گجرات میں تشدد جاری، پٹیل برادری کی اپیل پر ہڑتال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارتی ریاست گجرات میں پٹیل کمیونٹی کو بہتر تعلیم اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی تحریک کی قیادت کرنے والے ہاردک پٹیل کو حراست میں لینے اور پھر رہا کیے جانے کے بعد کئی علاقوں سے تشدد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
پر تشدد واقعات کے پیش نظر بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
گجرات میں پر تشدد واقعات کے پیش نظر انتظامیہ نے ریاست کے تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ پٹیل کمیونٹی نے بدھ کو گجرات بھر میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
بی بی سی ہندی کے نامہ نگار انکور جین کا کہنا ہے کہ ریاست گجرات کا اہم شہر احمد آباد مکمل طور پر بند ہے اور سڑکوں پر پولیس اور فوج کے دستے تعینات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شہر میں انٹرنیٹ سروس اور موبائل فون سروس معطل ہے اور سکول، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ کا نظام بند پڑا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کو جاری ہونے والے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تشدد سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، اور آگے بڑھنے کا واحد طریقہ پرامن مذاکرات ہیں۔
پٹیل تحریک کے حامیوں نے تقریباً 50 بسوں اور دیگر گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ تشدد میں اضافے کو روکنے کے لیے حکومت نے موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو بند کر دیا ہے۔
گجرات سے نامہ نگار انکر جین نے بتایا ہے بدھ کی صبح دو تین بجے کے بعد تشدد میں کمی آنے کی اطلاعات ہیں، تاہم انتظامیہ نے موبائل اور انٹرنیٹ کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل ہاردک پٹیل کے حامیوں نے کئی جگہ توڑ پھوڑ کی اور کچھ گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گجرات میں دس پولیس چوکیوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ ریاست اور مرکز میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفاتر پر بھی حملے کیے گئے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ممبئی اور دہلی ہائی وے کو متعدد مقامات پر جام کر دیا گیا جس سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں سڑکوں پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان کئی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جبکہ پولیس نے صورت حال کو کنٹرول میں کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
صورت اور مہسانا میں کرفیو نافذ کر کے صورت میں فوج کو بلایا گیا جبکہ احمد آباد میں بی ایس ایف (بارڈر سکیورٹی فورس) کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
ہاردک پٹیل کے ساتھی اور تحریک کمیٹی کے ترجمان چراغ پٹیل نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے خواتین اور بچوں سمیت کئی مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے پر امن رہنے اور تحمل کی اپیل کرتے ہوئے عوام سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
واضح رہے کہ احمد آباد میں منگل کو پٹیل کمیونٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔
اس مظاہرے کی سربراہی 21 سالہ پٹیل برادری کے لیڈر ہاردک پٹیل کر رہے ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کی 20 فیصد آبادی پٹیل کمیونٹی پر مشتمل ہے اور ریاست میں ان کا بہت زیادہ معاشی اثر و رسوخ ہے۔
اس جلوس کے دوران ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے ہاردک پٹیل نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو حکومت کو سنہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جلوس سے خطاب کرتے ہوئے ہاردک پٹیل نے کہا: ’اگر آپ ہمیں ہمارا حق نہیں دوگے تو ہم اسے چھین لیں گے۔‘
ہاردک پٹیل نے کہا کہ سنہ 1985 میں ریاست سے کانگریس کا مکمل طور صفایا کر دیا گیا تھا اور اب بی جے پی کی باری ہے۔
گجرات کے وزیر صحت نتن پٹیل نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کو اس الٹی میٹم پر کچھ نہیں کہنا ہے۔
حکومت نے پٹیل کمیونٹی کے مطالبے پر بحث کے لیے ایک سات رکنی کمیٹی بنائی ہے جس کی قیادت نتن پٹیل کر رہے ہیں۔







