ہندوستان : سوائن فلو کے 30 کیس

ہندوستان میں ان افراد کو سوائن فلو پوزیٹو پایا گیا ہے جو یا تو امریکہ یا برطانیہ جاکر آئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہندوستان میں ان افراد کو سوائن فلو پوزیٹو پایا گیا ہے جو یا تو امریکہ یا برطانیہ جاکر آئے ہیں۔

بھارت میں سوائن فلو کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر حکومت نے لوگوں سے بیرون ملک سفر پر نا جانے کا مشورہ دیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ہندوستان میں عالمی وبا سوائن فلو کے معاملے تیس ہوگئے ہیں۔

عالمی ادارے صحت کی جانب سے اس فلو کو عالمی وبا قرار دیا چکا ہے۔

منگل کے روز مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزاد نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا '' میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے بھائی بہن اپنے بیرون ملک سفر کو منسوخ کر دیں بلکہ وہ اپنے سفر کو دو تین مہینوں کے لیے ٹال سکتے ہیں۔ ''

وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں اس بیماری پر کنٹرول ہے اور تقریبا نصف مریض ٹھیک ہو چکے ہیں۔ '' اس مرض کی دوا کم نہیں ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس کا مکمل علاج ممکن ہے۔''

سوائن فلو کے سات نئے مریض ریاست پنجاب میں سامنے آئے ہیں۔ امریکہ سے واپس آئے جالندھر کے سات نواجوانوں کی جانچ ہوئی تھی جنہیں سوائن فلو کی شکایت تھی۔

اس سے قبل بنگلور میں ایک 29 سالہ خاتون اور ان کی تین سالہ بچي کے معائنے سے سوائن فلو کی تصدیق ہوئی تھی۔

متاثرہ خاتون اور ان کی بچی اس مہینے کی بارہ تاریخ کو امریکہ کے نیو جرسی سے بنگلور پہنچی تھیں۔

جبکہ امریکہ کے آئرلینڈ سے دلی واپس آئے سترہ سالہ ایک طالب علم بھی سوائن فلو پوزیٹو پائے گئے ہیں۔ جالندھر کے ایک پبلک سکول کا یہ طالب علم اپنے ساتھیوں کے ساتھ سکول کی طرف سے ایک تعلیمی دورے پر امریکہ گیا تھا۔

جالندھر کی اس طالب علم کو دلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

گزشتہ دنوں عالمی ادارۂ صحت نے سوائن فلو کو عالمی وبا کا درجہ دیا تھا۔

بھارت میں صحت کے وزیر غلام نبی آزاد کہہ چکے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے پوری احتیاط برتی جارہی ہے۔

بھارت میں سوائن فلو کے کیس ایسے افراد میں پائے گئے ہیں جو امریکہ یا برطانیہ سے واپس آئے ہیں۔

اپریل میں میکسیکو میں سوائن فلو کا پہلا مریض سامنے آیا تھا۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک 74 ممالک میں سوائن فلو کے 28 ہزار کیسوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔

پوری دنیا میں اس فلو سے اب تک 141 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ کسی بھی بیماری کو عالمی وبا تب قرار دیا جاتا ہے جب دنیا کے الگ الگ علاقوں میں وہ انسان سے انسان میں تیزی سے پھیلنے لگتا ہے۔

حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوائن فلو کو عالمی وبا قرار دینے سے اس بیماری سے نمٹنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

لیکن ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اس کے بعد فلو سے نمٹنے کے لیے دوائیاں بنانے میں تیزی آسکتی ہے اور حکومتیں فلو کے لحاظ سے حساس ممالک کے سفر پر پابندی عائد کرسکتی ہیں۔