طالبان اپنے کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ قابض ہوسکتےہیں: برطانوی فوجی سربراہ

افغانستان میں اب بھی 5200 برطانوی افواج موجود ہیں
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں اب بھی 5200 برطانوی افواج موجود ہیں

برطانیہ کی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان اپنے کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ قابض ہو سکتے ہیں۔

برطانوی فوج کے جنرل سٹاف کے سربراہ سر پیٹر وال نے کہا کہ آئندہ سال کے اختتام تک افغانستان سے برطانوی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ اگر بعض علاقے دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جائیں تو یہ ’بالکل بری خبر ہوگی۔‘

انھوں نے ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا کہ طالبان ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے افواج نے شدید نقصان اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ’سخت مہم‘ کے بعد القاعدہ کے نیٹ ورک کو تتر بتر کیاگیا تاکہ وہ افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں سے شدت پسندی کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔

لیکن پیٹر وال نے کہا کہ’ہم جو علاقے چھوڑیں گے، طالبان اس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کریں گے۔موسیٰ قلعہ جسے اہم علاقے کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے شدید لڑائی لڑی اور بہت نقصان اٹھایا۔اگر طالبان اس جیسے علاقوں پر پھر سے قابض ہو جاتے ہیں تو یہ ایک بری خبر ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فوج کا سر فخر سے اونچا ہے۔ لوگوں کو ان کے کارناموں پر فخر ہے۔‘

پیٹر وال نے کہا کہ مزید ’اعتدال پسند‘ طالبان اراکین کو سیاسی عمل میں شامل کیا جا سکتا تھا۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ ہفتے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ برطانوی افواج نے افغانستان میں اپنا مشن مکمل کر دیا ہے۔

نیٹو کے سربراہ اندرس فوغ راس موسن نے بھی کہا ہے کہ بین الاقوامی افواج جس کے مقصد کے لیے افغانستان آئیں تھیں انھوں نے وہ مقصد’شدت پسندوں کو افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے سے روک‘ کر حاصل کر لیا ہے۔

افغانستان میں برطانوی افواج کا مشن سنہ 2001 میں شروع ہوا جس میں اب تک 447 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔افغانستان میں اب بھی 5200 برطانوی افواج موجود ہیں۔

جعمے کو بھی نیٹو نے کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں تین فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔