شراب پلائیں اورگھر بھی چھوڑ کر آئیں؟

ممبئی میں اس سے قبل ڈانس بار کے متعلق ہدایات جاری کی گئی تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنممبئی میں اس سے قبل ڈانس بار کے متعلق ہدایات جاری کی گئی تھیں

بھارت کے شہر ممبئی میں جہاں ایک جانب لاکھوں لوگ نئے سال کے جشن میں ڈوبے ہوں گے وہیں دوسری جانب شہر کے ہوٹل اور بار مالکان کے لیے یہ جشن درد سر بن سکتا ہے۔

در اصل ممبئی ٹریفک پولیس نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس کے مطابق اگر گاہک زیادہ شراب پی لیتا ہے اور اپنی گاڑی خود چلانے کی حالت میں نہیں ہے، تو اس گاہک کو گھر پہنچانے کی ذمہ داری ہوٹل یا بار کی ہوگی۔

نوٹس کے مطابق ہوٹل ایسے گاہکوں کو ڈرائیور مہیا کرائے یا اپنی گاڑی میں انھیں سلامتی کے ساتھ ان کے گھر تک چھوڑے۔

اس میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ اگر کسی شراب پینے والے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے، تو اس کی ذمہ داری بھی ہوٹل اور بار کے مالکان پر آئے گی۔

واضح رہے کہ اس طرح کا نوٹس ممبئی پولیس نے پہلی بار جاری کیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہوٹل اور بار مالکان میں خاصا غصہ پایا جاتا ہے۔

ڈانس بار میں رقص کرنے والیوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تھا
،تصویر کا کیپشنڈانس بار میں رقص کرنے والیوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تھا

ممبئی کے جوائنٹ پولیس کمشنر (ٹریفک) ڈاکٹر بھوشن کمار اپادھیائے کے مطابق یہ نوٹس لوگوں کی حفاظت کو ذہن میں رکھتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر بھوشن کمار کہتے ہیں: ’نئے سال کا جشن منانے کے بعد شراب کے نشے میں گھر جاتے ہوئے کئی لوگ حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر ہوٹل اور بار مالک تھوڑی سی احتیاط برتیں تو اس طرح کے حادثات کو روکا جا سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر اپادھیائے کا کہنا ہے کہ ’اس نوٹس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر گاہک کو اس کے گھر تک چھوڑا جائے، بلکہ یہ حکم صرف ان صارفین کے لیے ہے جو شراب پی کر بدمست ہو جاتے ہیں اور خود سے گھر جانے کی حالت میں نہیں ہوتے۔

ممبئی میں نئے سال کا جشن بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے
،تصویر کا کیپشنممبئی میں نئے سال کا جشن بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے

شہر کے ہوٹل اور بار مالکان نے اس نوٹس کی مخالفت کی ہے۔

ممبئی میں بار مالكان کی تنظیم کے صدر پون اگروال کے مطابق ’یہ نہایت ہی ناقابل عمل نوٹس ہے۔‘

اگروال کہتے ہیں: ’نشے میں بے خبر گاہکوں کو گھر تک پہنچانے کے لیے ہمارے پاس وسائل کافی نہیں ہیں اور نہ ہی ہم ایسا کوئی انتظام کر سکتے ہیں۔ تاہم ہمیں یقین ہے کہ نئے سال کے جشن کے بعد رونما ہونے والے حادثات میں کمی ہوگی لیکن اس کی ذمہ داری گاہکوں پر بھی ہونی چاہیے۔‘