آندھرا پردیش میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 27 ہلاک

گوداوری پشکرم میلہ 144 برس کے وقفے کے بعد منعقد ہوتا ہے اور یاتریوں کا خیال ہے کہ اس موقعے پر دریا میں نہانے سے ان کے گناہ دھل جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہIPR Andhra Pradesh

،تصویر کا کیپشنگوداوری پشکرم میلہ 144 برس کے وقفے کے بعد منعقد ہوتا ہے اور یاتریوں کا خیال ہے کہ اس موقعے پر دریا میں نہانے سے ان کے گناہ دھل جاتے ہیں

بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک میلے کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 27 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام نے زخمیوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

یہ واقعہ منگل کو ریاست کے ضلع مشرقی گوداوری کے علاقے راجہ مندری میں جاری گوداوری پشكرم میلے میں اس وقت پیش آیا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے دریائے گوداوری میں اشنان کے لیے گھاٹ کے داخلی دروازے کی جانب دوڑ لگا دی۔

حادثے کے فوراً بعد مشرقی گوداوری کے ضلعی مجسٹریٹ ارون کمار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ، ’ کم سے کم 20 افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے، تقریباً اتنے ہی زخمی ہیں اور مرنے والوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔‘

آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلی این چناراجپپا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’یہ واقعہ بہت دردناک اور افسوسناك ہے۔ کمبھ میلے میں ہونے والے حادثے کے بعد ہم نے ہر ممکن انتظامات کیے تھے اس کے باوجود یہ المناک واقعہ پیش آ گیا۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، ’راجہ مندري میں جانی نقصان سے مجھے گہرا دکھ ہوا ہے۔‘

مودی نے کہا کہ انہوں نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ سے اس حادثے کے بعد کی صورتحال پر بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ، ’ریاستی حکومت حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

گوداوری پشکرم میلہ 144 برس کے وقفے کے بعد منعقد ہوتا ہے اور یاتریوں کا خیال ہے کہ اس موقع پر دریا میں نہانے سے ان کے گناہ دھل جاتے ہیں۔

بھارت میں تہواروں کے موقعے پر بھگدڑ مچنے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں اور خراب انتظامات اور حد سے زیادہ ہجوم کو عموماً ان کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔