پورن کی ’وبا‘ کے خلاف لڑنے والے بھارتی

کملیش واسوانی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکملیش واسوانی کہتے ہیں کہ پورنوگرافی اخلاقی کینسر ہے
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی، دلی

بھارت کے مرکزی شہر اندور کے انٹرنیٹ کیفیز کے کئی چکر لگانے کے بعد وکیل کملیش واسوانی کو معلوم ہوا کہ شہر میں پورنوگرافی یا جنسی مواد کی ’وبا‘ پھیلی ہوئی ہے۔

43 واسوانی کہتے ہیں کہ ’میں سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں کو ڈاؤن لوڈ کرنے جاتا تو پورنوگرافی کے اشتہارات سامنے آ جاتے۔ اور جب میں ادھر ادھر دیکھتا تو میرے گرد قطاروں میں بیٹھے کھلے عام بغیر کسی خوف کے پورنوگرافی والا مواد ڈاؤن لوڈ کر رہے ہوتے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ مقامی عدالت میں گئے اور اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں مشورہ کیا۔

’انھوں نے بھی کہا کہ پورن ہمارے گرد ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ اس کے متعلق کچھ کرنا چاہیے۔‘

دسمبر 2012 میں دارالحکومت دہلی میں 23 سالہ طالبہ کے قتل نے انھیں مزید ہلا کے رکھ دیا۔

واسوانی اس روز دہلی میں تھے اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے آپ کو بھی قصور وار سمجھا کیونکہ وہ جرم کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکے۔ انھیں یقین ہے کہ حملہ کرنے والے ضرور پورن دیکھتے ہوں گے۔

’نوجوان کیوں انڈیا کو شرمندہ کر رہے ہیں؟ اس لیے کہ وہ پورن میں ڈوب رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کو پورن دیکھنے سے روکا جائے تو انڈیا کی جی ڈی پی یا مجموعی قومی پیداوار بڑھ جائے گی۔

واسوانی کی درخواستوں کے بعد حکومت نے بورن سائٹس پر عارضی پابندی لگائی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنواسوانی کی درخواستوں کے بعد حکومت نے بورن سائٹس پر عارضی پابندی لگائی تھی

’لوگ پورن دیکھتے ہیں اور خود غرض ہو جاتے ہیں۔ وہ قوم کو کچھ واپس دینا نہیں چاہتے۔‘

تین سال پہلے واسوانی نے سپریم کورٹ کو مفادِ عامہ کی درخواستیں لکھنا شروع کر دی تھیں اور انٹرنیٹ پورن کا متنازع کیس بنایا۔ انھوں نے اپنے لیپ ٹاپ میں ایک مہینے میں 20 ہزار الفاظ پر مشتمل درخواست لکھی۔

ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اعلیٰ عدالت نے اپریل 2013 کو ان کی درخواست منظور کر لی۔

ان کی درخواست بیکار نہ ثابت ہوئی۔ اگست میں حکومت نے 857 پورن سائٹس کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا جسے بعد میں واپس لینا پڑا۔

واسوانی نے دو برسوں میں تقریباً 20 کے قریب سماعتوں میں حصہ لیا ہے۔

درخواست میں پورن دکھانے والی سبھی سائٹس پر پابندی اور نئے اینٹی پورن قوانین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

واسوانی کہتے ہیں کہ پورنوگرافی ہٹلر سے زیادہ، ایڈز اور کینسر سے زیادہ اور کسی بھی وبا سے زیادہ بری ہے۔ یہ جوہری ہولوکاسٹ سے زیادہ تباہ کن ہے اور اسے روکنا چاہیے۔‘

کئی ایک درخواست کے الفاظ کو انتہائی زیادہ یا پاگل پن کہتے ہیں۔ اور انڈیا میں کئی پورنوگرافی پر پابندی کے خلاف بھی دلائل دیتے ہیں کہ اس سے شہری آزادی محدود ہو جائے گی۔

واسوانی اندور میں اپنی ٹیچر بیوی اور ایک بچے کے ساتھ دو کمروں کے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں۔

وہ اپنے آپ کو ایک عام وکیل بتاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اعلیٰ عدالت کا شکر گزار ہوں کہ اس نے میری درخواست منظور کی ہے۔ میری مفادِ عامہ کی اگلی درخواست میں کینسر کے سستے اور قابلِ برداشت علاج کا مطالبہ کیا جائے گا۔‘

یہ وہ اپنے والد کی یاد میں کر رہے جو گذشتہ برس کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

پورن کے خلاف جنگ میں کئی لوگ واسوانی کے گروہ میں شامل ہوئے ہیں۔

سریش شکلا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسریش شکلا پورن کو بلاک کرنے والا مواد بیچتے ہیں

ان میں سے ایک 40 سالہ الیکٹرانکس انجینیئر اتل گپتا ہیں جو دہلی میں رہتے ہیں۔ گپتا کئی برسوں سے سکولوں اور لوگوں کے گھروں میں جا کر فلٹر لگا کر پورن ویب سائٹس بلاک کر رہے ہیں۔ گذشتہ برس جب انھوں نے وسوانی کی درخواست کے متعلق پڑھا تو انھوں نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ سائٹس بلاک کرنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پورن ایک نشہ آور دوا کی طرح ہے اس پر پابندی کی ضرورت ہے۔‘

ان کے علاوہ انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پڑھے ہوئے 37 سالہ کیمیکل انجینیئر سریش شکلا بھی ہیں جو واراناسی میں پورن مخالف سولوشن اور فلٹرز بیچتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے واسوانی کی درخواست کی سماعت کے دوران حکومت نے سپریم کورٹ کو کہا تھا کہ اگرچہ چائلڈ پورنوگرافی پر پابندی ہونی چاہیے لیکن ’ہم ہر کسی کے بیڈروم میں موجود نہیں ہو سکتے۔‘

واسوانی کہتے ہیں کہ حکومت مسئلے کا رخ پھیرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے پرائویسی میں مداخلت کا مسئلہ بنا رہی ہے۔

’یہ پرائیویسی کے متعلق نہیں ہے، یہ انڈیا کو بچانے کے لیے ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ عدالت اعتراضات کو مسترد کر دے گی اور پورن پر پابندی لگا دے گی۔