’ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق فنڈ کی حمایت‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنسبھی ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے۔

دولت مشترکہ میں شامل ملکوں نے فرانس اور برطانیہ کی جانب سے تجویز کیے جانے والے اس فنڈ کی حمایت کی ہے جس سے ترقی پذیر ممالک میں ہورہی ماحولیاتی تبدیلی اور گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ویسٹ انڈیز کے شہر ٹرِنیڈاڈ موسمی تبدیلی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں برطانیہ اور فرانس کی جانب سے تجویز کیے گئے اس فنڈ کو آئندہ برس سے استمعال میں لایا جائے گا اور اس فنڈ کے تحت 2012 تک سالانہ 10 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونگے۔

اجلاس کے دوران دولت مشترکہ میں شامل ممالک نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایک ایسے عالمی معاہدے کا مطالبہ بھی کیا جس پر عمل کرنا قانونی طور پر لازمی ہو۔

کامن ویلتھ لیڈروں نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تجویز کیے گئے فنڈ کا خیر مقدم کیا ہے ۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے براہ راست ایک سیاسی پیغام لوگوں تک پہنچتا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'دولت مشترکہ ممالک کا یہ فیصلہ یہ پیغام دیتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے ہر چھوٹا بڑا، امیر اور غریب ملک متاثر ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایسے عزم کی ضرورت ہے جیسا ہم نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہاں دیکھا ہے'۔

وہیں برطانوی وزیر اعظم گارڈن براؤن نے کہا ہے کہ 10 بلین امریکی ڈالر فنڈ کا آدھا حصہ گرین ہاؤس گیسیز کے اخراج کو کم کرنے جبکہ آدھا حصہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خرچ کیا جائے گا۔

دولت مشترکہ ممالک کے اس اجلاس کو آئندہ ماہ کوپن ہیگن میں شروع ہونے والے اجلاس سے پہلے اہم مانا جارہا ہے۔

اس اجلاس میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اس وقت سب سے اہم عالمی چیلنج ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکڑی جنرل بان کی مون، فرانس کے صدر نکولس سرکوزی اور ڈنمارک کے وزیراعظم لارز راس موسین اس اجلاس میں شرکت کی۔

بان کی مون نے کہا کہ کوپن ہیگن میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج سے متعلق کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔