شرابیوں کی نمازِ جنازہ نہیں
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
شرابیوں کی نمازِ جنازہ

،تصویر کا ذریعہ
کچھ لوگوں کے خیال میں شراب پینا تو ویسے بھی اچھی بات نہیں لیکن مشرقی ریاست بہار میں اب مرنے کے بعد بھی آپ کی خیر نہیں! وہاں کچھ علما نے اعلان کیا ہے کہ وہ شرابیوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھائیں گے۔
یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ صرف ان لوگوں کی نماز نہیں پڑھائی جائے گی جو نشہ کرتے تھے، یا پھر ان کی جن کا انتقال نشے میں ہوا۔
لیکن پھر بھی احتیاط برتیں، یا تو پینا چھوڑ دیں یا بہار جانا۔
مسلمانوں کو کیوں چھوڑیں؟
لوگ کہتے ہیں کہ الیکشن قریب ہوں تو سیاستدانوں کی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ لیکن سنتا کون ہے؟
تنازع پھر مسلمانوں پر ہے۔ سشیل کمار شندے ہندوستان کے وزیر داخلہ ہیں۔ انھوں نے ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کیے جانے والے مسلمانوں کے کیسوں پر نظرثانی کریں کہ کہیں کسی بے قصور کو تو گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور انھیں پکڑتے وقت ذرا احتیاط برتیں۔
الیکشن سے ذرا پہلے اس طرح کی بات کہی جائے تو لوگ طرح طرح کے مطلب نکالیں گے ہی۔ اور نریندر مودی کہاں ایسا موقع ہاتھ سے جانے دیتے ہیں، وہ ایک رحم دل اور انصاف پسند رہنما ہیں اور ان کے دل میں قوم کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا جواب ہے کہ مسلمانوں ہی کو کیوں چھوڑ دیں؟ مجرم کی کوئی ذات اور کوئی مذہب نہیں ہوتا اور قانون کا سب پر یکساں اطلاق ہونا چاہیے۔
اب اس میں کیا غلط ہے؟ لیکن لوگ ہیں کہ مانتے کہاں ہیں۔ مودی کی ہر بات میں کوئی چھپا ہوا مطلب، کوئی بدنیتی ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مودی کی بات کے دو مطلب نکالے جاسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ گرفتاری کے وقت ہندو مسلمان میں فرق نہ کیا جائے، جو بالکل جائز بات ہے، اور دوسرا یہ کہ انھیں چھوڑتے وقت بھی کوئی امتیاز نہیں برتا جانا چاہیے۔ اگر پہلے پر عمل کیا جائے تو دوسرے کی ضرورت ہی کہاں پڑے گی کیونکہ اس پورے تنازعے میں ان سے بس ایک چھوٹی سی بات نظر انداز ہوگئی ہے۔۔۔ ذکر بے قصور لوگوں کا تھا جنھیں پولیس فرضی کیسوں میں پھنسا دیتی ہے۔ لیکن یہ ایک تکنیکی باریکی ہے، الیکشن کے سیزن میں اس کی پروا کون کرتا ہے۔
بہرحال، بے گناہ نہ بھی چھوٹیں، ایسا نہیں کہ اس کا صرف نقصان ہی ہوگا۔ ذرا سوچیے، غلط یا صحیح، ہندوستان میں دہشت گردی کے الزام میں پکڑے جانے والے زیادہ تر لوگ مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ اگر انھیں چھوڑنا ہی تھا تو پکڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ پولیس کی محنت رائیگاں جائے گی، اس کا حوصلہ پست ہوگا۔ جب پکڑ ہی لیا ہے تو کچھ دن جیل میں رہنے دیجیے۔ مقدمے نہیں چلیں گے تو عدالتیں کیا خالی بیٹھی رہیں گی؟
سب جانتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں میں بہت بے روزگاری ہے، تعلیم کی کمی بھی ہے اور پسماندگی بھی، جیلوں میں رہیں گے تو ان کا مستقبل سنور سکتا ہے۔ وہاں حکومت مفت تعلیم، مفت روزگار اور مفت رہائش کا انتظام کرتی ہی ہے۔ گھر جا کر بھی کیا کریں گے؟ جیل میں رہیں گے تو کچھ نیا ہنر سیکھیں گے، زندگی میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا ہوگا، اور اس وقت تک عدالتوں میں بے گناہی بھی ثابت ہوچکی ہوگی۔ اور حکومت اس الزام سے بھی بچ جائے گی کہ ایک فرقے کو خوش کرنے کے لیے اس نے بے گناہ نوجوانوں کو رہا کر دیا ہے۔
اب آپ یہ مطالبہ مت شروع کر دیجیے گا کہ جیل میں رہنے کے اتنے ہی فائدے ہیں تو انصاف پسند حکمرانوں کو یہ سہولت بلا لحاظ رنگ و نسل، ذات و مذہب سب کو مہیا کرانی چاہیے۔







