بھارت میں مزید 4770 این جی اوز کے لائسنس منسوخ

،تصویر کا ذریعہwww.greenpeace.org.india
بھارتی حکومت نے ساڑھے چار ہزار سے زیادہ غیر سرکاری تنظیموں کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں جس کے بعد اب یہ تنظیمیں اور ادارے غیر ملکی امداد حاصل کرنے کی اہل نہیں رہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جن 4770 غیر سرکاری تنظیموں یعنی این جی اوز کے لائسنس منسوخ ہوئے ہیں ان میں کئی معروف یونیورسٹیز، سپريم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سکارٹس ہارٹ ہسپتال بھی شامل ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان سويسےوي اداروں کے رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلہ مرکزی وزارت داخلہ نے غیر ملکی مالی امداد کے ريگولیٹری قانون یعنی ایف سی آر اے کے تحت کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزارت نے ان اداروں کے کام کاج کی جانچ پڑتال میں سالانہ گوشوارے جمع نہ کروائے جانے سمیت قانون کی کئی خلاف ورزیوں کا پتہ چلایا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ نے پہلے ان تمام اداروں کو نوٹس بھیجا تھا جس کا جواب دینے کے لیے انہیں کافی وقت دیا گیا تھا۔
جن اداروں کا غیر ملکی چندہ حاصل کرنے کا لائسنس منسوخ ہوا ہے ان میں چندی گڑھ میں واقع پنجاب یونیورسٹی، گجرات کی نیشنل لا یونیورسٹی، دہلی کا گارگي کالج، وکرم سارا بھائي فاؤنڈیشن اور کبیر نامی این جی او بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFord Foundation
کبیر کو دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے شروع کیا تھا۔
اس سے قبل اپریل میں بھی بھارتی حکام نے 8975 این جی اوز کے لائسنس اس لیے منسوخ کر دیے تھے کہ انھوں نے گذشتہ تین سالوں میں اپنے سالانہ مالی گوشوارے جمع نہیں کروائے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ کارروائی گرین پیس انڈیا کی غیر ملکی فنڈنگ معطل کیے جانے اور فورڈ فاؤنڈیشن کو نگرانی کی فہرست میں رکھے جانے کے بعد کی گئی تھی۔
بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ اپنے سالانہ گوشواروں میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والی مالی امداد کی تفصیل درج کریں۔
خیال رہے کہ ملک کی حکمراں جماعت بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے گذشتہ چند ماہ سے ایف سی آر اے قانون پر سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔







