کشمیری دستكاری نہ قدردان، نہ خریدار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پوری دنیا میں اپنا الگ وجود رکھنے والی وادئ کشمیر کی دستکاری صنعت آج کل اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔
سینکڑوں سالوں سے وادی کی دستکاری کی صنعت کو یہاں کے مرد، عورت، بچے اور بوڑھے اپنی انگلیوں میں بھرے جادوئی ہنر سے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
لیکن ان کی تعداد بھی اب کم ہو رہی ہے اور اس صنعت سے وابستہ لوگ حکومت کی جانب سے کوئی خاص مدد نہ ملنے پر مایوس ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 25 سالوں سے جاری کشمیر کے حالات کی وجہ سے صنعت کو بہت نقصان ہوا ہے۔ ماجد جہانگیر کی رپورٹ
کشمیر کی دستكاري سے جڑے افراد کو اب یہ ڈر ستانے لگا ہے کہ کہیں آنے والے وقت میں یہ صنعت دم نہ توڑ جائے اور کشمیر اپنی ایک شاندار شناخت سے محروم ہو جائے۔
سری نگر کے غلام نبی شاہ گزشتہ 54 سالوں سے قالین بنانے کے کام سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے محلے میں 40 فیصد لوگ قالین بنانے کا کام کرتے تھے لیکن اب وہ اکیلے ہیں جو قالین بناتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’تیس سال پہلے میرے ساتھ میرے کارخانے میں 300 سے زیادہ کاریگر کام کرتے تھے۔ لیکن آج میں اکیلا ہوں۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ دستكاري سے وابستہ لوگوں کی طرف حکومت نے کبھی توجہ نہیں دی۔‘
غلام نبی کا کہنا ہے کہ ’اس کام میں کاریگر کی جو کمائی ہوتی ہے اس سے اس کا پیٹ نہیں بھرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سب نے اس کام کو چھوڑ دیا۔ حکومت سے قرض مانگتے ہیں تو چکر کاٹنے کے سوا اور کچھ ملتا نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شاہ کشمیر میں گزشتہ 25 سالوں کے خراب حالات کو بھی قالین کی صنعت کی خستاحالي کی وجہ مانتے ہیں۔
کشمیر کے دستکاری کی صنعت میں قالین بافی کو ’کشمیری دستكاري کا تاج کا مقام‘ حاصل ہے۔
وادئ کشمیر کے ضلع انتناگ میں اس کام کے ساتھ جڑے لوگوں کی ایک بڑی تعداد روزی روٹی کے لیے جڑی ہوئی ہے لیکن اس کام سے دو وقت کی روٹی نہ ملنے کا بھی ان کو گلہ ہے۔
انتناگ ضلع کے انچڑورا علاقے کے محمد اکبر لون گزشتہ 30 سال سے سوذني کا کام کر رہے ہیں لیکن اب وہ اس کام کو چھوڑنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے ’آج تک اس کام کو کسی طرح سے آگے بڑھایا لیکن اب اس کام کو میں نہیں کر سکتا۔ ہماری انگلیاں خوبصورت نقشے بناتي ہیں لیکن پھر بازار میں اس کی خوبصورت قیمت نہیں ملتی۔ پورا مہینہ کام کرنے کے بعد دو ہزار کی کمائی ہوتی ہے۔‘
غریب لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس صنعت سے وابستہ ہے۔ یہاں بہت ساری لڑکیاں اور عورتیں سوذني کا کام کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کشمیر کے اس صنعت کو زندہ رکھنے کی تمنا بھی ان کو اس کام کی طرف کھینچ رہا ہے لیکن اب انہیں لگتا ہے کہ اس کام سے ان کا صرف وقت خراب ہوتا ہے۔
46 سالہ پروین کہتی ہیں ’اس کام سے اب لوگ اس قدر حصہ رہے ہیں کہ اس کام کے ساتھ منسلک شخص کے ساتھ کوئی شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے۔ حکومت اس صنعت کو زندہ رکھنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔‘
کشمیر کے متی پورہ کے عبد المجید نے اس کام کو چند سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ وہ قالین بنانے کے کام کے ساتھ منسلک تھے۔
حکومت بھی اس بات سے انکار نہیں کرتی ہے کہ 25 سالوں کے خراب حالات نے صنعت کو نقصان پہنچایا لیکن ساتھ ہی صنعت کو آگے بڑھانے کے دعوے کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کشمیر کی دستكاري محکمہ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے قالین کی صنعت سے وابستہ لوگوں کے لیے قرض دینے کے منصوبے کا آغیاز کیا ہے جس کے تحت ہم ایک کاریگر کو ایک لاکھ روپے کا قرض دیتے ہیں جس کا سود پانچ سال تک حکومت خود ادا کرتی ہے اور اس سلسلے میں گزشتہ تین سال میں ہم نے 33 ہزار کاریگروں کو قرض دیا ہے۔‘
انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ ٹیکنالوجی آف کشمیر کے سینئر كوارڈینیٹر آصف گوہر خان مانتے ہیں کہ کشمیر کی نئی نسل قالین کے کام کو اپنا مستقبل نہیں بنانا چاہتی کیونکہ یہ کام اب اچھی کمائی کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔







