ڈھاکہ:کپڑوں کی فیکٹری میں آتشزدگی،نو ہلاک

اپریل میں ایک عمارت منہدم ہونے سے گیارہ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے
،تصویر کا کیپشناپریل میں ایک عمارت منہدم ہونے سے گیارہ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے نزدیک واقع کپڑا تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو غازی پور میں واقع اس فیکٹری میں آتشزدگی سے کم از کم پچاس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ابھی تک آگ لگنے کی وجوہات کا اندازہ نہیں ہو سکا ہے تاہم بغص اطلاعات کے مطابق آسود کمپوزٹ ملز میں آگ کپڑا تیار کرنے والے حصے میں لگی۔

فیکٹری سے زیادہ تر مزدور جا چکے تھے لیکن رات کے وقت کام کر نے والے مزدور وہاں خاصی تعداد میں موجود تھے۔

مقامی اخبار ڈیلی سٹار نے پولیس افسر عامر حسین کے حوالے سے بتایا ہے کہ متاثرہ عمارت سے نو لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

بنگلہ دیش میں ملبوسات تیار کرنے والی فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات ناقص ہونے کی وجہ سے حادثات پیش آتے رہتے ہیں
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش میں ملبوسات تیار کرنے والی فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات ناقص ہونے کی وجہ سے حادثات پیش آتے رہتے ہیں

بنگلہ دیش میں حفاظتی معیار سے غفلت کے نتیجے میں عمارتوں کے منہدم ہونے یا ان میں آتشزدگی کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ رواں سال اپریل میں ایک عمارت کے گرنے سے گیارہ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس عمارت میں ملبوسات تیار کرنے والی دو فیکٹریاں موجود تھیں۔

اس سے پہلے گزشتہ نومبر میں ایک اور فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے میں ایک سو بارہ کارکن مارے گئے تھے۔

بنگلہ دیش کی برآمدت میں ملبوسات کا حصہ ایک تہائی ہے اور یہاں فیکٹریوں میں حادثات کے بعد حفاظتی معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔

جولائی میں ستر کے قریب بین الاقوامی کمپنیوں نے اتفاق کیا تھا کہ ایسی فیکٹریوں کا معائنہ کیا جائے گا جہاں سے وہ اپنی مصنوعات تیار کرائیں گی۔