بھارتی حکام نے گرین پیس کی کارکن کو برطانیہ جانے سے روک دیا

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بین الا قوامی ماحولیاتی تنظیم گرین پیس نے بھارت کی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ اس کی ایک کارکن کو برطانیہ جانے سے کیوں روکا گیا ہے۔
تنظیم کی ایک سینیئر کارکن پریہ پلئی کو پیر کی صبح دہلی کے ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے اس وقت روک لیا جب وہ برطانیہ کے لیے طیارے پر سوار ہونے والی تھیں۔
پریہ پلئی مدھیہ پردیش میں ایک برطانوی کمپنی کو کوئلے کی کانکنی کا ٹھیکہ دیے جانے سے مقامی قبائلیوں کی زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں دو روز بعد لندن ميں برطانوی ارکان پارلیمان کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے والی تھیں۔
پریہ کو امیگریشن حکام نے ہوائی اڈے پر یہ کہہ کر روکا کہ ان کا نام اس فہرست میں شامل ہے جنھیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
پریہ نے ایک بیان میں کہا ’کیا ملک کے غریب لوگوں کے حقوق کے لیے کام کرنا بھارت میں ایک جرم ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہGreenpeace
حکومت کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔
گرین پیس نے اپنے کارکن کو روکے جانے کو حقوق انسانی کے کارکنوں کو حکومت کے ذریعے دھمکی دیے جانےسے تعبیر کیا ہے۔
گرین پیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حکومت کا ارادہ واضح ہے۔ وہ گرین پیس اور اس کے ملازمین کو دھمکی دینا اور دبانا چاہتے ہیں لیکن اس طرح کے اقدام سے بھارت کے عوام اور بھارت کے ماحولیات کے تحفظ کے لیے ہماری مہم میں اور شدت آئے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ دوسرا موقع ہے جب بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم کے کارکن کو اس طرح روکا گیا ہے۔ چار مہینے قبل گرین پیس کے ایک برطانوی کارکن کو دہلی کے ہوائی اڈے سے واپس برطانیہ بھیج دیا گیا تھا۔
گرین پیس نے وزارت داخلہ سے وضاحت طلب کی ہے کہ پرواز کے لیے باضابطہ دستاویز ہونے کے باوجود پریہ پلئی کو ملک سے باہر نہ جانے دینے کا کیا قانونی جواز ہے؟

،تصویر کا ذریعہGreenpeace
وزارت داخلہ نے چند مہینے قبل گرین پیس اور کئی ديگر غیر سرکاری تنظمیوں کے غیر ملکی فنڈ ضبط کر لیے تھے۔ گرین پیس نے حکومت کے اس قدم کو عدالت میں چیلنچ کر رکھا ہے اور اس کی آئندہ سماعت ایک ہفتے بعد ہونے والی ہے۔
گذشتہ برس ملک کی خفییہ ایجنسی نے ایک رپورٹ میں الزام لگایا تھا کہ حقوق انسانی اور ماحولیاتی تنظیمیں احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں رخنے ڈال رہی ہیں۔







