بھارت میں گرین پیس پر پابندی

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کی حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم گرین پیس کی رجسٹریشن معطل کر دی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ گرین پیس نے غیر ممالک سے فنڈ حاصل کرنے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
گرین پیس تنظیم ایک عرصے سے حکومت کے نشانے پر تھی۔
ماحولیاتی تنظیم نے بھارت میں جوہری بجلی گھروں اور تھرمل بجلی گھروں کی تعمیر کے خلاف مہم چلا رکھی تھی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ گرین پیس بھارت کے قومی اقتصادی مفاد کے لیے خطرہ ہے۔
گرین پیس حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی صلاح و مشورے کر رہی ہے۔
بھارت کی سکیورٹی ایجینسیوں نے وزارتِ داخلہ سے درخواست کی ہے کہ غیر ممالک سے فنڈ حاصل کرنے کا گرین پیس کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا جائے کیوکہ بقول ان کے یہ تنطیم بھارت کے اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
ماحولیاتی تنطیم کا رجسٹریشن ابھی چھے مہینے کے لیے معطل کیا گیا ہے اور تنظیم کو ایک نوٹس بھیجاگیا ہے جس میں اس سے پوچھا گیا ہے کہ کیوں نہ اس کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گرین پیس اور کئی دیگر تنطیموں نے بھارت میں جوہری اور تھرمل بجلی گھروں اور سٹیل کے پلانٹوں کی تعمیر کے خلاف مقامی افراد کی مدد سے زبردست مہم چلا رکھی ہے۔
مظاہروں اور مخالفت کے سبب کئی بڑے منصوبوں کی تعمیر میں تاخیر ہوئی اور بعض منصوبے شروع نہیں کیے جا سکے۔
حکومت کو اندیشہ ہے کہ ترقیاتی پروگراقوں کی مخالفت کے پیچھے بھارت کی ترقی کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے۔
حالیہ برسوں میں حکومت نے غیر سرکاری تنظیمون بالخصوص بین الاقوامی تنظیمون کی سرگرمیوں اور ان کے فنڈز کے حصول پر قدغن لگائی ہے۔
کچھ دنوں پہلے وزارتِ داخلہ نے گرین پیس کی ایک کارکن کو نئی دہلی ہوائی اڈے پر لندن کے لیے جہاز پر سوار ہوتے وقت روک دیا تھا۔
تنظیم کی کارکن برطانوی پارلیمان کی دعوت پر ایک اہم منصوبے کے خلاف مہم کے طور پر اپنا تصور پیش کرنے جا رہی تھیں۔
گرین پیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک بہتر ماحولیات کے لیے کام کرتی رہے گی۔
تنظیم کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں گیا ہے کہ حکومت اسے بدنام کرنے کی کو شش کر ہی ہے۔
گرین پیس نے بتایا ہے کہ اسے پچھلے برس تقریباً 31 کروڑ روپے چندے سے حاصل ہوئے جس میں سے تقریباً 21 اروڑ روپے بھارتی شہریوں نے دیے تھے۔







