تقسیم ہند: بچھڑنے، ملنے اور موہن سنگھ کے عبد الخالق بننے کی کہانی

سرون سنگھ اور عبدالخالق (موہن سنگھ)

،تصویر کا ذریعہSARWAN SINGH FAMILY

،تصویر کا کیپشنسیاہ پگڑی مین سرون سنگھ اور سفید پگڑی میں ان کے بھتیجے موہن سنگھ جو اب عبدالخالق ہیں
    • مصنف, بشریٰ شیخ
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی

'مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے۔ وہ سکھ یا ہندو بھی ہوتا تو بھی ہے تو میرا اپنا ہی۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے وہ مل گیا ہے۔'

یہ 92 سالہ سرون سنگھ کا کہنا ہے جو آٹھ اگست کو کرتار پور صاحب میں 75 سال بعد اپنے کھوئے ہوئے بھتیجے موہن سنگھ سے ملے۔

وہ دونوں کچھ اس طرح سے دیر تک گلے مل رہے تھے جیسے برسوں کی مسافتیں لمحوں میں طے کر رہے ہوں۔

تقسیم ہند کے دوران ہونے والے فسادات میں سرون سنگھ نے اپنے خاندان کے 22 افراد کو کھو دیا تھا۔

اس وقت ان کے بھتیجے موہن سنگھ کی عمر صرف چھ سال تھی۔ اب وہ عبد الخالق ہیں۔

فسادات کے دوران وہ اپنے خاندان سے بچھڑ گئے، سرون سنگھ بتاتے ہیں کہ کوئی اسے لے گیا تھا۔

سرون سنگھ
،تصویر کا کیپشنسرون سنگھ

فسادات میں ان کے خاندان کا کیا ہوا

سرون سنگھ کا کہنا ہے کہ 'جب بٹوارہ ہوا تو ان کی عمر 17 سال تھی۔ ان کا ایک مشترکہ خاندان تھا جو تقسیم سے قبل غیر منقسم پنجاب کے ضلع ساہیوال کے شہر چیچا وطنی میں رہتا تھا۔'

فسادات سے 20 دن پہلے سرون سنگھ اپنے بھائی کے ساتھ گھر سے تقریباً 20 کلومیٹر دور کھیتی باڑی کرنے گئے تھے لیکن اسی دوران فسادات پھوٹ پڑے اور ان کے گاؤں پر بھی حملہ ہو گیا۔

فسادات میں ان کے خاندان کے 22 افراد مارے گئے۔ سرون سنگھ اپنی بھانجی اور چند دوسرے لوگوں کے ساتھ پنجاب کے جالندھر میں رہنے کے لیے پہنچے۔

خاندان کے بہت سے افراد کو کھونے کے بعد بھی سرون سنگھ کو یقین تھا کہ ان کا بھتیجا موہن زندہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میں خواب دیکھتا تھا اور دل کہتا تھا کہ موہن زندہ ہے۔'

سرون سنگھ اور عبدالخالق (موہن سنگھ)

،تصویر کا ذریعہSARWAN SINGH FAMILY

،تصویر کا کیپشنچچا بھتیجے 75 سال بعد گلے ملے

شناخت کیسے ہوئی

ان دونوں چچا بھتیجے کو ملوانے کا سہرا انڈیا کے شہری ہرجیت سنگھ اور پاکستان کے محمد جاوید اقبال کے سر جاتا ہے جنھوں نے سرون سنگھ کو ان کے بھتیجے عبد الخالق سے ملوایا۔

سرحد کے دونوں جانب رہنے والے ہردیپ اور جاوید اپنے اپنے یوٹیوب کے ذریعے تقسیم ہند میں اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے والے لوگوں کو ملوانے کا کام کر رہے ہیں۔

ہرجیت سنگھ پیشے سے مکینک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 1947 کی تقسیم کے نتیجے میں تباہ حال ہو جانے والے خاندانوں کے بزرگوں کی کہانیوں کی ویڈیوز کی شکل میں اپنے یوٹیوب چینل پر ڈالتے ہیں۔

ہرجیت سنگھ نے بتایا: 'تقریباً 9 ماہ قبل سرون سنگھ کے ایک دور کے بھائی نے مجھے بتایا کہ تقسیم کے فسادات میں سرون سنگھ کا پورا خاندان برباد ہو گیا تھا۔ ان کی کہانی بہت افسردہ کرنے والی ہے۔

'جب میں سرون سنگھ سے ملا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا پورا خاندان مارا گیا تھا لیکن ان کا ایک چھ سال کا بھتیجا تھا جس کی کوئی خیر خبر نہیں ملی، ہو سکے تو اس سے ملوا دو۔'

سرون سنگھ اور عبدالخالق (موہن سنگھ)
،تصویر کا کیپشنکرتارپور صاحب میں چچا بھتیجہ

ملاقات کیونکر ممکن ہوئی

انھوں نے موہن سنگھ کی کچھ نشانیاں بتائیں جو ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے تھیں۔ سرون سنگھ نے بتایا کہ موہن کے دائیں ہاتھ میں چھ انگلیاں (دو انگوٹھے) اور ایک ران پر نیلے رنگ کا نشان تھا۔

ہرجیت سنگھ نے سرون سنگھ کی ویڈیو بنا کر اپنے یوٹیوب چینل 'دھرتی دیش پنجاب دی' پر ڈال دی۔

دوسری جانب پاکستان کے جاوید اقبال نے بھی ایک ویڈیو بنائی۔ دونوں ہی ممالک سے اپ لوڈ کیے جانے والے ویڈیوز کو آسٹریلیا میں رہنے والے ایک پنجابی باشندے نے دیکھا اور انھوں نے ہرجیت سنگھ کو فون کیا اور کہا کہ عبدالخالق سرون سنگھ کا بھتیجا ہو سکتا ہے، کیونکہ سرون سنگھ نے موہن کے بارے میں جو باتیں بتائی ہیں وہ عبد الخالق سے ملتی ہیں۔ اور عبد الخالق اسی علاقے میں ملے جہاں سرون سنگھ کا خاندان رہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پھر ہرجیت سنگھ نے پاکستان کے جاوید اقبال سے بات کی اور دونوں کی نشانیاں ملائی گئیں۔ اس کے بعد انھوں نے عبد الخالق کی ویڈیو سرون سنگھ کو دکھائی۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر انھیں لگا کہ عبد الخالق ہی ان کا بھتیجا موہن سنگھ ہے۔

ہرجیت سنگھ
،تصویر کا کیپشنچچا بھتیجے کو ملوانے والے ہرجیت سنگھ یوٹیوب چینل چلاتے ہیں

دوسری جانب جاوید اقبال نے عبد الخالق کو سرون سنگھ کی ویڈیو دکھائی۔

عبد الخالق بتاتے ہیں کہ اس وقت ان کی عمر صرف چھ سال تھی اور انھیں اپنے گھر والوں کے چہرے یاد نہیں ہیں لیکن انھیں اپنے بچپن کا ایک قصہ یاد تھا جو سرون سنگھ نے انھیں سنایا تھا۔

ہرجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ کسی ایک شخص کی اتنی زیادہ نشانیاں ملنا عام بات نہیں ہے۔

اس کے بعد چچا بھتیجا آپس میں ویڈیو کال پر بات کرنے لگے۔ عبد الخالق نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میرے دل میں یہ خوف بھی تھا کہ مجھے ہندوستان ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔'

سرون سنگھ کی نواسی ترنجیت کور کا کہنا ہے کہ 'نانا نے بہت سے خطوط لکھے کہ شاید ان کے گمشدہ بھتیجے کا کچھ پتہ چل جائے، ان کے خطوط کے جواب تو آتے تھے لیکن ان کے بھتیجے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملتی تھی۔'

ترنجیت نے مزید کہا کہ 'ہم نے تقسیم تو نہیں دیکھی لیکن ہم نے ہمیشہ نانا جی کو اپنے خاندان کو یاد کرکے روتے دیکھا ہے۔'

سرون سنگھ اور عبدالخالق (موہن سنگھ)
،تصویر کا کیپشنسرون سنگھ اور عبدالخالق (موہن سنگھ)

موہن سنگھ کیسے عبدالخالق بنے؟

عبدالخالق نے کہا کہ انھیں روتا ہوا دیکھ کر ایک نمبردار جس کی کوئی اولاد نہیں تھی انھیں اپنے ساتھ لے گیا اور پھر اس نے موہن سنگھ کا نام عبد الخالق رکھا۔

اس شخص نے انھیں اپنے بچے کی طرح پالا، اور بعد میں انھوں سندھ میں عبد الخالق کی شادی کرا دی۔

اس وقت عبد الخالق کی عمر تقریباً 80 سال ہے اور ان کا خاندان پاکستان کے ضلع ویہاڑی میں رہتا ہے۔ ان کے ساتھ ان کا خاندان بھی کرتارپور صاحب سرون سنگھ سے ملنے آیا تھا۔

،آڈیو کیپشنتقسیم ہند اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر معروف تاریخ داں عرفان حبیب کے خیالات

عبد الخالق کا کہنا ہے کہ 'ہم دونوں بڑے پیار سے ملے، ہم آپسی میل جول کی باتیں کرتے رہے۔'

عبد الخالق کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ہی رہنا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے خاندان سے ملنے انڈیا آتے رہنا چاہتے ہیں۔

سرون سنگھ اس عمر میں اپنے کھوئے ہوئے بھتیجے سے مل کر بہت خوش ہیں۔

وہ ایک ایسی جگہ (کرتارپور صاحب کوریڈور) بنانے پر انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جہاں دونوں ممالک کے لوگ مل سکیں۔