،تصویر کا کیپشنلندن سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ ڈینیئل براؤن دس سال سے کمپیوٹر پروگرامنگ کے ذریعے پھول بنا رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ میں نے انہیں کمپیوٹر پروگراموں کی وضاحت کرنے کے لیے بنانا شروع کیا تھا اور میں نے دیکھا کے لوگوں کہ یہ بہت پسند آئے۔‘
،تصویر کا کیپشنہر فن پارہ ریاضی کے دو فارمولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ پہلا پھول کی شکل و صورت بناتا ہے اور دوسرے فارمولے سے رنگوں کا تعین کیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنان کے یہ پھول ایک ڈیجیٹل انیمیشن کے طور پر سکرین پر نظر آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنڈینیئل براؤن ایسے کمپیوٹر پروگرامز کا استعمال کر رہے ہیں جن میں ویڈیو گیمز بھی بنائی جاتی ہیں تاکہ ’ٹائم لیپس‘ کی تکنیک کا استعمال کیا جا سکے اور دیکھنے والا ان پھولوں کو سکرین پر کِھلتا ہوا دیکھ سکے۔
،تصویر کا کیپشنڈینیئل براؤن ایک تشہیری کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ ان کی پھولوں کی سیریز لندن ڈیزائن میوزیم اور وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں پیش کی جا چکی ہے۔
،تصویر کا کیپشنڈینیئل براؤن ایک تشہیری کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ ان کی پھولوں کی سیریز لندن ڈیزائن میوزیم اور وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں پیش کی جا چکی ہے۔
،تصویر کا کیپشنوہ کہتے ہیں کہ ڈیجیٹل پھول بنانے میں مہارت حاصل کرنا ان کا مقصد نہیں تھا اور شروع میں انہوں نے صرف اس سافٹ ویئر کو اچھی طرح سیکھنے کے لیے اس پر پھول بنانے شروع کیے تھے۔
،تصویر کا کیپشنایپل کے ڈیزائن چیف جانی ایو ان کے کام کی تعریف میں کہتے ہیں کہ ’یہ تکنیکی جدت ہے اور جذباتی طور پر بھی پرکشش ہیں۔‘
(تمام تصاویر: ڈینیئل براؤن )