گجرات فسادات میں نو ہلاک، پولیس تشدد پر رپورٹ طلب

منگل کو ہزاروں مظاہرین پر پولیس نے جب لاٹھی چارج کیا تو پورے گجرات میں تشدد کا ماحول بن گیا تھا

،تصویر کا ذریعہANKUR JAIN

،تصویر کا کیپشنمنگل کو ہزاروں مظاہرین پر پولیس نے جب لاٹھی چارج کیا تو پورے گجرات میں تشدد کا ماحول بن گیا تھا

بھارت کی ریاست گجرات میں پٹیل برادری کے مظاہروں اور احتجاج کے دوران تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو تک پہنچ گئی ہے جبکہ ریاست کے پانچ شہروں میں کرفیو نافذ ہے۔

ادھر گجرات ہائی کورٹ نے پٹیل تحریک کے دوران ہونے والے فسادات میں مظاہرین پر پولیس کے مبینہ تشدد کا نوٹس لے لیا ہے۔

اس احتجاج کے دوران گجرات پولیس کے زبردستی لوگوں کے گھروں میں گھسنے اور لوگوں کو بے رحمی سے پیٹنے کی مبینہ ویڈیوز اور تصاویر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

عدالت نے احمد آباد کے پولیس کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات کر کے دو ہفتے کے اندر اندر رپورٹ جمع کرائیں۔

ریاست میں منگل کو پٹیل برادری کو بہتر تعلیم اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی تحریک کی قیادت کرنے والے نوجوان رہنما ہاردک پٹیل کی گرفتاری اور رہائی کے بعد کئی علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔

منگل کی شام جب احمد آباد میں جمع پٹیل برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مظاہرین پر پولیس نے جب لاٹھی چارج کیا تو پورے گجرات میں تشدد کا ماحول بن گیا تھا۔ منگل سے اب تک سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے ویڈیو پوسٹ کیے گئے ہیں جن میں پولیس افسران کو گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے.

اس کے ساتھ ساتھ ایسی درجنوں ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کو گاڑیوں کو نقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں وکیل وراٹ پوپٹ کی ایک درخواست پر جمعرات کو سماعت کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ نے کہا کہ میڈیا میں دکھائی جا رہی سی سی ٹی وی فوٹیج میں پولیس بھی یہی کام کرتے دکھائی دے رہی ہے۔

سولہ نامی علاقے میں جب مشتعل ہجوم نے جب عوامی جائیداد اور ایک پولیس چوکی کو نشانہ بنایا تو اس کے بعد ایڈووکیٹ پوپٹ اور ان کے پڑوسی کے مکانات کو بھی مبینہ طور پر پولیس نے نقصان پہنچایا تھا۔

جج نے ریاستی حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا پولیس نے نجی املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا تو سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ سینیئر افسران کو اس واقعے کی معلومات نہیں ہیں۔

جسٹس پريوالا نے پولیس تشدد والی سی سی ٹی وی فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’یہ بہت پریشان کر دینے والی چیز ہے۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہے تو فسادیوں اور حفاظت کرنے والوں میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟‘

ہاردک پٹیل نے اموات کے لیے ’ذمہ دار‘ پولیس اہلکاروں کی معطلی اور ہلاک شدگان کے خاندانوں کو 30-30 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

،تصویر کا کیپشنہاردک پٹیل نے اموات کے لیے ’ذمہ دار‘ پولیس اہلکاروں کی معطلی اور ہلاک شدگان کے خاندانوں کو 30-30 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے

احمد آباد کے ایک میجسٹریٹ نے پہلے ہی پٹیل تحریک کمیٹی کے حامیوں پر پولیس کے لاٹھی چارج اور ان کے رہنما ہاردک پٹیل کو گرفتار کرنے کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہوا ہے۔

تحقیقات کا حکم اس بنیاد پر دیا گیا کہ پولیس کی زیادتیوں کی وجہ سے پوری ریاست میں تشدد پھیل گیا جس میں اب تک نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پٹیل برادری کے لیڈر ہاردک پٹیل نے اموات کے لیے ’ذمہ دار‘ پولیس اہلکاروں کو 48 گھنٹے کے اندر اندر معطل کرنے اور ہلاک ہونے والوں کے خاندان کو 30-30 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے کسانوں سے اپیل کی ہے وہ شہروں میں دودھ اور سبزیوں کی فراہمی بند کر دیں۔

ریاست کے وزیر اعلی انديبین پٹیل نے لوگوں سے تشدد ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو لوگوں پر لاٹھی چارج کرنے کے احکامات نہیں دیے گئے تھے۔