آسام میں مدارس مسمار کرنے کا معاملہ: ’ہمارا مدرسہ منہدم کر دیا گیا، پتا نہیں اب میں کہاں پڑھوں گا‘

آسام

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA/BBC

،تصویر کا کیپشنمرکز المعارف قرآنی مدرسہ بونگائی گاؤں کے طالب علم
    • مصنف, دلیپ کمار شرما
    • عہدہ, آسام کے کبائتری گاؤں سے بی بی سی ہندی کے لیے

’اس رات جب پولیس مدرسے میں آئی تو میں پڑھ رہا تھا۔ پھر تھوڑی دیر بعد ہمیں مدرسہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا۔ میں پولیس کو دیکھ کر ڈر گیا۔ میرا گھر اسی گاؤں میں ہے، اس لیے میں رات کو اپنی کتابیں اور کپڑے لے کر گھر چلا گیا۔ کچھ طلبا کا گھر دور ہے، اس لیے انھیں رات رہنے کے لیے گاؤں کی ایک مسجد میں لے جایا گیا۔ اگلے دن ہمارا مدرسہ منہدم کر دیا گیا، پتہ نہیں اب میں کہاں پڑھوں گا۔ یہ مدرسے میں میرا پہلا سال تھا۔ میں یہاں پڑھ کر بڑا عالم بننا چاہتا تھا۔‘

آسام کے بونگائی ضلع کے کبائتری گاؤں کے ایک مدرسے میں پڑھنے والے 16 سالہ یحییٰ احمد نے یہ باتیں بڑی مایوسی کے ساتھ بتائیں۔

مرکز المعارف کوریانہ مدرسہ 1985 میں کبائتری گاؤں میں بنایا گیا تھا۔ 31 اگست کو ضلع انتظامیہ نے اسے منہدم کر دیا تھا۔

اس سے قبل 26 اگست کو آسام پولیس نے اس مدرسے میں پڑھانے والے حفیظ الرحمان مفتی کو شدت پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

اب تک کی تفتیش میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 38 سالہ حفیظ الرحمن القاعدہ انڈین برصغیر اور انصار اللہ بنگلہ ٹیم جیسی انتہا پسند تنظیموں کے لیے کام کر رہے تھے۔

قومی شاہراہ نمبر 17 پر بونگائی گاؤں شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر کیبائتری کا ایک چھوٹا سا بازار نظر آتا ہے۔ ساتھ ہی سڑک کے بائیں جانب سیمنٹ کا ایک بلند داخلی دروازہ ہے جس پر مرکز المعارف قرآنی مدرسہ لکھا ہوا ہے۔

دائیں جانب چند میٹر آگے ایک بڑی پکی مسجد بنی ہوئی ہے اور تقریباً چار بیگھہ زمین پر مشتمل اس احاطے کے ایک طرف ملبے کا ڈھیر ہے جو اس مدرسے کا ملبہ ہے۔ قریب ہی کھڑے کچھ لوگ مدرسے کے ٹوٹنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

آسام

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA/BBC

،تصویر کا کیپشنمرکز المعارف قرآنی مدرسہ کا داخلی درواز

نزدیکی گاؤں ایشورجھاری سے آنے والے 30 سالہ صدیق علی کہتے ہیں کہ ’میں 2015 میں مہاراشٹر سے مدرسہ پڑھ کر واپس آیا ہوں۔ میں نے خبروں میں سنا کہ اس مدرسے کوتوڑ دیا گیا مجھے بہت افسوس ہوا۔

’اسی لیے یہاں دیکھنے آیا ہوں۔ ہم جیسے لوگ مدرسوں میں استاد بننے کے لیے پڑھائی کرتے ہیں تاکہ وہ یہاں بچوں کو پڑھا سکیں۔‘

پینتیس سو کی آبادی والے گاؤں کا واحد مدرسہ

تقریباً 3500 کی آبادی والے اس گاؤں میں 90 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں اور یہ علاقے کا واحد کمیونٹی مدرسہ تھا۔ جہاں گذشتہ سال 224 طلبا نے داخلہ لیا تھا۔ اینٹوں اور سیمنٹ سے بنی دو منزلہ مدرسے کی اس عمارت میں کل 12 کمرے تھے۔

بونگائی گاؤں کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے 30 اگست کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں مرکز المعارف قرآنی مدرسہ کی دو منزلہ عمارت، سمیت اسی زمین پر اساتذہ کے لیے بنائے گئے مکان کو رہنے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا۔

لہٰذا ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے انہدام کا حکم جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عمارت کی تعمیر آسام پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے قوائد اور آئی ایس کے اصولوں کے خلاف ہے۔

آسام

،تصویر کا ذریعہDilip Kumar Sharma/BBC

،تصویر کا کیپشن’عوام کے چندوں سے بنائے گئے مدرسے کو تباہ کرنا کہاں کا انصاف ہے‘

تعمیر سے پہلے تمام ہدایات پر عمل کریں

ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے مرکز المعارف قرآنی مدرسہ کی انتظامی کمیٹی کے صدر مشرف حسین نے بی بی سی سے کہا ’ضلعی انتظامیہ نے مدرسے کی عمارت کو یہ کہتے ہوئے گرا دیا ہے کہ یہ آسام پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے قوانین کے خلاف ہے لیکن آپ ملبہ دیکھیں، اس کی تعمیر میں کتنی موٹی سلاخیں اور مضبوط مٹیریل استعمال کیا گیا۔

’اس عمارت کی تعمیر سے پہلے ہم نے یہاں کی مٹی کی جانچ کرائی تھی اور تمام حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پنچایت کے نان آبجیکشن سرٹیفکیٹ کی منظوری بھی حاصل کی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی شخص کا کسی جہادی تنظیم سے کوئی تعلق پایا جائے تو حکومت کو اس کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے لیکن عوام کے چندوں سے بنائے گئے مدرسے کو تباہ کرنا کہاں کا انصاف ہے، یہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پولیس رات کے وقت مدرسہ خالی کرنے آئی تھی۔ اس دوران مدرسہ میں 163 طلبا موجود تھے۔ پولیس نے ہمیں نوٹس دیتے ہوئے صرف تین گھنٹے کا وقت دیا تھا۔

’یہاں بہت سے چھوٹے بچے تھے جو پڑھائی کے لیے دور دراز کے دیہات سے یہاں آئے تھے۔ ان کو اتنی رات میں گھر لانا کیسے ممکن تھا لیکن ہم نے ذمہ داری لی اور کچھ بچوں کے والدین کو بلایا اور کچھ بچوں کو قریبی مسجد میں رکھا۔ وہ سب اگلے دن گھر لے گئے۔ بچے اس ماحول سے بہت ڈرے ہوئے تھے۔‘

مشرف حسین

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA/BBC

،تصویر کا کیپشنمرکز المعارف قرآنی مدرسہ کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین مشرف حسین

جہادی کو پھانسی دی جائے لیکن مدرسہ توڑنا مناسب نہیں

اگر پولیس نے آپ کے مدرسے میں پڑھانے والے ایک استاد کو مبینہ طور پر جہادی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا ہے تو ایسے میں مدرسہ میں اساتذہ کی تقرری کے حوالے سے آپ کا معیار کیا تھا؟

اس سوال کے جواب میں مشرف حسین کا کہنا ہے کہ ’جس استاد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ اسی گاؤں کے رہائشی ہیں، وہ اس مدرسے میں گذشتہ آٹھ سال سے بچوں کو پڑھا رہے تھے۔

’ہمارے مدرسے میں 17 اساتذہ ہیں اور ہم ان کے کام پر نظر رکھتے ہیں تاکہ وہ ہمارے بچوں کو اچھی طرح سے تعلیم دے سکیں لیکن ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ ایک شخص مدرسے کے باہر کیا کر رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہم کسی ایسے شخص کی حمایت نہیں کرتے جو جہادی کام میں ملوث ہو۔ جب پولیس پہلی بار انھیں پوچھ گچھ کے لیے لے گئی تو ہم نے انھیں مدرسے سے نکال دیا۔

’ہم چاہتے ہیں کہ اگر وہ شخص کسی جہادی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے تو حکومت اسے سزائے موت دے لیکن اس کے لیے مدرسہ توڑنا مناسب نہیں تھا۔ ہم نے حکومت سے انتظامیہ تک بہت سی درخواستیں کی تھیں لیکن ہم اس مدرسے کو نہ بچا سکے۔‘

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کا کہنا ہے کہ ’یہاں کے مدرسوں سے شدت پسند سرگرمیاں چلتی ہیں۔ ایسے میں مدرسہ میں بچوں کو دی جانے والی تعلیم پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں؟‘

اس سوال کے جواب میں مشرف حسین کا کہنا ہے کہ ’ہمارے مدرسے میں عربی تعلیم کے ساتھ ساتھ آسام بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت آٹھویں جماعت تک بچوں کو عام کتابیں بھی پڑھائی جاتی تھیں، اس کے لیے ہم نے سائنس، انگریزی جیسے مضامین کے اساتذہ کی خدمات بھی حاصل کیں۔‘

مدرسہ

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA/BBC

،تصویر کا کیپشنضلع بارپیٹہ کے مدرسہ جنت الاظہر حافظیہ

مدارس میں قرآن حدیث کی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکولی تعلیم بھی

اس مدرسے میں پچھلے چار سالوں سے پڑھانے والے استاد نورالامین بچوں کو دی جانے والی تعلیم پر کہتے ہیں کہ ’ہمارے مدرسے میں بچوں کو سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن، حدیث اور اسلام کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

’اسلام کے بارے میں افواہیں پھیلائی جاتی ہیں لیکن یہ امن کا مذہب ہے اور یہی ہماری تعلیم کی بنیاد ہے۔‘

اس مدرسے سے اپنی تعلیم مکمل کرنے والے مفیز الدین شیخ کا کہنا ہے کہ 'اگر گاؤں کے لوگوں کو حفظ الرحمن مفتی کی جہادی سرگرمیوں کے بارے میں علم ہوتا تو وہ انھیں پولیس کے حوالے کر دیتے کیونکہ آج اس مدرسے کو اس وجہ سے مسمار کیا گیا۔

’اس واقعے سے ہمارے گاؤں کی بدنامی ہوئی ہے، مدرسے کے انہدام سے ایسا لگا جیسے کسی نے ہمارا سر قلم کر دیا ہو۔ گاؤں کے لوگوں نے اپنے کھیتوں کا دھان بیچ کر اس مدرسے کی تعمیر کے لیے پیسے دیے تھے۔

’چندہ اکٹھا کیا گیا اور اس مدرسے کی دو منزلہ عمارت بنوائی گئی تھی لیکن چند گھنٹوں میں سب کچھ تباہ ہو گیا، گاؤں کے لوگ مدرسے کے انہدام سے بہت غمگین ہیں، میں نے خود اس مدرسے میں پڑھا ہے۔ جس دن اسے گرایا گیا میں نے کھانا نہیں کھایا اگر آسام کے وزیر اعلیٰ ہم پر کچھ رحم کرتے تو یہ مدرسہ بچ جاتا۔‘

مدرسہ مینجمنٹ کمیٹی کی ایک اطلاع کے مطابق اس مدرسہ کی تعمیر میں تقریباً تین کروڑ روپے خرچ ہوئے اور یہ رقم اس گاؤں کے لوگوں سے چندہ کے طور پر ملی۔ یہ کمیونٹی مدرسہ صرف گاؤں کے لوگوں کی مدد سے چل رہا تھا۔

علاقے کے لوگ خوفزدہ ہیں

منور حسین، جو اس علاقے میں برسوں سے صحافت کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ’یہاں کے لوگ اس رات مدرسے کو خالی کرنے کے لیے گاؤں میں آنے والی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی تعداد سے بہت خوفزدہ تھے۔

’جبکہ ضلعی انتظامیہ نے مدرسے کو توڑ دیا۔ ڈزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کی وجہ بتائی گئی ہے۔ انتظامیہ کے حکم میں اس مدرسہ کو توڑنے کی وجہ جہادی سرگرمیاں نہیں بتائی گئی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مدرسہ کو منہدم ہونے کے بعد میں نے گاؤں کے بہت سے لوگ سے بات کی یہاں کا کوئی شخص کسی جہادی تنظیم کی حمایت نہیں کرتا بلکہ گاؤں کے لوگ جہادی سرگرمیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پولیس کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں ہر کوئی مدرسے کے ٹوٹنے سے غمزدہ ہے۔‘

منور حسین مزید کہتے ہیں کہ ’دراصل قریبی ضلع گوالپارہ میں جہادی سرگرمیوں میں ملوث دو افراد کی گرفتاری کے بعد اس مدرسہ میں کام کرنے والے ایک استاد حفیظ الرحمن کا ان سے تعلق کا پتہ لگا تھا۔

’گوالپارہ میں پولیس یہاں مدرسہ میں حفیظ الرحمن کی تفتیش کے لیے آئی تھی، اگر پولیس کو مدرسے کے اندر سے کوئی ثبوت یا قابل اعتراض دستاویزات مل جاتے تو شاید مدرسہ کی انتظامی کمیٹی کے مزید افراد کو گرفتار کیا جاتا۔‘

پولیس کو ان کی دکان سے انصار اللہ بنگلہ ٹیم کا ایک لیف لیٹ اور القائدہ کا ایک علامتی نشان یا لوگو ملنے کی اطلاع ہے۔

ایس پی سوپنل ڈیکا

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA/BBC

،تصویر کا کیپشنبونگائی گاؤں ضلع کے ایس پی سوپنل ڈیکا

مدرسے سے القاعدہ کی دستاویزات ملنے کا پولیس کا دعویٰ

کبائتری گاؤں میں واقع مرکز المعارف کوریانہ مدرسے کے انہدام سے متعلق پوری کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بونگائی گاؤں ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سوپنل ڈیکا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آسام میں گذشتہ کئی دنوں میں بونگائی گاؤں، بارپیٹا اور گوالپارہ اضلاع میں انصار اللہ بنگلہ ٹیم اور القاعدہ برصغیر پاک و ہند کا ماڈیول پکڑا گیا ہے۔

’ایسا ہی ایک ماڈیول جو گوالپارہ پولیس نے پکڑا تھا، اس میں مرکز المعارف کوریانہ مدرسہ کا ایک اسسٹنٹ ٹیچر بھی شامل تھا۔ جب گوالپارہ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا تو یہاں تلاشی کے بعد بہت سے دستاویزات ملے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پولیس کو مدرسے کے اندر سے انصار اللہ بنگلہ ٹیم کا پرچہ اور القاعدہ کا لوگو ملا ہے۔ اس دوران تفتیش کے دوران کئی چیزیں سامنے آئیں اور ہمیں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بھی احکامات ملے ہیں کہ عمارت ڈزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے مطابق غیر محفوظ ہے۔

’اس لیے ضلع ڈپٹی کمشنر کے حکم کے بعد وہاں پر مدرسہ سمیت پانچ کمزور تعمیرات کو منہدم کر دیا گیا۔‘

کیا مدرسے کو مسمار کرنے کی کارروائی کو ڈزاسٹر مینجمنٹ قانون کی خلاف ورزی سمجھا جانا چاہیے یا مدرسے میں جہادی سرگرمیاں اس کی بنیادی وجہ ہیں؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ایس پی سوپنل ڈیکا نے کہا کہ ’ایک تو بہت ہی ناقص تعمیر تھی۔ دوسری بات یہ کہ مدرسہ میں جہادی اڈہ تھا، ہمیں خدشہ تھا کہ مدرسہ میں 163 طلبا زیر تعلیم تھے۔

’ایسے بیانات بھی ہیں کہ اس اسسٹنٹ ٹیچر نے ان طلبہ کو تربیت بھی دی تھی وغیرہ وغیرہ، وہاں سے بہت سی چیزیں برآمد ہوئی ہیں۔ اگر کسی مدرسے کا جہادی لنک ملے گا تو آگے بھی مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔‘

ضلع میں بونگائی گاؤں میں پولس کی جانب سے ایک سروے کیا گیا تھا جس میں کل 48 مدارس کے بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں۔

آسام

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA/BBC

،تصویر کا کیپشنمرکز المعارف قرآنی مدرسہ کا ملبہ

مزید مدرسے منہدم

دریں اثنا بی بی سی کی ٹیم نے بارپیتا ضلع کے گاؤں جوشیہٹی پاڑہ کا بھی دورہ کیا جہاں حال ہی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جامع الہدیٰ اسلامک اکیڈمی کے نام سے ایک مدرسے کو منہدم کر دیا گیا تھا۔

مارچ میں، جوشیہاٹی پاڑہ گاؤں کے اس مدرسے سے، پولیس نے انصار اللہ بنگلہ ٹیم کے ایک کیڈر کو گرفتار کیا تھا جو بنگلہ دیشی شہری ہے۔

بارپیٹا پولیس کا کہنا ہے کہ اس کا ایک اور ساتھی فرار ہے۔ پولیس نے جس بنگلہ دیشی شخص کو گرفتار کیا ہے اس کی شناخت سیف الاسلام عرف محمد سمن کے نام سے ہوئی ہے۔

بارپیٹا پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک جہادی سرگرمیوں میں ملوث کل 24 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں داخل ہوتے ہی خوف و ہراس کا ماحول دکھائی دینے لگتا ہے۔ کسی بھی مقامی شخص سے جب اس مدرسے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ بات کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔

عبدالسلام، جو ضلعی انتظامیہ کے حکم پر مدرسے کی زمین کا محاصرہ کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ ’اس سے پہلے یہ مدرسہ ڈھالیہ پاڑا گاؤں میں کرائے کے مکان میں تھا۔ اس گاؤں میں اس مدرسے کو شروع ہوئے صرف تین سال ہوئے تھے۔

’یہاں کی پوری آبادی اس مدرسے سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اس مدرسے میں 150 کے قریب بچے پڑھ رہے تھے، پہلے پولیس والے مدرسہ خالی کرنے آئے، دوسرے دن مدرسہ کو مسمار کر دیا گیا، اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ گاؤں میں ایک شخص نے بھی اس مدرسے کو گرانے کی مخالفت نہیں کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

اسی گاؤں کے رہنے والے اشرف علی کہتے ہیں ’یہ مدرسہ تین سال سے چل رہا تھا، لیکن ابھی حال ہی میں انتظامیہ نے ہمیں بتایا کہ یہاں محمد سمن نامی ایک انتہا پسند استاد کے طور پر پڑھا رہا تھا۔

’چنانچہ مدرسہ کو مسمار کر دیا گیا۔ کئی دوسرے گاؤں کے بچے بھی یہاں پڑھتے تھے ہم چاہتے تھے کہ جرم کرنے والے کو سزا ملے لیکن مدرسہ گرا دیا گیا۔‘

معاملے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے بارپیٹا ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ امیتابھ سنہا نے کہا ’ہم نے سیف الاسلام عرف محمد سمن کو مارچ میں پکڑا تھا۔ وہ بنگلہ دیش کا شہری ہے اور کچھ مقامی لوگوں کی مدد سے یہاں کے ایک مدرسے میں پڑھاتا تھا۔

’مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 24 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں 23 کا تعلق ضلع بارپیٹا سے ہے، ان میں سے کئی نے تربیت بھی لی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’درحقیقت یہ لوگ القاعدہ کی فرنٹل ٹیم انصار اللہ بنگلہ ٹیم کے کیڈر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ جن چیزوں کا تعلق ان دہشت گرد تنظیموں سے ہے۔

’اس وقت ان کیسز کی تفتیش جاری ہے۔ جہاں تک مدرسے کو مسمار کرنے کا تعلق ہے تو ضلعی انتظامیہ نے پولیس کی حفاظت میں یہ کارروائی کی ہے۔ ہمارا مقصد اس کو توڑنا نہیں ہے۔ کسی نے سرکاری زمین پر مدرسہ بنایا ہے اور اگر قواعد کی خلاف ورزی کی گئی تو کارروائی کی جائے گی۔‘

وزیر اعلیٰ سرما

،تصویر کا ذریعہTWITTER/HIMANTABISWA

،تصویر کا کیپشنمدارس میں شدت پسند سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں تو وہ کارروائی کریں گے: وزیر اعلیٰ سرما

'مدارس پر کارروائی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے'

آل آسام مینارٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر رضا الکریم کا کہنا ہے کہ مدارس پر کی گئی کارروائی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آسام کے مسلمان کسی جہادی کی حمایت نہیں کرتے لیکن کسی ایک شخص کے جہادی روابط کی وجہ سے مدارس کو توڑنا مناسب نہیں ہے۔

’جبکہ پولیس ابھی بھی ان معاملات کی چھان بین کر رہی ہے۔ مدارس کو مسمار کرنے کے بارے میں وزیر اعلی اور ضلعی انتظامیہ کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ تمام مدارس کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہم اسے ان کی سیاسی سازش مانتے ہیں کیونکہ انھوں نے سرکاری مدارس کو پہلے ہی بند کر دیا ہے۔‘

تاہم وزیر اعلیٰ سرما نے کئی بار کہا ہے کہ ’اگر انھیں مدارس میں شدت پسند سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں تو وہ کارروائی کریں گے۔ آسام حکومت جلد ہی ایک سرکاری پورٹل قائم کرنے جا رہی ہے جس پر اماموں اور مدرسہ کے اساتذہ کو خود کو رجسٹر کرنا ہو گا۔‘

وزیر اعلیٰ سرما کا دعویٰ ہے کہ آسام کی مسلم کمیونٹی اس کام میں حکومت کی مدد کر رہی ہے۔

دریں اثنا ریاست کے ڈائریکٹر جنرل پولیس بھاسکر جیوتی مہنت نے اتوار کو ریاست میں اسلامی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔

پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ انھوں نے مسلم تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست میں القاعدہ اور اے بی ٹی ماڈیولز کے خلاف جاری کارروائی میں تعاون کریں۔

آسام میں مدارس کی تاریخ آزادی سے پہلے کے دور کی ہے۔ لیکن بعد کے دنوں میں یہ الزامات لگائے گئے کہ دور دراز علاقوں کے کچھ مدارس جن میں باقاعدہ سکول نہیں ہیں، میں بچوں کو بنیاد پرست اسلام کی تعلیم دی جا رہی ہے۔

آسام حکومت نے حال ہی میں ریاست میں چلنے والے تقریباً 700 سرکاری مدارس کو عام سکولوں میں تبدیل کیا تھا لیکن اس وقت ریاست میں ایک ہزار سے زیادہ پرائیویٹ مدارس چل رہے ہیں، جن پر ریاستی حکومت جلد ہی ریگولیشن لانے پر غور کر رہی ہے۔