افسردگی میں ہوتا مسلسل اضافہ: آخر لوگ زندگی سے اتنے ناخوش کیوں ہیں؟

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

کیا آپ اپنی زندگی سے خوش ہیں؟ یہ محض ایک فلسفیانہ سوال ہوتا اگر حقیقی زندگی میں سچ نہ ہوتا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد زیادہ تر لوگ کسی نہ کسی وجہ سے ناخوش نظر آتے ہیں۔

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے میں نے چند عام لوگوں بات چیت کی۔ لیکن ان میں سے اکثر نے یہ سوال کرتے ہوئے جواب دیا کہ ’مجھے ایک مناسب وجہ بتائیں کہ جس کے وجہ سے کوئی انسان کہے کہ وہ مکمل طور پر خوش ہے؟‘

مریم گریس ناخوش تھیں کیونکہ وہ ہمیشہ ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بہتر کارکردگی دکھانے کے دباؤ سے پریشان ہیں۔ انوپم تیواری ناخوش تھے کیونکہ ان کے مطابق لوگ دوہری زندگی گزار رہے ہیں۔ درخشاں اس بات سے پریشان تھیں کہ آج کے انڈیا میں ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کے کیا معنی ہیں اور انو شرما کورونا کے وسیع اثرات کو ہی بھلا نہیں پاتیں۔

ان افراد میں سے اکثر نے ناخوش ہونے یا افسردگی کہ وجہ ذاتی طور پر زندگی میں تنہا ہونے کو بتایا اور پھر سوشل میڈیا، جو کہ ان میں سے ہر کسی کے مطابق سطحی زندگی کو بڑھاوا دیتا ہے جو کہ دوسروں کے لیے افسردگی اور احساس کمتری کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین اور مطالعات اس بات پر متفق ہیں کہ ناخوش ہونے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پولنگ ایجسنی گیلپ کے سروے کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی تازہ ترین ’ہیپینیس رپورٹ‘ کے مطابق خوش افراد میں انڈیا 136ویں نمبر پر، پاکستان 121ویں نمبر پر جبکہ بنگلہ دیش 94ویں نمبر پر ہے۔

اور اگر آپ خوشی سے متعلق انڈیا کے اعداد و شمار کا موازنہ اس کے پڑوسی ممالک جیسے نیپال، پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے کریں تو انڈیا مسلسل نیچے جانے والے ممالک میں شامل ہے۔ درحقیقت، انڈیا کچھ سال پہلے کے مقابلے حالیہ برسوں میں زیادہ افسردہ نظر آ رہا ہے۔ مثلا 2020 میں یہ 139 نمبر پر تھا، 2019 میں 140ویں، 2018 میں 133 ویں، 2017 میں 122ویں، 2016 میں 118ویں، اور 2015 میں 117ویں نمبر پر تھا۔

دہلی مین مقیم ماہر نفسیات راکھی آنند کا کہنا ہے کہ شہروں میں رہنے والے لوگوں میں عام طور پر اداسی کا اظہار عام ہے۔ اس کے متعدد وجوہات ہیں، مثلا خواہشات اور توقعات کا پورا نہ ہونا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے علاوہ ’بیرروزگاری میں کافی اضافہ ہوا ہے، لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے اور دل کی بات کرنے کے لیے بھی وقت نہیں ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’آپسی مقابلے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور یہ ساری چیزیں مل کر ایک فرد کی مزید ناخوش کرتی ہیں۔‘

تاہم گیلپ کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی ناخوشی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گیلپ کے سربراہ جون کلفٹن نے ’دی اکانومسٹ‘ میں لکھا ہے کہ اس میں گذشتہ دہائی سے اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’منفی جذبات مثلا تناؤ، اداسی، غصہ، پریشانی اور جسمانی درد پچھلے سال ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئے۔‘

ناخوش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یوکرین کی جنگ، مہنگائی اور کورونا وبائی مرض جیسے مسائل نے اس میں ضرور اضافہ کیا ہے ’لیکن ناخوشی میں عالمی سطح پر اضافہ ان زیادہ تر مسائل کے سامنے انے سے بہت پہلے شروع ہوا تھا۔ درحقیقت، ایک دہائی سے ناخوشی بڑھ رہی ہے۔‘

اس رپورٹ کے مطابق فن لینڈ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ گذشتہ پانچ برسوں سے خوش اقوام کی فہرست میں اول نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں امریکہ 16ویں اور برطانیہ امریکہ سے ایک نمبر پیچھے یعنی 15ویں پوزیشن پر ہے۔

رپورٹ کے شریک مصنف جیفری سیکس نے کہا ہے کہ ’گذشتہ برسوں میں عالمی خوشی کی رپورٹ کا سبق یہ ہے کہ سماجی تعاون، ایک دوسرے کے لیے فراخدلی اور حکومت کی ایمانداری عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اہم ہیں۔‘

حالانکہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ناخوشی یا افسردگی میں اضافہ ترقی پذیر دنیا کا مسئلہ ہے لیکن یہ ہر معیار پر بہتر کارکردگی دکھانے والے ممالک میں بھی اتنا ہی عام ہے۔ تاہم ان ملکوں کی ناخوشی کی بنیادی وجہ غریب ممالک سے مختلف ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یورپی ممالک کی بہتر کارکردگی کی متعدد اور بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلا ان کی بہتر جی ڈی پی، اعلی روزگار کی شرح، سماج میں کم انتشار اور حکومت کے عوام کے لیے فلاحی اقدامات۔

افسردگی کو کم کرنے کا کوئی فوری حل نہیں ہے لیکن بہت سے ممالک اس حقیقت کو بہتر طریقے سے سمجھ رہے ہیں کہ ان کی آبادی کی خوشی ملک کی فلاح و بہبود کے لیے بہت اہم ہے۔

خوش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مثلاً بھوٹان میں برسوں سے ’گروس نیشنل ہیپینیس‘ کا ایک انڈیکس ہے جو کہ آبادی کی اجتماعی خوشی اور فلاح و بہبود کی پیمائش کرتا ہے۔ گذشتہ سال متحدہ عرب امارات نے ’معاشرتی بھلائی اور معاشرے میں اطمینان پیدا کرنے‘ کے لیے باقاعدہ ایک وزیر مملکت کا عہدہ تخلیق کیا۔ وینزویلا میں بھی خوشی کی وزارت ہے۔

بلکہ اقوام متحدہ نے تو 2011 میں خوشی کو ’بنیادی انسانی مقصد‘ قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ جنوری 2020 میں برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے ان حالات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ایک علیحدہ ’منسٹر فار لون لینیس (اکیلا پن)‘ کا اعلان کیا۔ اکیلے پن سے برطانیہ کی آبادی کی ایک بڑی تعداد متاثر ہے۔

انڈیا میں بھی لوگوں میں اس احساس کا اضافہ ہو رہا ہے کہ انڈیا میں بھی ناخوش افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس کے حل کے لیے ادارہ جاتی سطح پر بھی قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس کا احساس اس بات سے ہوتا ہے کہ انڈیا کے سابق صدر پرنب مکھرجی نے ایک بار کہا تھا کہ ’خوشی جی ڈی پی سے زیادہ اہم ہے۔‘

ادارہ جاتی سطح پر ریاست مدھیہ پردیش حکومت نے خوشی کی ایک وزارت شروع کی ہے۔ دہلی حکومت نے اپنے سکولوں میں خوش رہنے سے متعلق کلاسیں شروع کی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی کالجوں میں بھی خوش رہنے کی تعلیم باقاعدگی سے شروع ہو گئی ہے۔

ستیندر ریکھی ایک کمپیوٹر کمپنی کے بانی ہیں جنھوں نے کم از کم ایک درجن انڈین تعلیمی اداروں میں خوشی کے مراکز متعارف کرائے ہیں اور جن کا آغاز انھوں نے اپنے کالج آئی آئی ٹی کھڑگپور سے کیا، جو کہ انڈیا کا ایک ممتاز انجینئرنگ کالج ہے۔

ستیندر

،تصویر کا ذریعہ Satinder Rekhi

،تصویر کا کیپشنستیندر ریکھی نے کم از کم ایک درجن انڈین تعلیمی اداروں میں خوشی کے مراکز متعارف کرائے ہیں

وہ کہتے ہیں ’ہم چاہتے ہیں کی سائنس آف ہیپینیس پڑھائی جائے۔ آرٹ آف ہیپینیس کی تو بات چل ہی رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے یوگا کر لو، مراقبہ کر لو۔ یہ بہت اچھا ہے لیکن سائنس آف ہیپینیس جس پر آج کل کالجوں میں ریسرچ ہو رہی ہے، وہ پڑھانے کی بہت ضرورت ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ایک ’مائنڈ لیب‘ کی بھی شروعات کی ہے جو یہ تحقیق کرے گا کی کیسے زندگی میں خوشی لائی جائے اور تناؤ کم کیا جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی کی رفتار کافی تیز ہو گئی ہے جو کہ ناخوش رہنے کی ایک اہم وجہ بن گئی ہے۔ ’ہم سبھی فاسٹ لین میں آ گئے ہیں۔ فاسٹ لین میں تناؤ بہت ہے۔ فاسٹ لین میں جو بندے ہمیں ملتے ہیں وہ بھی تیز ہیں۔ یہ ساری چیزیں مل کر ناخوشی میں اضافہ کر رہی ہیں۔‘

وہ پُرامید ہیں کہ ان کی کوشش رنگ لائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں آگاہی آ رہی ہے کہ ان کے پاس خوش ہونے کا اختیار ہے۔ ’ایسا نہیں ہے کہ سب کچھ اعمال کا ہی نتیجہ ہے یا آپ کا مقدر ہے۔ میں اپنی پسند اور اختیار کے استعمال سے اپنی زندگی میں خوشی لا سکتا ہوں اور اسے بامعنی بنا سکتا ہوں۔‘