ضلع کپواڑہ میں جھڑپیں جاری، تین فوجیوں سمیت چھ ہلاک

ترجمان کے مطابق ابتدائی حملے میں فوج کے تین اہلکار مارے گئے جبکہ لڑائی ابھی بھی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنترجمان کے مطابق ابتدائی حملے میں فوج کے تین اہلکار مارے گئے جبکہ لڑائی ابھی بھی جاری ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے کپواڑہ ضلع کی سرحدی بستی ہفت راڈہ میں پیر کی صبح سے جاری تصادم میں اب تک تین فوجیوں سمیت چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل این این جوشی کے مطابق اب تک تین فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور وسیع علاقے پر پھیلے جنگلات کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔

کپواڑہ کے ہی لولاب علاقے میں ایک اور تصادم کے دوران ایک شدت پسند کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

اس سے قبل اتوار کی رات جنوبی کشمیر کے ترال قصبے میں ایک مختصر تصادم کے بعد فوج نے جیش محمد نامی عسکریت پسند تنظیم سے وابستہ دو جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

فوجی ترجمان کے مطابق فوج کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ہفت راڈہ جنگلات میں مسلح عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس کے بعد فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں نے علاقے کا محاصرہ کیا جس کے جواب میں عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی حملے میں فوج کے تین اہلکار مارے گئے جبکہ لڑائی ابھی بھی جاری ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج نے بھارتی فضائیہ کی خدمات حاصل کی ہیں اور آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

مسلح تشدد میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں کشمیر سے متعلق اپنے اپنے روایتی موقف کا اعادہ کیا ہے۔

دریں اثنا ہندو مہاراجوں کے دور میں بنائے جانے والے گائے کشی کے قانون پر کشمیرمیں کشیدگی جاری ہے۔

اس قانون کے نفاذ سے متعلق عدالتی حکم کے بعد علیحدگی پسندوں نے اس کی خلاف ورزی کرنے کے لیے عوامی مہم چلائی ہے جبکہ 87 رکنی قانون ساز اسمبلی میں بھی حزبِ اختلاف نیشنل کانفرنس اور دوسرے آزاد اراکین اس قانون کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔