واشنگٹن میں پھولوں کی بہار

چیری بلاسم

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسو برس قبل یہ پودے جاپان سے لائے گئے تھے
    • مصنف, برجیش اُپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

واشنگٹن میں برف پگھل چکی ہے۔ بجلی کے تاروں اور درختوں میں پھنسے بے رنگ ہوتے پتنگوں کی طرح سرد ہوائیں کبھی کبھی اپنی موجودگی کا احساس ضرور کرا دیتی ہیں، لیکن بہار نے جس جوش کے ساتھ یہاں اپنے آنے کا اعلان کیا ہے اس کے سامنے وہ بے بس نظر آتی ہیں۔

جاپان سے سو برس قبل لائےگئے چیری بلاسم کے درختوں نے واشنگٹن کو جیسے گلابی چادر میں لپیٹ لیا ہے۔ یہاں چیری بلاسم فیسٹول منایا جا رہا ہے۔ شہر بھر میں چیری بلاسم کی پارٹیاں اپنے شباب پر ہیں اور دنیا بھر کے سیاح اس گلابی واشنگٹن کے دیدار کے لیے یہاں پہنچے ہوئے ہیں۔

کہتے ہیں کہ پھولوں سے زیادہ پیارا تحفہ شاید کچھ اور نہیں ہوتا۔ لیکن ذرا سوچیے جس ملک نے ہزاروں چیری بلاسم کے درخت امریکہ بھیجے، اسی ملک نے 1941 کے دسمبر میں پرل ہاربر پر بم برسائے اور امریکہ کو جنگ عظیم میں گھسیٹ لیا۔

امریکہ میں مقیم ایک لاکھ سے زیادہ جاپانی نژاد لوگوں کو صدر روز ویلٹ کے فرمان پر ان کے مکانوں سے نکال کر کیمپوں میں قید کر دیا گیا، حالانکہ ان میں سے دو تہائی امریکی شہری بن چکے تھے۔

کہتے ہیں کچھ امریکیوں نے اپنا غصّہ چیری بلاسم پر بھی اتارا اور کچھ درخت بھی کاٹ دیے گئے تھے لیکن باقی بچے درختوں میں پھول پھر بھی کھلے۔ ان کی سیاست ہمیشہ سے ہی غیرجانب دار رہی ہے۔

چار برس بعد امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا۔ واشنگٹن میں دو سال تک چیری بلاسم فیسٹول نہیں منایا گیا لیکن یہ بے زبان درخت پھر بھی اپنی ضد پر اڑے رہے، پھول کھلاتے رہے، رنگ بكھیرتے رہے۔

ایک خاص بات اور ہوئی۔ جنگ کے بعد جب جاپان کے ہی کئی شہروں میں ان درختوں کا نام و نشان مٹ گیا تو پھر امریکہ سے کچھ شاخیں جاپان بھیجی گئیں جو اب پھر سے وہاں پنپ رہی ہیں اور درخت پھل پھول رہے ہیں۔

جاپانی نسلیں 1945 کے ان زخموں اور تلخیوں کو بھول گئی ہوں گی، ایسا تو نہیں ہے، لیکن اتنے خوفناك امریکی حملے کے باوجود آج جاپان اور امریکہ سب سے قریبی اتحادی ملکوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کہیں نہ کہیں چیری بلاسم کی گلابی رنگت نے باہمی زخموں پر مرہم لگانے اور سہلانے کا کام ضرور کیا ہوگا۔

چیری بلاسم

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچیری بلاسم کے درختوں نے پورے واشنگٹن کو گلابی کر دیا ہے

دو اور ملک بھی ہیں جنھوں نے 1947 سے ہی زخم پال رکھے ہیں، چار جنگیں لڑ چکے ہیں اور آج بھی ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کو تیار رہتے ہیں۔

سرحد پر اب بھی ہر روز پاؤں پٹک پٹک کر زمین پھاڑ پریڈ ہوتی ہے، عوام کو اپنے طریقے سے جنگی نعرے سنائے جاتے ہیں۔ وہاں دونوں ہی طرف کے بہت سے شہریوں نے موم بتیاں روشن کرکے امن تلاش کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن ناکام رہے ہیں۔

ایک بار پھولوں کو آزمانے میں کیا برائی ہے؟ چیری بلاسم نہ سہی، گل مہر کے ہی درخت وہاں لگا دیے جائیں تو ان کی سرخی اور چھاؤں شاید کچھ کمال کر دکھائے۔

یہ صرف ایک خیال ہے۔ انتخابي موسم میں ناگوار گزرے تو بھول چوک معاف۔