بھارت میں سوائن فلو سے ہلاکتوں کی تعداد 585 ہوگئی

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 485 سے بڑھ کر 585 ہو گئی ہے جبکہ اب تک اس سے متاثر افراد کی تعداد ساڑھے آٹھ ہزار بتائی جاتی ہے۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سوائن فلو سے اس سال مرنے والوں کی تعداد 585 ہو گئی ہے اور مختلف علاقوں سے مزید ہلاکتوں کی اطلاعات آ رہی ہیں۔
سوائن فلو کے خطرات کے پیش نظر ممبئی میں کئی سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ معروف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 25 فروری تک کلاسز معطل کر دی گئی ہیں۔
وائس چانسلر ضمیرالدین شاہ نے نامہ نگار سہیل حلیم کو بتایا کہ سوائن فلو سے ایک بچی کی موت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا ’یہاں سوائن فلو کے چار مریض ہیں جن کا علاج کیا جا رہا ہے اور یونیورسٹی میں طالب علموں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے کلاسز معطل کر دی گئی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAdil Hasan
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 12 فروری تک سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد 485 تھی۔
حکومت نے کہا ہے کہ سوائن فلو سے ہونے والی ہلاکتوں میں اچانک اضافے پر حکومت ’گہری نظر رکھے ہوئے اور اس کے لیے مزید کٹ فراہم کر رہی ہے۔‘
حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے انٹگریٹیڈ ڈیزیز سرویلینس پروگرام کے تحت پہلے ہی ایچ ون این ون وائرس کی جانچ کی کٹ میں اضافے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس کے خلاف لڑنے کے لیے تیار رہنے کی خاطر دوا کے مزید سٹاک کا آرڈر دیا گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ یہ بخار ایچ ون این ون وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ایڈیشنل ہیلتھ سیکریٹری ارون کمارن پانڈا نے جمعے کو اخباری نمائندوں کو بتایا تھا کہ ’یکم جنوری سے 12 فروری کے درمیان ملک بھر میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد 485 ہو گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’اس معاملے میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ریاست راجستھان ہے جہاں اب تک 150 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
گجرات میں بھی اب تک 150 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ مزید 130 کیسز سامنے آئے ہیں۔
تیلنگانہ حکومت نے سنیچر کو جو بلٹین جاری کیا تھا اس کے مطابق 3,045 نمونوں کی جانچ کی گئی جن میں سے 1,006 نمونے مثبت پائے گئے۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال بھارت میں سوائن فلو کے 937 کیسز سامنے آئے تھے جن میں 218 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







