بھارتی حکومت کو فحش سائٹوں پر سے پابندی کیوں ہٹانا پڑی

سنی لیون بھارت کی سب سے مشہور پورن سٹار ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسنی لیون بھارت کی سب سے مشہور پورن سٹار ہیں
    • مصنف, سنجوے مجومدار
    • عہدہ, بی بی سی ، دہلی

گذشتہ ہفتے بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ فحش مواد پر مبنی 857 ویب سائٹوں کو بند کر دیں۔

لیکن شاید اس وقت حکومت کو اندازہ نہیں تھا کہ اس حکم کے خلاف عوام کتنا شدید ردِ عمل ظاہر کریں گے۔

عوامی ردِ عمل کے بعد حکومت نےایک نیا حکم جاری کیا ہے جس میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صرف ایسی سائٹوں تک رسائی ناممکن بنائیں جن پر ایسا فحش مواد ہے جس میں بچوں کو جنسی حرکات (چائلڈ پورنوگرافی) کرتے ہوئے دکھایا گیا ہو۔

حکومت کے اس حالیہ فیصلے کو پہلے والے حکم سے بھی زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ حکومت نے ایسا حکم نامہ کیوں جاری کیا؟

اس پابندی کی وجہ ایک وکیل کی جانب سے بھارت کی سپریم کورٹ میں دائر وہ درخواست بنی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فحش سائٹیں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافے اور سماجی تباہی کا باعث بن رہی ہیں، لہٰذا ان پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

موصوف کا اپنی درخواست میں کہنا تھا کہ فحش سائٹوں کی وجہ سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے چائلڈ پورنوگرافی کو فروغ دینے والی ویب سائٹوں کے خلاف کارروائی میں ناکامی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس کے ردِ عمل کے طور پر حکومت نے فحش سائٹوں پر پابندی لگا دی تھی۔ تاہم حکومتی پابندی کے خلاف ملک بھر میں لوگوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

ریڈیو اور ٹی وی شوز میں فون کر کے لوگوں نے اس پابندی کے حق میں اور اس کی مخالفت میں دلائل دیے۔

بہت سے لوگوں کی نظر میں ایسے حکومتی اقدامات ملک میں جمہوریت اور ثقافتی روایات کی نفی کے مترادف ہیں

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنبہت سے لوگوں کی نظر میں ایسے حکومتی اقدامات ملک میں جمہوریت اور ثقافتی روایات کی نفی کے مترادف ہیں

سماجی رابطوں کی سائٹوں پر بھی اس کا خوب چرچا ہوا اور بہت سے لوگوں نے پابندی کو لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت قرار دیا۔

مشہور بھارتی مصنف چیتن بھگت نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں حکومت سے فحش سائٹوں پر پابندی نہ لگانے کی التجا بھی کی۔

سوشل میڈیا پر حکومتی فیصلے کا مذاق بھی اڑایا گیا اور لوگوں نے طنزاً کچھ ایسی چیزوں پر مبنی ایک فہرست بھی شائع کیں جیسے فیس بک یا سیلفیز، جن پر آگے چل کر حکومت پابندی کا اعلان کر سکتی ہے۔

حکمران جماعت بی جے پی کو اس بات پر بھی شرمندگی اٹھانی پڑی جب کچھ لوگوں نے چند سال قبل پیش آنے والے اس واقعے کی طرف توجہ دلائی جب جماعت کے کچھ ارکان پارلیمینٹ میں اپنے فون پر فحش سائٹیں دیکھتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔

پھر بھارت میں جنسیت (سیکشوئلیٹی) کی ایک طویل تاریخ ہے۔ کچھ لوگوں نے اس جانب توجہ دلائی کے بھارت وہ ملک ہے جس نے دنیا کو مباشرت کے طریقوں پر مبنی قدیم کتاب ’کاما سوترا‘ دی ہے۔

لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حکومت ملک کے مندروں اور غاروں میں موجود صدیوں پرانے جنسی مجسموں کا کیا کرے گی۔

بہت سے لوگوں کی نظر میں ایسے حکومتی اقدامات ملک میں جمہوریت اور ثقافتی روایات کی نفی کے مترادف ہیں۔

حکومت کی جانب سے فحش سائٹوں پر پابندی پر منفی ردِ عمل کے باعث اس بار حکومت یہ کہنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ وہ مواصلات کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔

تو جی فی الحال بھارت کے لوگ دوبارہ انٹرنیٹ سیکس سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔