کیا پاکستان کا سیاسی اور سری لنکا کا معاشی بحران انڈیا کے لیے باعثِ تشویش ہے؟

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES/EPA/TWITTER

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ سری لنکا اور پاکستان میں جاری بحران کا بھارت پر اثر لازمی ہے
    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

کہا جاتا ہے کہ اگر پڑوس میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہو تو گھر میں بھی سکون رہتا ہے اور اگر محلے میں بدامنی اور غیر یقینی کا سا ماحول ہو تو گھر میں پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔

تو کیا پاکستان میں جاری سیاسی بحران اور سری لنکا کے موجودہ شدید معاشی بحران سے انڈیا کو پریشان ہونا چاہیے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سری لنکا میں جاری بحران کا انڈیا پر اثر لازمی ہے۔

سری لنکا کا بحران اور انڈیا

دیکھا گیا ہے کہ سری لنکا میں جب بھی کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو وہاں کی تامل آبادی نقل مکانی کر کے انڈین ریاست تمل ناڈو کا رُخ کرتی ہے۔

سری لنکا میں کئی دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کے دوران، ہم نے دیکھا تھا کہ سری لنکا کے لاکھوں تامل بولنے والوں نے انڈیا میں پناہ لی تھی۔

سری لنکا میں بے روزگاری اور معاشی بحران میں شدت آنے کے بعد سے وہاں کے تامل بولنے والے شہری ایک بار پھر انڈیاکا رخ کر رہے ہیں۔

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسری لنکامیں بے روزگاری اور معاشی بحران میں شدت آنے کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے

یہ صورتحال ریاست تمل ناڈو کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ 22 مارچ کو رامیشورم ساحل پر دو گروپوں میں آنے والے 16 سری لنکن شہری اس کی مثال ہیں۔

انڈین حکومت نے حال ہی میں آنے والے سری لنکن شہریوں کی اصل تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔

لیکن حکومتی ذرائع کا اندازہ ہے کہ سری لنکا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انڈیا آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

سری لنکا میں زرمبادلہ کی شدید قلت ہے یہ ملک 51 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ اُتارنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

کمر توڑ مہنگائی کے ساتھ ساتھ سری لنکا کو خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

عوام میں بے چینی اور بڑے پیمانے پر مظاہروں کے پیش نظر سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پاکسے نے جمعہ کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

باسِل راجا پاکشے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصدر گوٹابایا راجا پاکشے نے اپنے بھائی اور وزیر خزانہ باسِل راجا پاکشے کو برطرف کر دیا ہے

انڈیا کی جانب سے مدد کا وعدہ

انڈیا نے سری لنکا کے اقتصادی اور توانائی کے بحران سے نمٹنے اور ایندھن، خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کی مالی امداد فراہم کی ہے۔

گذشتہ ہفتے سری لنکا کے اپنے تین روزہ دورے کے دوران انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے سری لنکا کی حکومت کو انڈیا کی جانب سے امداد جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔

انھوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بھی انڈیا کی جانب سے تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔

جے شنکر نے اپنے دورے کے دوران سری لنکا کے وزیر خزانہ باسِل راجا پاکسے سے بھی بات چیت کی۔ باسِل راجا پاکسے اقتصادی بحران سے نمٹنے کے اقدامات پر انڈیا کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔

لیکن چار اپریل کو خبر آئی کہ صدر گوٹابایا راجا پاکسے نے اپنے بھائی اور وزیر خزانہ باسِل راجا پاکسے کو برطرف کر دیا ہے۔

سری لنکا سے متعدد رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا نے ایک ارب ڈالر کا مزید قرض مانگا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سری لنکا کی تازہ صورتحال

صدر گوٹابایا راجا پاکشے نے علی صابری کو وزیر خزانہ مقرر کیا ہے۔ اتوار کی رات تک علی صابری کے پاس ملک کی وزارت انصاف کی ذمہ داری تھی۔

عہدے سے ہٹائے جانے سے قبل باسِل راجا پاکسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے امدادی پیکج حاصل کرنے کے لیے امریکا جانے والے تھے۔

ملک کے حکمراں سری لنکا پیدوجنا پیرمونا اتحاد میں باسِل کے کردار پر ناراضگی پائی جاتی تھی۔

گذشتہ ماہ مہندا راجا پاکسے کی کابینہ میں شامل کم از کم دو وزرا کو باسِل پر عوامی سطح پر تنقید کرنے پر برطرف کر دیا گیا تھا۔

اتوار کی رات مہندا راجا پاکسے کی کابینہ کے تمام 26 وزرا نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

دریں اثنا سری لنکا کے مرکزی بینک کے گورنر اجیت نیوارد نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ اجیت نیوارد کو آئی ایم ایف سے ریلیف پیکج حاصل کرنے کے معاملے پر اپنے اڑیل رویے کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحالیہ برسوں میں سری لنکا اور چین کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا ہے

انڈیا، سری لنکا تجارت

انڈیا نے بجلی کی کٹوتیوں کے بحران کو کم کرنے کے لیے 40,000 میٹرک ٹن ڈیزل کی چار کھیپیں سری لنکا بھیجی ہیں۔ اس کے علاہ انڈیا جلد ہی 40,000 ٹن چاول کی کھیپ بھی بھیج رہا ہے۔

انڈیا کی 60 فیصد ترسیل اس بندرگاہ سے ہوتی ہے۔

انڈیا سری لنکا کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ سری لنکا سے بھی بڑی تعداد میں سیاح انڈیا آتے ہیں۔

انڈیا سری لنکا کو سالانہ تقریباً پانچ ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے، جو اس کی کل برآمدات کا 1.3 فیصد ہے۔

انڈیا سری لنکا کو سالانہ تقریباً پانچ ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے، جو اس کی کل برآمدات کا ایک عشاریہ تین فیصد ہے۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا سری لنکا کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے

انڈیا نے ملک میں سیاحت، رئیل سٹیٹ، مینوفیکچرنگ، کمیونیکیشن، پیٹرولیم ریٹیل وغیرہ کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔

انڈیا سری لنکا میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے۔ ملک کی کچھ بڑی کمپنیوں نے بھی سری لنکا میں سرمایہ کاری کی ہے۔

حالیہ برسوں میں سری لنکا اور چین کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا ہے اور چین نے سری لنکا میں کئی بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ لیکن سری لنکا کے تازہ ترین بحران میں چین کی مدد نظر نہیں آ رہی۔

پاکستان کا بحران اور انڈیا پر اس کے اثرات

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور اُن کی حکومت کے سخت ناقد رہے ہیں۔

مگر دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ انڈیا، پاکستان سرحد پر کشیدگی سنہ 2021 کے بعد اب اپنی کم ترین سطح پر ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن نے امریکا کے ساتھ مل کر انھیں ہٹانے کی سازش رچی ہے

پاکستان اس وقت سیاسی اتھل پتھل کے دور سے گزر رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پارلیمان کی تحلیل کے بعد نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے، حزبِ اختلاف نے اس اقدام کو ’غداری‘ سے تعبیر کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن نے امریکا کے ساتھ مل کر انھیں ہٹانے کی سازش رچی ہے۔

انڈین ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال سے نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں بلکہ پاکستان سفارتی طور پر مغربی ممالک سے الگ تھلگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

بی بی سی ہندی کے ٹوئٹر سپیسز پروگرام میں تجزیہ کار سواستی راؤ نے کہا کہ پاکستان کو سفارتی طور پر دنیا سے الگ تھلگ کرنے کے لیے انڈیا کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی، یہ کام پاکستان نے خود اپنے لیے کر لیا ہے۔