'۔۔۔خوش آتی ہیں روٹیاں'

روٹی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہندوستان میں روٹیوں کا چلن مغل کی آمد کے بعد عام ہوا
    • مصنف, سلمیٰ حسین
    • عہدہ, ماہر طباخ، دہلی

ہندوستان کی عام غذا روٹی ہے اور شاید اسی لیے مشہور کہاوت ہے: 'دال روٹی کھاؤ، پربھو کے گن گاؤ'

سالن ہو یا قورمہ، ترکاری ہو یا دال، ہمارا پیٹ روٹی ہی سے بھرتا ہے۔ امیر غریب ہرایک کا گزر روٹی پر ہے۔ روٹی اکثر پورے کھانے کی نمائندگی کرتی ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ 'آؤ روٹی کھالو' یا 'میں روٹی کھا کر آیا ہوں' تو اس سے مراد کھانا ہوتا ہے۔

روٹی عموما گندم کے آٹے کی ہوتی ہے جسے چپاتی یا پھلکے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دوسری اقسام کی روٹیاں، نفاست، امارت نیز شوق و تنوع کی پیداوار ہیں۔ ان کے بنانے کا طریقہ ذرا مختلف ہو جاتا ہے۔ کچھ روٹیاں بیل کر بنائي جاتی ہیں تو کچھ ہاتھ پر تھپک کر۔ روٹی چپاتی ہو یا پھلکا، ان کے بنانے میں ہنرمندی کی ضرورت ہے۔

اچھی روٹی کے لیے آٹا گوندھنا بھی اچھے باورچی کا کام ہے ورنہ اچھی روٹی نہ ہونے سے سارے کھانے کا مزہ جاتا رہتا ہے۔

پراٹھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپراٹھے میں گھی کی آمیزش ہوتی ہے

روٹی کی دوسری قسم پراٹھا ہے۔ چونکہ پراٹھا گھی سے تر ہوتا ہے اس لیے سردیوں کے موسم میں اس کی بہار ہے۔

مختلف قسم کے ساگ، مولی، گوبھی اور دال سے بھرے پراٹھے دہی کے ساتھ بڑے مزے سے کھائے جاتے ہیں۔ پرانی دلی میں تو ایک پوری گلی پراٹھوں کے نام سے منسوب ہے اور پراٹھے والی گلی کہلاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے لکھنؤ کا شیرمال بازار۔

چپاتی، پراٹھے، پھلکا اور پوری بنانے میں خمیر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گرم گرم پوری جب کڑھائي سے نکلتی ہے تو بے ساختہ ہاتھ آکے بڑھ جاتا ہے اور ساتھ ہی اگر کٹوری میں دہی سے بنی آلو کی ترکاری مل جائے تو دن بھر کھانے کی فرصت ہو جاتی ہے۔

پوریاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپوڑیاں اب عام طور پر تیل میں تیار کی جاتی ہیں

عام طور پر پوری اور سبزی کا میل ناشتے کے لیے موزوں ہے۔ اسی طرح جیسے شمالی ہند بالخصوص لکھنؤ کے مضافات میں ٹکیہ (خستہ روٹی) اور آلو کی سبزی۔

پوری بنانے میں بھی ہنرمندی کی ضرورت ہے ورنہ وہ پچک کر رہ جاتی ہے۔ پوری رنگ برنگي ہو تو کھانے کا لطف بڑھ جاتا ہے۔

ہرے ساگ میں گندھے آٹے سے ہری پوری حاصل ہوتی ہے تو چقندر میں گندھے آٹے سے لال اور طبق میں سجی سہ رنگی پوری دسترخوان کی زینت کو دوبالا کرتی ہے۔

بعض روٹیاں ایسی ہیں جن میں خمیر کی آمیزش ضروری ہے۔

جیسے نان اور کلچہ، نان اصلا مغلوں کی میراث ہے۔ روٹیوں کا سفر ہندوستان میں مغلوں کی آمد سے شروع ہوا اور ہندوستانی نانبائیوں کے ہاتھوں آگے بڑھتا گیا۔ آج ہندوستان میں انواع و اقسام کی بے شمار روٹیاں بازار میں دستیاب ہیں، جن کا بنانا گھر میں ذرا مشکل ہے۔

نان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننان کا گھر میں تیار کیا جانا مشکل امر ہے

بابر کے ساتھ کلچہ ہم تک پہنچا جو آج تک بڑے چاؤ سے کھایا جاتا ہے۔ پھر نان تزک، باریک اور نفیس روٹی زعفران سے مہکتی، شیرمال، باقر خانی بھی شاہی باورچی خانے میں بنائی اور خاصے میں پیش کی جاتی تھی۔

ان کے ساتھ سیدھے سادے نان نے بھی وقت کے ساتھ بہت ترقی کی ہے اور آج مختلف قسم کے نان ہمیں میسر ہیں۔ لیکن نان کا پکانا گھروں میں مشکل ہے کیونکہ یہ تندور کی چیز ہے اور تندور میں پکائی جاتی ہے۔

یہودی روٹی، ہندوستان میں یہودیوں کی دین ہے جو اب داستان پارینہ ہی کہی جا سکتی ہے۔

روٹیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنروٹیاں بھی مختلف رنگوں میں پکائی جا سکتی ہیں

عہد مغلیہ کے مرقے الوان نعمت اور نسخۂ شاہجہانی میں نان بنانے کی مختلف تراکیب کا ذکر ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ نان کی قسمیں پلاؤ کی تراکیب سے کم نہیں۔ مغل شیرینی پسند تھے۔ اس لیے بیشتر نان میٹھے ہوا کرتے تھے۔ میٹھا اور نمکین مزا ایران کے کھانوں کا اصل مزا ہے۔

اس زمانے میں روٹی میں خشک میوں اور زعفران کا استعمال عام تھا جو رفتہ رفتہ کم ہوتا چلا گیا اور آج تو بالکل مفقود ہے۔ وقت کے ساتھ روٹی بنانے کا فن بھی زوال پزیر ہوا۔

لکھنؤ گو اپنی عظمت رفتہ کھو چکا ہے لیکن سے بہتر شیرمال کہیں دستیاب نہیں۔ بہترین شیرمال پکانے والے باورچی حسین علی اب دنیا سے اٹھ چکے ہیں لیکن شیرمال بازار میں انھیں کے نام سے دکان پوچھی اور شیرمال خریدی جاتی ہے۔

اسی طرح دلی کے بازاروں میں الٹے توے پر پکائی جانے والی رومالی روٹی جب نانبائی ہوا میں اچھال کر توے پر ڈالتا ہے تو نانبائی کی ہنر مندی سامنے ہوتی ہے۔

روٹی ہر انسان کی ضرورت اور زندگی کا سفر اس کے بغیر ناممکن نظر آتا ہے۔ اپنے زمانے کے معروف شاعر نظیر اکبر آبادی کی ایک نظم روٹیاں مختلف قسم کی روٹیوں کے ذکر سے پر ہے۔

کلچہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکلچہ کے لیے بھی خمیر کی ضرورت ہوتی ہے

جب آدمي کے پيٹ ميں جاتي ہيں روٹياں

پھولے نہيں بدن ميں سماتي ہيں روٹياں

آنکھيں پري رخوں سے لڑاتي ہيں روٹياں

سينہ اپر بھي ہاتھ جلاتي ہيں روٹياں

جتنے مزے ہيں سب يہ دکھاتي ہيں روٹياں

جس جائے پہ يہ ہانڈي، توا اور تنور ہے

خالق کي قدرتوں کا اسي جا ظہور ہے

چولہے کے آگے آنچ جو جلتي حضور ہے

جتنے ہيں نور سب ميں يہي خاص نور ہے

اس نور کے سبب نظر آتي ہيں روٹياں

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔