دنیا بھر میں سنہ 2015 کو رنگارنگ تقاریب میں آتش بازی کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 2015 کو خوش آمدید کہنے کے لیے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ حسب روایت مختلف مقامات پر جمع ہوئے۔ اس برس بھی نئے سال کی تقریبات کا آغاز آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے ہوا۔
،تصویر کا کیپشننیوزی لینڈ کا شہر آک لینڈ دنیا کا پہلا بڑا شہر تھا جہاں نئے سال کی تقریبات کا آغاز شہر کی مشہور عمارت سکائی ٹاور پر زبردست آتشبازی اور موسیقی سے ہوا۔
،تصویر کا کیپشنسڈنی میں ہونے والی ابتدائی آتشبازی سے لوگوں کو اندازہ ہو گیا کہ جب یہ آتشبازی اپنے عروج پر پہنچے گی تو شائقین کا کیا نظارہ دیکھنے کو ملے گا۔ اس برس سڈنی میں شائقین کو دس ہزار پٹاخے، 25 ہزار روشنی کے دمدار ستارے اور ایک لاکھ دوسری اقسام کی آتشبازی دیکھنے کو ملی۔
،تصویر کا کیپشنجاپان میں نئے سال کو خوش آمدید کہنے سے پہلے گزرے سال کو الوداع کرنے کی ایک تقریب ٹوکیو کے مشہور میجی مزار پر ہوئی۔ آنے والے دنوں میں امید ہے کہ 30 لاکھ سے زیادہ لوگ اس مزار پر سنہ 2015 میں اچھی صحت اور خوشحالی کی دعائیں مانگنے آئیں گے۔
،تصویر کا کیپشنچین کی شہر شین یانگ میں ایک زرعی یونیورسٹی کے طلبا نے سنہ 2015 کو اپنے ہی انداز میں خوش آمدید کہا۔
،تصویر کا کیپشنسنگاپور میں نئے سال کے لیے خیرمقدمی کلمات لکھنے کے لیے پانی کا سہارا لیا گیا
،تصویر کا کیپشنملائیشیا میں پیٹروناس ٹاورز ہر برس کی طرح اس مرتبہ بھی مرکزی تقریب کا مقام تھے۔
،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں یہ بڑی گھنٹی بجا کر نئے سال کی آمد کا اعلان کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنچین میں بھی نئے سال کو خوش آمدید کہنے لیے لوگ لاکھوں کی تعداد میں نکلے۔
،تصویر کا کیپشندبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ نئے سال کے آغاز پر آتش بازی اور روشنیوں سے بقعۂ نور بن گئی۔
،تصویر کا کیپشنلبنان کے شہر بیروت میں بھی نئے سال کے آغاز پر سجاوٹ اور آتش بازی ہوئی۔
،تصویر کا کیپشنروس میں ماسکو کا ریڈ سکوائر نئے سال کی تقریب کا مرکز بنا جس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔
،تصویر کا کیپشنجرمن شہر برلن میں نئے سال کا گھنٹہ بجتے ہیں آتش بازی کا خوبصورت مظاہرہ کیا گیا۔