حکومت ہند نے نو ہزار این جی اوز کے لائسنس رد کیے

بین الاقوامی تنظیم گرین پیس کا معاملہ ابھی عدالت میں ہے

،تصویر کا ذریعہwww.greenpeace.org.india

،تصویر کا کیپشنبین الاقوامی تنظیم گرین پیس کا معاملہ ابھی عدالت میں ہے

انڈیا میں حکومت نے تقریباۙ نو ہزار ایسی غیر سرکاری تنظیموں کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے جنھوں نے گذشتہ تین سالوں میں اپنے سالانہ مالی گوشوارے جمع نہیں کروائے۔

وزارت داخلہ کے ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ ُکل 10343 غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کو اکتوبر، سنہ 2014 میں اپنے سالانہ گوشوارے جمع کروانے کے لیے کہا گیا تھا اور ان میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والی مالی امداد کی تفصیل درج کرنا لازمی تھی۔

لیکن صرف 229 غیر سرکاری تنظیموں نے وزارت داخلہ کے اس حکم پر ’عمل‘ کیا، جبکہ 8975 نے عمل نہیں اور اس کے نتیجے میں ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

یہ کارروائی گرین پیس انڈیا کی غیر ملکی فنڈنگ معطل کیے جانے اور فورڈ فاؤنڈیشن کو نگرانی کی فہرست میں رکھے جانے کے بعد کی گئی ہے۔

فورڈ فاؤنڈیشن کو بھی نگرانی کی فہرست میں رکھا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہFord Foundation

،تصویر کا کیپشنفورڈ فاؤنڈیشن کو بھی نگرانی کی فہرست میں رکھا گیا ہے

اس حکم کے مطابق جن غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے انھوں نے سال 2010-2009، 2011-2010 اور 12-2011 میں غیر ملکی فنڈنگ سمیت اپنے مالی گوشوارے جمع نہیں کروائے۔

بھارتی ریزرو بینک اور متعلقہ این جی اوز کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کے اس حکم کو ان تمام ڈی ایم کو بھی بھیج دیا گیا ہے جن کے علاقے میں ان کا اندراج ہے۔

خیال رہے کہ یہ تمام لائسنس غیر ملکی مالی امداد کے ريگولیٹری قانون یعنی ایف سی آر اے کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کے نتیجے میں منسوخ کیے گئے ہیں۔

ہمارے نمائندے نتن شریواستو کا کہنا ہے کہ حمکراں جماعت بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے گذشتہ چند ماہ سے ایف سی آر اے قانون پر سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔

جبکہ گرین پیس انڈیا کی غیر ملکی فنڈگ معطل کیے جانے کا معاملہ دوبارہ عدالت پہنچ چکا ہے۔