معاہدے پر دستخط امن مذاکرات کے آغاز سے مشروط: کرزئی

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کو طالبان سے امن مذاکرات کے آغاز سے مشروط کر دیا ہے۔
انھوں نے اس بات کا اعلان سنیچر کو کابل میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ معاہدے کو اسی صورت میں قبول کریں گے جب امریکہ افعانستان میں قیامِ امن کے لیے طالبان سے بات چیت کے آغاز میں مدد دے۔
حامد کرزئی نے کہا کہ ’افغانستان دباؤ میں کسی چیز کو نہ تو قبول کرے گا اور نہ اس پر دستخط کرے گا۔‘
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہماری بنیادی شرط قیامِ امن کی کوششوں کا عملی آغاز ہے اور اگر امریکہ کو دوطرفہ حفاظتی معاہدے کے لیے ہماری شرائط منظور نہیں تو وہ جب چاہیں جا سکتے ہیں اور افغانستان غیر ملکیوں کے بغیر بھی چلتا رہے گا۔‘
افغان لویا جرگے سے گذشتہ برس امریکہ سے معاہدے کی منظوری دی دی تھی تاہم صدر کرزئی نے تاحال اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں جس کے تحت رواں برس افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد بھی امریکی فوج افغانستان میں رہ سکے گی۔
اے ایف پی کے مطابق افغان صدر نے یہ بھی کہا کہ ’امن عمل کے آغاز کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی غیر ملکی قوت جنگ جاری رہنے سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔‘
خیال رہے کہ حال ہی میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ طالبان کو یقین ہے کہ وہ افغانستان میں غیر ملکی افواج پر فتح حاصل کر لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں طالبان ہر جگہ نظر آتے ہیں اور وہ پہلے ہی ملک کے زیادہ تر حصے کو کنٹرول کر رہے ہیں۔
طالبان نے گذشتہ برس جون میں امن مذاکرات کے حوالے سے قطر میں ایک دفتر کھولا تھا تاہم افغان صدر حامد کرزئی نے اسے کسی حکومت کے سفارتخانے کی شکل دیے جانے پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
خیال رہے کہ ایساف افواج نے سنہ 2013 میں پورے افغانستان کی سکیورٹی افعان فوج کے حوالے کر دی تھی تاہم اب بھی وہاں 97 ہزار غیر ملکی فوجی موجود ہیں جن میں سے 68 ہزار فوجی امریکی ہیں۔
یہ فوجی 2014 کے آخر تک افغانستان سے چلے جائیں گے اور امریکہ چاہتا ہے کہ اس کے دس ہزار فوجی افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مدد کے لیے 2014 کے بعد بھی افغانستان میں رہیں۔
امریکہ اور افعانستان کے دو طرفہ معاہدے کے تحت امریکی فوجی افغان سرزمین پر افغان حکام سے مشورہ کیے بغیر کوئی کارروائی نہیں کریں گی تاہم امریکہ افغانستان کا کسی بیرونی حملے کی صورت میں دفاع نہیں کرے گا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ وہ پاکستان کے ساتھ فوجی کارروائیوں میں الجھے۔







