کرزئی کی نظر میں امریکہ کا کردار مشکوک

،تصویر کا ذریعہ
افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو شک ہے کہ ان کے ملک میں ہونے والے بظاہر مزاحمت کاروں کے حملوں کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ صدر کرزئی کئی مرتبہ امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عام افغان شہریوں کی اموات پر شدید ناراضگی کا برملا اظہار کر چکے ہیں، تاہم واشنگٹن پوسٹ کے مطابق افغان صدارتی محل کے سینیئر افسران کا کہنا ہے کہ صدر در پردہ اس سے کہیں زیادہ ناراض ہیں اور انھیں شک ہے کہ امریکہ اُن کی حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
صدارتی محل کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ صدر نے افغانستان میں ہونے والے درجنوں حملوں کی ایک فہرست تیار کر رکھی ہے جن کے بارے میں میں ان کا خیال ہے ان میں امریکہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ اس فہرست میں کابل کے ایک لبنانی ریستوران پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے، جو افغانستان میں غیر ملکیوں پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔
اس حملے میں تین امریکیوں سمیت 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور تقریباً پوری دنیا نے اس کا ذمے دار طالبان کو ٹھہرایا تھا۔
مذکورہ افسر نے، جو خود صدر حامد کرزئی کے خیالات سے متفق ہیں، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ افغان حکومت کے پاس ریستوران پر ہونے والے حملے کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں، لیکن صدر کرزئی کو یقین ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی میں بھی امریکہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ان کی حکومت کو کمزور کرنا ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ جن امریکی حکام کو افغان صدر کے ان دعوؤں کے بارے میں بتایا گیا، ان کو یقین نہیں آیا کہ جس ملک کو انھوں نے کئی سوارب ڈالر دیے، اسی کی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ ہم اسے کمزور کر رہے ہیں۔
کابل میں امریکہ کے سفیر جیمز بی کننگہم نے پیر کو کہا کہ یہ الزام محض سازشی سوچوں پر مبنی ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ سفیر کا خیال ہے کہ اس قسم کے الزامات کا مقصد امریکی پالیسی کے توازن کو خراب کرنا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ صدر حامد کرزئی امریکہ کے ساتھ باہمی سکیورٹی کے معاہدے پر دستخط کرنے پر رضامند نہیں ہیں۔ افغانستان میں ہونے والے مختلف حملوں میں امریکہ کے ملوث ہونے کے بارے میں صدر کے شکوک کے منظر عام پر آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ معاہدے پر دستخط کرنے سے کیوں گریزاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر کرزئی کے شکوک کی وجوہات کے بارے میں امریکی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ صدر کرزئی اپنے سیاسی ورثے میں یہ بات چھوڑنا چاہتے ہیں کہ انھوں نے ایک عالمی طاقت سے ٹکر لی تھی، جبکہ دیگر کی رائے یہ ہے کہ صدر کرزئی خود کو مزاحمت کاروں کے قریب کرنا چاہتے ہیں تا کہ مستقبل میں اُن کے ساتھ صدر کے تعلقات بہتر ہو جائیں۔







