سری لنکا کے صدر نے روسی صدر پوتن سے تیل مانگ لیا

سری لنکا میں معاشی بحران کے خلاف احتجاج

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

،تصویر کا کیپشنسری لنکا میں معاشی بحران کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے

سری لنکا کے صدر نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ایندھن برآمد کرنے کے لیے مدد مانگی ہے۔ سری لنکا کے پاس زرِ مبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں اور ملک کو سنہ 1948 میں برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سب سے شدید معاشی بحران کا سامنا ہے۔

صدر گوتابا راج پکشے کا کہنا ہے کہ ان کی صدر پوتن کے ساتھ بہت مفید بات چیت ہوئی ہے۔ سری لنکا کہ توانائی کے وزیر نے چند روز قبل کہا تھا کہ ملک میں پیٹرول ختم ہونے کے قریب ہے۔

گزشتہ روز یعنی بدھ کو دارالحکومت کولمبو میں سینکڑوں افراد نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

صدر گوتابا راج پکشے نے بتایا کہ انھوں نے صدر پوتن سے ادھار میں ایندھن دینے کی درخواست کی ہے۔

سری لنکا میں ایندھن کا بحران

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

،تصویر کا کیپشنگزشتہ ہفتے حکام نے پیٹرول کے ذخائر کو بجانے کی کوشش میں غیر ضروری گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

صدر راج پکشے نے کہا کہ انھوں نے یہ 'عاجزانہ درخواست' بھی کی ہے کہ ماسکو اور کولمبو کے درمیان روس کی ایئر لائن ایروفلوٹ کی پروازوں کو بھی بحال کیا جائے جنھیں گزشتہ مہینے روک دیا گیا تھا۔

'ہم نے اس بات پر بھی مکمل اتفاق کیا کہ سیاحت، تجارت اور کلچر جیسے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا دونوں ممالک کے درمیان دوستی بڑھانے کے لیے بہت ضروری ہے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

معاشی بحران کے دوران ایندھن کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے سری لنکا پہلے ہی حالیہ مہینوں میں روس سے تیل خرید چکا ہے اور حکومت یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ روس سے مزید تیل خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

صدر راج پکشے کی جانب سے ملک میں جاری بدترین معاشی بحران کو کم کرنے کی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکیں ہیں۔ ان کوششوں میں انڈیا اور چین سے معاشی مدد حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ لیکن ملک کو اب بھی ایندھن، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

گزشتہ اتوار کو توانائی کے وزیر کنچنا وجے سیکارا نے خبردار کیا تھا کہ موجودہ مانگ کے لحاظ سے ملک میں ایک دن سے بھی کم کا پیٹرول رہ گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے حکام نے پیٹرول کے ذخائر کو بچانے کی کوشش میں غیر ضروری گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

صدر ولادیمیر پوتن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملک میں مہنگائی کو قابو میں کرنے کے لیے جمعرات کو سینٹرل بینک نے شرحِ سود میں ایک فیصد اضافہ کیا ہے۔ اس طرح بینک سے قرض لینے کی شرحِ سود بڑھا کر پندرہ عشاریہ پانچ فیصد جبکہ بینک میں رکھی ہوئی رقوم پر شرحِ سود چودہ عشاریہ پانچ فیصد کر دی گئی ہے جو گزشتہ 21 برس میں سب سے زیادہ ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سری لنکا میں سالانہ افراطِ زر 54.6 فیصد جبکہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 80 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

بدھ کو سینکڑوں مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے جمع ہوئے اور اس تحریک کا آغاز کیا جسے وہ راج پکشے حکومت کو ہٹانے کے لیے 'آخری دھکا' قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

اسی صورتحال کی وجہ سے اس ہفتے برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سری لنکا کا سفر نہ کریں۔

بی بی سی کے جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر اینبراسین ایتھیراجن کہتے ہیں کہ سری لنکا کو ایندھن اور سیاحت کے سلسلے میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ یہ دونوں شعبے ملک کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ملک میں ایندھن تقریبا ختم ہو چکا ہے جس کی وجہ سے کاروبار اور پبلک ٹرانسپورٹ مفلوج ہو گیا ہے۔

سری لنکا کو زرِ مبادلہ نہ ہونے کی وجہ سے خلیجی یا دیگر ممالک سے ایندھن کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب یوکرین پر حملے کی وجہ سے مغربی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ تاہم صدر راج پکشے واضح طور پر مغربی ممالک کی ناراضی مول لینے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر سری لنکا کی ایک عدالت نے گزشتہ مہینے رقم کی ادائیگی کے ایک تنازع پر روسی ایئر لائن ایروفلوٹ کے ایک جہاز کو کچھ دیر کے لیے تحویل میں لینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ایروفلوٹ نے سری لنکا کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں۔ اس سے سری لنکا کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ سری لنکا میں آنے والے سیاحوں کا پانچواں حصہ روس سے آنے والے سیاح ہوتے تھے۔

اب اگر ایروفلوٹ کی پروازیں بحال بھی کر دی جائیں تو روسی سیاحوں کو راغب کرنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ انھیں سری لنکا میں اپنی تفریحی چھٹیوں کے دوران معاشی صورتحال کی وجہ سے خریداری میں مشکلات ہوں گی۔

کئی روسی بینکوں کو ادائیگیوں کے بین الاقوامی نظام 'سوئفٹ' سے نکال دیا گیا ہے اور ویزا اور ماسٹر کارڈ نے روس میں کام بند کر دیا ہے۔