چین: بھگدڑ سے ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم

بھگدڑ کے مقام پر ایک یادگار قائم کی گئی ہے جہاں لوگ ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھگدڑ کے مقام پر ایک یادگار قائم کی گئی ہے جہاں لوگ ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں

چین کے صدر زی جن پنگ نے شنگھائی میں نئے سال کی تقریب میں بھگدڑ سے 36 افراد کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ان تحقیقات میں بظاہر اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ عوام کی بہت بڑی تعداد کے تناسب سے وہاں مناسب تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے یا نہیں۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان ہلاکتوں کے بعد ملک میں نئے سال کی تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔

ملک کے سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر جن پنگ نے شنگھائی کے حکام سے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے بارے میں جلد از جلد تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین بھر میں حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ اس قسم کا کوئی اور حادثہ پیش نہ آئے۔

یہ بھگدڑ شنگھائی کے ہوانگ پو ڈسٹرکٹ میں واقع چین یی سکوائر میں بدھ کی شب ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اس وقت مچی تھی جب عوام کی بڑی تعداد دریا کے کنارے سنہ 2015 کے استقبال کی تقریب میں شرکت کے لیے جمع تھی۔

شنگھائی میں ہلاکتوں کے بعد چین بھر میں نئے سال کی تقریبات منسوخ کر دی گئیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشنگھائی میں ہلاکتوں کے بعد چین بھر میں نئے سال کی تقریبات منسوخ کر دی گئیں

چین کے سرکاری سی سی ٹی وی کے مطابق دریا کے کنارے کے قریب نمائشی پلیٹ فارم کی سیڑھیاں بھگدڑ کا مرکزی مقام تھیں اور لوگ سیڑھیوں پر ایک دوسرے کے اوپر گرتے گئے۔

شنگھائی کی پولیس نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے کہ بھگدڑ اس وقت شروع ہوئی جب ہجوم میں شامل افراد نے ایک عمارت سے پھینکے جانے والے نقلی کرنسی نوٹ جمع کرنے کی کوشش کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نوٹ پھینکنے کا واقعہ بھگدڑ مچنے کے بعد پیش آیا تھا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں بڑی تعداد میں طلبہ تھے اور ان میں 25 خواتین بھی شامل تھیں۔

شنگھائی کی مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور مرنے والوں میں ایک تائیوانی شہری ہے جبکہ زخمیوں میں بھی دو تائیوانی اور ایک ملائیشین شہری شامل ہے۔

شنگھائی میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ نے کہا ہے کہ تحقیقات میں یہ پتہ چلانے کی کوشش کی جائے گی کہ اس جگہ اتنے لوگ کیوں جمع ہو گئے اور آیا وہاں پولیس کی مناسب موجود تھی یا نہیں۔