کابل: غیر ملکی امدادی کارکنوں کی کالونی پر شدت پسندوں کا حملہ

طالبان نے کہا ہے کہ انھوں نے کابل کے مشرق میں واقع ایک بین الاقوامی احاطے کے باہر ایک کاروان پر خود کش حملہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق کار میں سوار ایک عسکریت پسند نے کاروان کے قریب اس وقت دھماکہ کیا جب کاروان گرین ویلج نامی رہائشی کالونی سے باہر نکل رہا تھا۔
قریب سے گزرتی ایک کار میں سوار ایک ہی خاندان کے چھ افراد اس حملے میں ہلاک ہو گئے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب افغان حکومت طالبان کے ساتھ صلح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خود کش کار بم دھماکہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک چھوٹی کار نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو گرین ویلج سے نکل رہی تھیں۔‘
حکام کے مطابق یہ کالونی جو ایک قلعہ نما کمپاؤنڈ ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مختلف عالمی امدادی اداروں کے کارکن اور عالمی سفارت کار رہتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کا آغاز ایک کار بم دھماکے سے ہوا جو کہ کمپاؤنڈ کے دروازے پر کیا گیا جسے گرین ویلج کہا جاتا ہے۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کہتے ہیں کہ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ماں اور ان کے چار بچے موقعے ہی پر ہلاک ہو گئے جب کہ باپ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔
گرین ویلج کے باہر دھماکے کے بعد کچھ دیر تک گولیوں کی آوازیں آتی رہیں۔ گرین ویلج کے گرد بم پروف دیواریں ہیں اور درجنوں محافظ اس کی سکیورٹی پر مامور ہیں۔
ہمارے نمائندے نے مزید بتایا ہے کہ محافظ کئی منٹ تک افراتفری کے عالم میں گولیاں چلاتے رہے، حالانکہ وہاں دوسرے حملہ آور موجود نہیں تھے۔
افغانستان میں موجود بین الاقوامی فوج ایساف نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ایساف کا کوئی رکن ہلاک نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ اسی کالونی پر مئی 2012 میں بھی ایک خود کش کار بم حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔







