بھارت میں سوائن فلو سے دس ہلاک

ہندوستان میں سوائن فلو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس وباء سے اب تک دس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
منگل کی صبح بڑودہ میں سات برس کی ایک بچی اور ممبئی میں ایک معمر خاتون اس کی شکار ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سوائن فلو کا ایک معاملہ جموں میں بھی سامنے آیا ہے۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں ممبئی سے متصل شہر پونے میں ہوئی ہیں جہاں پانچ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ شہر اس وباء سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں لوگ اپنی جانچ کے لیے قطار در قطار ہسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔
ممبئی میں بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد کے مطابق پونے میں دہشت کا ماحول ہے اور تمام سکول اور کالجز ایک ہفتہ کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سنیماگھروں کو بھی تین روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ پونے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں رہیں اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں نکلنے سے پرہیز کریں۔
وائرس سے ہلاک ہونے والوں میں سے دو افراد کا تعلق ریاست گجرات سے ہے جبکہ تین ہلاکتیں ممبئی میں ہوئی ہیں۔
جموں میں بی بی سی کی نامہ نگار بینو جوشی کے مطابق بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بائس برس کی ایک لڑکی کی جانچ کی گئی تھی جسے سوائن فلو سے پازیٹیو پایا گیا ہے۔ یہ لڑکی پونے میں زیر تعلیم تھی اور جموں چھٹیاں گزارنے آئی تھی۔
جموں میں میڈیکل کالج ہسپتال کے ایک سینیئر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’چونکہ ہمارے پاس دواؤں اور کٹس کی کمی ہے تاہم ہم علاج کے لیے ہم انتظام کر رہے۔ ہم نے مرکزی حکومت سے اس کی فراہمی کی بھی درخواست کی ہے‘۔
بینو کے مطابق ایک شخص کی رپورٹ نیگیٹیو تھی جبکہ چار مزید افراد کے خون کے نمونے کی جانچ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوائن فلو کے زیادہ تر کیسز ان علاقوں میں پائے گئے ہیں جہاں لوگوں کا باہر سے زیادہ تر آنا جاناہے۔
اطلاعات ہیں کہ حالات سے نمٹنے کے لیے وزیر صحت غلام نبی آزاد سینیئر حکام سے ایک اور میٹنگ کرنے والے ہیں۔ اس دوران حکومت نےسوائن فلو کی جانچ کے لیے بیس ہزار کٹس بیرونی ممالک سے منگوانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔







