روسی کارروائی ایران کے لیے باعث تقویت

    • مصنف, مہرداد فرح مند
    • عہدہ, بی بی سی فارسی

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے بدھ کو ایک سخت تقریر میں امریکہ کے ساتھ مزید سیاسی مذاکرات جاری رکھنے کو رد کیا ہے۔

یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب روسی کروز میزائل ایران کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے شام میں اہداف کی جانب جا رہے ہیں۔

پاسداران انقلاب سے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ اعلیٰ نے کہا: ’امریکہ سے بات کرنے میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے لیے بہت نقصان دہ ہو گا۔‘

ہو سکتا ہے کہ یہ ایک محض اتفاق ہو کہ آیت اللہ نے یہ بات پاسداران انقلاب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے شام میں روسی مداخلت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آیت اللہ کا یہ بیان ان نوجوان ایرانیوں کے لیے دھچکہ ہے جو جوہری معاہدے کے بعد مغربی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی راہ دیکھ رہے تھے۔

تاہم روسی صدر پوتن کے تازہ قدم کے تناظر میں یہ خطاب حیران کن نہیں تھا۔ روس کا شام میں جاری جنگ میں حصہ لینا ایران کے لیے بہت بڑی کامیابی اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہے۔

پچھلے 15 ماہ میں شام میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی دمشق، بغداد اور تہران کے درمیان سفر کر رہے ہیں۔

اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ انھوں نے عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف شیعہ ملیشیا کو قائم کرنے اور حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

دولت اسلامیہ سے تکریت کا ایک سال بعد قبضہ چھڑانا پاسداران انقلاب، شیعہ ملیشیا اور عراقی فوج کی مشترکہ فوجی کارروائی کی ایک عمدہ مثال ہے۔

شام میں بھی ایران کی شامی فوج اور حزب اللہ کے لیے حمایت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

ایرانی میڈیا پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی شام اور عراق میں ہلاکت کے بعد جنازوں کی خبریں تواتر سے شائع کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ افغان ہزارہ تارکین وطن نے بی بی سی فارسی کو بتایا ہے کہ کیسے ان کو ایران نے شیعہ ملیشیا بریگیڈ میں شامل کیا اور لڑنے کے لیے شام بھیجا۔

چند رپورٹوں کے مطابق اس سال جولائی میں جنرل سلیمانی روس پہنچے۔ ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہ تو تہران اور نہ ہی ماسکو نے کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنرل سلیمانی روس میں اس منصوبہ بندی کے لیے آئے تھے جس کے تحت روس نے شام میں مداخلت کی ہے۔

اس حوالے سے ایران اور روس دونوں ہی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

روس کی شام میں مداخت کا مطلب ہے کہ ایران شام کی سرزمین پر صدر بشار الاسد کے حمایت میں واحد غیر ملکی نہیں رہا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروس کی شام میں مداخت کا مطلب ہے کہ ایران شام کی سرزمین پر صدر بشار الاسد کے حمایت میں واحد غیر ملکی نہیں رہا

لیکن ایرانی میڈیا میں اس حوالے سے کئی خبریں آئی ہیں اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ایران، عراق اور شام کا یہ اتحاد دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے ہے۔

روس کی شام میں مداخت کا مطلب ہے کہ ایران شام کی سرزمین پر صدر بشار الاسد کے حمایت کرنے والا واحد غیر ملکی نہیں رہا۔

ایرانی نقطہ نظر سے روس کی شام میں مداخلت امریکہ کو چیلنج کرنا ہے جس کے بارے میں ایرانی رہنما کئی دہائیوں سے کوشش کر رہے تھے۔

لیکن صرف ایران ہی روس کی مداخلت پر خوش نہیں ہے۔

تہران یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر احمد نقیب زادہ کا کہنا ہے کہ یہ شام میں کی یہ صورتحال اعتدال پسند سیاست دانوں کے لیے بھی موزوں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ہر اس تنظیم کو نشانہ بنایا جانا، جو بشار الاسد کے خلاف ہے، کا مطلب یہ ہوا کہ شام بحران کے تمام فریقوں کو آخر میں غیر مشروط طور پر مذاکرات کے لیے آنا ہی ہو گا تاکہ اس بحران کا سیاسی حل نکل سکے۔

’مغرب کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ نشار الاسد کو نہ ہٹایا جائے ایران کی خارجہ پالیسی کی جیت ہو گی اور یہ ایران اور مغرب کے تعلقات کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔‘

’ازلی دشمن‘

’امریکہ خامنہ ای کے بغیر ایران کا انتظار کر رہا ہے تاکہ وہ ایران کو مکمل طور پر اپنے کیمپ میں شامل کر لے‘

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR

،تصویر کا کیپشن’امریکہ خامنہ ای کے بغیر ایران کا انتظار کر رہا ہے تاکہ وہ ایران کو مکمل طور پر اپنے کیمپ میں شامل کر لے‘

احمد نقیب زادہ کے مطابق ایرانی صدر روحانی کے پالیسی ساز کو یہ امید ہے کہ روس کی شام میں مداخلت ایران اور امریکہ کو قریب لائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ روس کی پوری طرح سے حمایت نہ کرنے سے ایرانی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ امریکہ ایران کی جانب مفاہمتی پالیسی اپنائے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت ان کی ترجیح نہیں ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صدر روحانی کے قریب ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بہتر تعلقات آیت اللہ کے لیے بڑی پریشانی ہیں۔

’آیت اللہ کے لیے امریکہ ’خامنہ ای کے بغیر ایران‘ کا انتظار کر رہا ہے تاکہ وہ ایران کو مکمل طور پر اپنے کیمپ میں شامل کر لے۔‘

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای خارجہ پالیسی میں حتمی فیصلے کا اختیار رکھتے ہیں اور انھوں نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کو ازلی دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں۔

لیکن کئی لوگوں کو یہ ستم ظریفی نظر آتی ہے کہ امریکہ کی مخالفت اور بشار الاسد کو بچانے کے لیے ایران روس کا ساتھ دے رہا ہے جس کے ساتھ ایران کی ایک طویل دشمنی کی تاریخ موجود ہے۔

آئندہ چند ماہ میں ایرانی یہ دیکھیں گے کہ آیا آیت اللہ کا فیصلہ صحیح نکلا یا نہیں اور آیا پوتن کی شام میں مداخلت کے باعث ایران اور اس کے اتحادی شامی کے بحران میں مزید تو نہیں دھنس جائیں گے۔