھی تہذیبوں کا ٹکراؤ نہیں ہوا۔

شمالی پراوور میں واقع سینٹ ٹامس چرچ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 52 عیسوی میں تعمیر ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنشمالی پراوور میں واقع سینٹ ٹامس چرچ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 52 عیسوی میں تعمیر ہوا تھا

کوچین کے سابق میئر کے جے سوہن کہتے ہیں کہ ’چونکہ یہ ایک ساحلی علاقہ ہے اس لیے یہاں دنیا بھر سے لوگ آتے رہے ہیں۔ کاروبار بڑھانے کے لیے ہمیشہ ان کا استقبال بھی کیا گیا۔ اس میں راجہ کا بھی فائدہ تھا، اس لیے انھوں نے بھی باہر سے آنے والوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ یہاں سب کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی آزادی تھی، اور اب لوگوں کو یہ بھی احساس ہے کہ وہ ایک دوسرے کےبغیر ترقی نہیں کر سکتے۔‘

کیرالہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں آج بھی مسلم لیگ ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور کانگریس ریاستی حکومت میں شامل ہے۔

مسلم لیگ کے رہنما محمد اشرف کہتے ہیں کہ ’مسلم لیگ مرکزی دھارے (مین سٹریم) کی پارٹی ہے، ہماری پارٹی کے نظریات اور پالیسیاں بالکل سیکیولر ہیں، ہم سب کے لیے کام کرتے ہیں اور اسی لیے ہماری مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، میں خود ایک ایسے حلقے سے کامیاب ہو تا ہوں جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں۔‘

کیرالہ کی اس خوبصورت روایت میں شاید باقی ملک کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔

کوچین کی ایک دیوار پر بنی ہوئی یہ پینٹنگ یہاں کی مذہبی ہم آہنگی کی تصویر ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکوچین کی ایک دیوار پر بنی ہوئی یہ پینٹنگ یہاں کی مذہبی ہم آہنگی کی تصویر ہے