بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے مندر میں بھگدڑ، 10 افراد ہلاک

بھارت کی شمال مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے دیوگھر میں واقع بابا بیدھ ناتھ مندر میں ہونے والی بھگدڑ میں 10 افراد ہلاک جبکہ کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ان میں دو افراد کا تعلق پڑوسی ریاست نیپال سے بتایا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل مرنے والوں کی تعداد 11 بتائی گئی تھی۔
دیوگھر کے ڈپٹی کمشنر امت کمار نے بتایا کہ یہ حادثہ پیر کی صبح ساڑھے چار بجے اس وقت ہوا جب زائرین ہندو دیوتا پر پانی چڑھانے کے لیے قطار میں لگے ہوئے تھے۔
ان کے مطابق زائرین کے درمیان آگے جانے اور پہلے پانی چڑھانے کی دوڑ میں یہ بھگدڑ ہوئی۔
خیال رہے کہ دیو گھر کے مندر میں اس موقعے پر زبردست بھیڑ رہتی ہے اور عقیدت مند بہار کے سلطان گنج سے گنگا کا ’مقدس‘ پانی لے کر سینکڑوں میل پیدل چل کر وہاں پانی چڑھانے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ہندو دیوتا شیو کے عقیدت مند ہر سال اتراکھنڈ کے مندر ہری دوار، گو مکھ اور گنگوتری کے علاوہ جھارکھنڈ کے دیو گھر جاتے ہیں۔ اس مذہبی سفر کی مقبولیت میں سنہ 1990 کی دہائی میں اضافہ ہوا۔
امت کمار نے بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم 20 دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جنھیں مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
بھارت کے مندروں میں بہت زیادہ رش بھیڑ اور خراب انتظامات کی وجہ سے عموماً اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کی ریاست آندھرا پردیش میں گذشتہ ماہ ایک مذہبی میلے کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 27 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔
جبکہ گذشتہ دنوں دیو گھر کے اسی مندر میں بھگدڑ مچی تھی جس میں 12 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہ
اسی طرح پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہندوؤں کے معروف تہوار دسہرہ کی اہم تقریب کے دوران راون کے پتلے جلانے کے بعد اچانک بھگدڑ مچ جانے سے 33 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے بھی قبل بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع داتیا میں رتن گڑھ ماں نامی مندر کے پاس بنے پل پر مچنے والی بھگدڑ میں کم از کم 111 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







