بھارت: کیرالہ میں شراب پر پابندی کا منصوبہ

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں حکام نے ریاست میں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی لگانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
ابتدائی طور پر ریاست میں 700 شراب خانوں اور چند دکانوں کو بند کیا جائے گا اور شراب کی خرید و فروخت کی ممانعت والے ایام میں اضافہ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ اُمّن چانڈی کا کہنا ہے کہ حکومت کا دس سال میں شراب پر مکمل پابندی لگانے منصوبہ ہے۔
بھارت میں سب سے زیادہ شراب کیرالہ میں پی جاتی ہے جہاں اوسطاً فی کس آٹھ لیٹر شراب سالانہ پی جاتی ہے۔
ڈاکٹروں اور دیگر افراد کا کہنا ہے کہ شراب نوشی کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے ریاست میں طلاق کی شرح اور سڑکوں پر حادثوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال اور بحالی کے مراکز مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں اور مریضوں کو شراب نوشی سے منسلک شکایات ہیں۔
اُمًن چانڈی کا کہنا ہے کہ کانگریس کی حکومت چند مجوزہ اقدامات کے ذریعے ’شراب سے پاک‘ کر دے گی۔
- 730 شراب خانوں کو بند کر دیا جائے گا
- شراب کی ممانعت والے دونوں میں ہر ماہ اتوار کو بھی شامل کر دیا جائے گا
- آئندہ سال سے صرف پرتعیش ہوٹلوں کو شراب بیچنے کی اجازت ہوگی
- شراب کی 338 ریاستی دکانوں میں سے دس فی صد کو ہر سال بند کیا جائے گا
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت شراب پر مکمل پابندی مرحلہ وار انداز میں لگانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اس عرصے میں مکمل پابندی کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں تاجر برادری کو خدشہ ہے کہ اس پابندی کی وجہ سے ریاست میں سیاحت کو نقصان پہنچے گا۔ بھارت میں سب سے زیادہ سیاح کیرالہ آتے ہیں۔
ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ حکومت شراب نوشی سے آنے والی آمدنی کا کیا متبادل پیش کرے گی جو کہ اس کی سالانہ آمدن کا 20 فیصد ہے۔







