’حامد کرزئی آگ سے کھیل رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP PhotoVirginia Mayo Pool
نیٹو کے سیکریٹری جنرل آنیرس فو راسموسن نے کہا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہ کر کے ’آگ سے کھیل رہے ہیں۔‘
بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے صدر کرزئی کے حالیہ بیانات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں اتنی قربانیاں دینے کے بعد نیٹو ممالک افغان حکومت سے تشکر کی امید رکھتے ہیں۔
ایک برطانوی اخبار نے حال ہی میں افعان صدر کے حوالے سے ایک بیان شائع کیا گیا تھا جس کے مطابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ ہلمند کے صوبے میں اگر کوئی برطانوی فوجی کبھی قدم نہ رکھتا تو وہاں حالات بہتر ہوتے۔
آنیرس فو راسموسن کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ سکیورٹی کے معاہدے پر نئے افغان صدر دستخط کر دیں گے۔
افغانستان میں پانچ اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ اس الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والا امیدوار موجودہ صدر حامد کرزئی کی جگہ لے گا جو قانوناً تیسری مرتبہ اس عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے۔
یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اس سال کے اختتام تک افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو ملک چھوڑنا ہے اور انھیں افغانستان میں قومی سکیورٹی فورسز کی استعداد کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ صدر حامد کرزئی امریکہ کے ساتھ باہمی سکیورٹی کے معاہدے پر دستخط کرنے پر رضامند نہیں ہیں۔ افغانستان میں ہونے والے مختلف حملوں میں امریکہ کے ملوث ہونے کے بارے میں صدر کے شکوک کے منظر عام پر آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ معاہدے پر دستخط کرنے سے کیوں گریزاں ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کو طالبان سے امن مذاکرات کے آغاز سے مشروط کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ وہ معاہدے کو اسی صورت میں قبول کریں گے جب امریکہ افعانستان میں قیامِ امن کے لیے طالبان سے بات چیت کے آغاز میں مدد دے۔
حامد کرزئی نے کہا کہ ’افغانستان دباؤ میں کسی چیز کو نہ تو قبول کرے گا اور نہ اس پر دستخط کرے گا۔‘
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہماری بنیادی شرط قیامِ امن کی کوششوں کا عملی آغاز ہے اور اگر امریکہ کو دوطرفہ حفاظتی معاہدے کے لیے ہماری شرائط منظور نہیں تو وہ جب چاہیں جا سکتے ہیں اور افغانستان غیر ملکیوں کے بغیر بھی چلتا رہے گا۔‘
افغان لویا جرگے نے گذشتہ برس امریکہ سے معاہدے کی منظوری دی دی تھی تاہم صدر کرزئی نے تاحال اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے جس کے تحت رواں برس افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد بھی امریکی فوج افغانستان میں رہ سکے گی۔







