راجکوٹ: میچ کے لیے سکیورٹی سخت، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

،تصویر کا ذریعہAFP and Getty
گجرات کے شہر راجکوٹ میں اتوار کو بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے تیسرے ون ڈے میچ میں رخنہ اندازی کے خدشات کے سبب سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔
گجرات کی پٹیل برادری کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والے نوجوان رہنما ہاردک پٹیل نے میچ کے دوران سٹیڈیم کے اندر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
اس دوران پولیس نے پٹیل برداری کے رہنما ہاردک پٹیل کو جام نگر سے راجکوٹ آنے والی شاہراہ پر روک لیا ہے وہ اپنے قافلے کے ساتھ راجکوٹ آ رہے تھے۔
راجکوٹ میں سٹیڈیم کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ ہے۔
راجکوٹ کے پولیس کمشنر موہن جھا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ میچ کے دوران رخنہ اندازی کے خدشات کے پیش نظر 2500 پولیس اہلکاروں کو سٹیڈیم کے اندر اور باہر تعینات کیا گیا ہے۔
سٹیڈیم کے باہر کی حفاظت ریپڈ ایکشن فورسز کو سونپی گئی ہے جبکہ اسٹیڈیم کے اندر ہر سٹینڈ کے پاس ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔
ہاردک پٹیل نے بھارت اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کا راستہ روکنے کی دھمکی دی تھی لیکن دونوں ٹیمیں سٹیڈیم پہنچ چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریزرویشن کے لیے اس مہم کے تحت اس سے پہلے ہونے والے مظاہروں میں خواتین نے بڑھ چڑھ كر حصہ لیا تھا۔ اسی لیے خواتین کرکٹ شائقین کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے اور سٹیڈیم میں خواتین پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہے۔

،تصویر کا ذریعہANKUR JAIN
دھمکی دی گئی تھی کہ اس تحریک سے وابستہ لوگ ایسی ٹی شرٹ پہن کر سٹیڈیم پہنچیں گے جس پر ریزرویشن کی حمایت میں نعرے لکھے ہوں گے۔ اسی لیے سکیورٹی کے حکام اس طرح کی ٹی شرٹ پہننےوالے شائیقین کی خصوصی تلاشی لی۔
انھیں خدشات کے پیش نظر موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کو پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا۔ اتوار کو راجکوٹ میں بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز کا تیسرا میچ کھیلا جا رہا ہے۔
بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق راجکوٹ ضلع کے کلکٹر منیشا چندرا کا کہنا تھا کہ’ سنیچر کی رات 10 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل رہیں گی۔‘
’اس کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو بحال رکھنا، افواہوں کو روکنا اور بین الاقوامی کرکٹ میچ میں کسی خلل کو روکنا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
ہاردک پٹیل کے ایک قریبی ساتھی دنیش پٹیل کے مطابق ان کی برادری کے لوگ میچ دیکھنے جائیں گے اور اگر انھیں روکا گیا تو ریاست کی حکومت کو ہماری برادری کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انھوں نے پٹیل برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ میچ کے دوران بڑی تعداد میں موجودگی کو یقنی بنائیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
خیال رہے کہ ہاردک نے 25 اگست کو ریاستی دارالحکومت احمد آباد میں ایک بہت بڑی ریلی کی تھی جس میں تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے تھے اور اس کے بعد بھی انھیں حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔اس واقعے میں دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے جس کے بعد انتظامیہ نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔







