انڈیا، پاکستان تعلقات: کیا ایٹمی ہتھیار انڈیا اور پاکستان کے درمیان روایتی جنگ کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟

مشرف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمر فاروق
    • عہدہ, دفاعی تجزیہ کار

جون 2002 کی جھلسا دینے والی دھوپ میں جہلم میں میزائل داغنے کے مقام پر موڈ اور ماحول پر افسردگی طاری تھی۔ وجہ یہ تھی کہ انڈیا کے ساتھ فوجی کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی تھی۔

انڈیا اپنی حملہ آور 'تھری سٹرائیک' کور سرحد کے قریب تعینات کر چکا تھا، یہ فوج کی اُس بھاری نفری کے علاوہ تھی جو توپ خانے اور بکتر بند کے ہمراہ سرحد پر صفیں باندھے ہوئے تھی۔

پاکستانی بری افواج بھی جوابی صف بندی مکمل کر چکی تھیں لیکن اس نقل وحرکت پر ان کے بہت بھاری اخراجات آ رہے تھے۔ پھر انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کے پاس نفری بھی کم تھی جبکہ اسلحہ کے معیار اور مقدار دونوں میں ہی واضح فرق تھا۔

تین سال قبل جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی آمر، بری افواج کے سربراہ اور پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف بذات خود جہلم میں اس مقام پر موجود تھے جہاں سے یہ میزائل داغا جانا تھا۔

کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے دو درجن سے زائد سائنسدان زمین سے زمین پر مار کرنے والے غوری (جو ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے تک اور بڑے شہری مراکز کو نشانہ بنانے کی صلاحت رکھتے ہیں) اور ابدالی و غزنوی (جو نسبتاً کم فاصلے تک مار کر سکتے ہیں اور کسی بھی فوجی ہدف کو باآسانی نشانہ بنانے کے لیے زیادہ موزوں ہیں) میزائلوں کے تجرباتی عمل کے آغاز کی خاطر وہاں موجود تھے۔

فوجیوں، سائنسدانوں کے سوا میڈیا یا کسی اور کو اس تقریب میں آنے کی اجازت نہیں تھی تاہم پاکستان کے 'سٹرٹیجک پلاننز ڈویژن' (ایس پی ڈی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے اس امر کو بہرطور یقینی بنایا کہ جنرل مشرف کی تقریر کا کچھ چنیدہ حصہ پاکستانی اور عالمی جوہری ماہرین تک ضرور پہنچ جائے۔

یہ بھی پڑھیے

'سٹرٹیجک پلانز ڈویژن' پاکستان کی 'جوہری کمانڈ اتھارٹی' یا جوہری اُمور سے متعلق مجاز سیکریٹریٹ یا صدر دفتر کے طور پر کام کرتا ہے۔

ارادہ یہ تھا کہ جنرل مشرف کی تقریر کو انڈیا کی کسی ممکنہ مہم جوئی کو روکنے کے ایک 'جنگی دفاعی حربے' (ڈیٹیرنس) یا ڈرانے کے لیے استعمال میں لایا جائے۔

غوری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنغوری میزائل

جیسا کہ بعدازاں جنرل مشرف کی تقریر کے اقتباسات کو بہت سارے قومی اور عالمی ابلاغی اداروں نے شائع کیا۔ یہ اقتباسات فراہم کرنے پر ایک عالمی منصنف اور لکھاری نے جنرل قدوائی کا ذاتی طور پر تحریری شکریہ بھی ادا کیا۔

انڈیا کی جانب سے پاکستان کی مشرقی سرحد پر ہونے والی فوجی پیش رفت سنہ 2002 کے آغاز سے ہی پاکستانی فوجی قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا چکی تھی۔

اس وقت کے پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے بری افواج کو نقل و حرکت کا حکم دے دیا تھا، پاکستان ایئرفورس (فضائیہ) بھی 'ہائی الرٹ' تھی۔

عالمی سرحدوں پر خطرات بڑھتے جا رہے تھے۔ 18 دسمبر 2001 کو انڈیا نے 'آپریشن پراکرام' (جرات یا مردانگی) شروع کر دیا اور حملہ آور فوجی دستے سرحد کے قریب تعینات کر دیے جن میں ٹینک اور بھاری توپ خانہ بھی شامل تھا۔

آپریشن پراکرام کے آغاز سے پانچ روز قبل مسلح عسکریت پسندوں نے انڈین پارلیمنٹ کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا تو انڈین انٹیلیجینس نے ان عسکریت پسندوں کے پاکستانی انٹیلیجینس سے تعلق ہونے کا الزام عائد کر دیا۔

انڈین قیادت نے شدت سے محسوس کیا کہ اسے پاکستان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرنی چاہیے۔

انڈین فوجی دستوں میں کچھ وسطی ہندوستان اور امبالہ سے تھے جہاں دو انڈین 'سٹرائیک کورز' کے صدر دفاتر (ہیڈکواٹرز) قائم تھے۔

انڈین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈین پارلیمان پر حملہ کرنے والے ایک حملہ آور کی میت کے پاس پولیس اہلکار کھڑے ہیں

انڈین فوجی دستوں کی کل نفری آٹھ لاکھ تھی۔ تین سٹرائیک یا حملہ آور کورز کے ساتھ یہ پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے ساتھ شست باندھ چکی تھیں۔

انڈین فضائیہ کے یونٹس اور سٹیلائٹ ایئر فیلڈز کو فعال کیا جا چکا تھا اور مشرقی فلیٹ (فضائی بیڑے) کو خلیج بنگال سے شمالی بحیرہ عرب کی طرف منتقل کر دیاگیا تھا تاکہ وہ مغربی فضائی بیڑے کے ساتھ مل کر پاکستان کی ناکہ بندی کر دے۔

اس اعصاب شکن صورتحال میں جنرل پرویز مشرف نے دوٹوک انداز میں یہ کہا کہ اگر ہمارے ملک کی بقا و سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان جوہری ہتھیار استعمال کرے گا۔

پاکستانی حکومت نے اعلان کیا کہ اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے طریقہ کار اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ اس کے ہتھیار فوری جنگی استعمال کے لیے بروئے کار آ سکیں اور کسی بحران میں تیار حالت میں مہیا رہیں۔

بااثر جرمن میگزین 'دیر سپیگل' سے اپریل 2002 میں ایک انٹرویو میں جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے لیے روایتی ہتھیاروں پر ہی انحصار کرے گا لیکن خاص طور پر اگر پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خطرہ لاحق ہوا تو جوہری قوت کا استعمال ایک آپشن ہے۔

قنوطیت پسند تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ پاکستانی جوہری ڈاکٹرائن دانستہ کمزوری یا عدم استحکام کی پالیسی پر مبنی ہے جس کا مقصد انڈیا اور امریکہ کو اس امر پر قائل کرنا ہے کہ روایتی ہتھیاروں کی سطح پر ہونے والی کسی کشیدگی کا فوری نتیجہ جوہری جواب کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

کارگل کشیدگی کا احوال

کارگل

،تصویر کا ذریعہAFP

کمزوری کے اس واضح احساس کا برملا اظہار پاکستانی فوجی اور سیاسی قیادت دونوں میں نمایاں رہا ہے کیونکہ مئی 1998 میں پاکستان نے دھماکوں کے فیصلے سے اپنے جوہری ہتھیاروں کا عملی تجربہ کر دیا۔

دھماکوں کے کچھ ہی عرصہ بعد انڈیا اُس وقت پھر فوجی جارحیت کے موڈ پر اتر آیا جب اس کی فوج کارگل کی چوٹیوں سے پاکستانی فوجوں کو نکالنے کے لیے کمربستہ ہوئی۔

کارگل تنازعہ اپریل 1999 میں شروع ہوا جو ایک بار پھر سے جوہری بحران کا باعث بن گیا۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے کو ایٹم بم پھینک کر صفحہ ہستی سے مٹادینے کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔

تنازع کے ابتدائی مراحل میں یہ دھمکیاں ایسی سیاسی شخصیات کی طرف سے آ رہی تھیں جو قابل ذکر نہیں تھیں اور ان کا سرحد کے دونوں جانب جوہری فیصلہ سازی میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اس لیے ان دھمکیوں کو خاطر میں نہ لایا گیا۔

لیکن پھر اس صورتحال میں پاکستان کے اس وقت کے سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان بھی کود پڑے۔

مئی کے آخر میں سکریٹری خارجہ شمشاد احمد اخان نے اس تنازع کے دوران جوہری ہتھیاروں سے متعلق نمایاں ترین بیان دیتے ہوئے انڈیا کو خبردار کیا کہ اپنی جغرافیائی سالمیت کے دفاع کے لیے پاکستان کسی بھی قسم کا ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

یہ بیان اس لحاظ سے نہایت اہم تھا کیونکہ پاکستان نے عموماً اپنے جوہری ڈاکٹرائن کا 'فوکس' آخری حربے کے طور پر ہی برقرار رکھا تھا کہ اگر ریاست کی بقا کا معاملہ ہوا تو وہ اس بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر پاکستانی سرحد کے اندر انڈین فضائیہ کو گھس کر کارروائی کرنے کی اجازت دینے کے انڈین اقدام سے شروع ہونے والی فوجی کشیدگی کے ابتدائی مراحل میں بھی کچھ ایسا ہی پھر سے ہوا۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے عوامی سطح پر جوہری دھمکی کو دانستہ اس ترکیب کے طور پر استعمال کیا کہ اس طرح عالمی مداخلت کو مہمیز دینے کی کوشش کرے اور اس کے نتیجے کے طور پر دوسری طرف انڈیا کے روایتی فوجی جواب کو بھی آگے بڑھنے سے روک دے۔

کیا مشرف اور شمشاد کے جوہری بیانات کے خوف سے انڈیا پیچھے ہٹا؟

کارگل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگر بات کارگل کشیدگی کی کی جائے تو سیکریٹری خارجہ شمشاد ہی وہ واحد حکومتی شخصیت نہ تھے جنھوں نے کارگل لڑائی کے دوران جوہری طاقت سے متعلق بیان دیا بلکہ بہت سارے حکومتی وزرا کے بیانات کی بھی بھرمار تھی جو زیادہ سمجھداری پر مبنی نہیں تھے، خاص طورپر ایک بیان ایسا ضرور تھا جو اس وقت کے وزیر مذہبی امور راجہ ظفرالحق نے جاری کیا تھا۔

راجہ ظفر نہ صرف وزیراعظم نوازشریف کے قریب سمجھے جاتے تھے بلکہ سیاسی حلقوں میں یہ عمومی تاثر بھی تھا کہ طاقتور فوجی سٹیبلیشمنٹ کے اندر تک ان کے رابطے ہیں لیکن بلاشبہ وہ جوہری فیصلہ ساز ڈھانچے کا حصہ نہیں تھے۔

انھوں نے کہا کہ 'پاکستانی سرزمین، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پاکستان جوہری آپشن استعمال کر سکتا ہے۔'

یہ بیان وزیراعظم نوازشریف کے چین کے دورہ کے موقع پر دیا گیا اور بہت سارے عالمی ماہرین نے قرار دیا کہ یہ بیان ملک کے اندر عوام کو خوش کرنے کی خاطر دیا گیا۔

لیکن انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں یہ پیغام پوری وضاحت سے سمجھا گیا جہاں انڈین وزیر اعظم، وزیر دفاع اور قومی سلامتی کے مشیر سب نے اس کا جواب دیا اور پاکستان کی طرف سے جوہری دھمکی کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی۔

واشنگٹن ڈی سی میں امریکی بحری وار کالج میں سٹرٹیجی امور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹھموتھی ڈی ہوئٹ نے کارگل لڑائی پر اپنی تجزیاتی تصنیف 'کارگل: اے نیوکلیئر ڈائی مینشن' (کارگل لڑائی کا جوہری پہلو) میں تحریر کیا کہ ایسی رپورٹس تھیں کہ پاکستان اور انڈیا دونوں کے وزرائے اعظم نے جوہری تیاری کی حالت بڑھا دی تھی اور یہ اجازت دینے ہی والے تھے کہ جوہری ہتھیاراستعمال کیے جائیں۔

پروفیسر ہوئیٹ نے تجزیے میں لکھا کہ 'ایک نجی ملاقات میں صدر کلنٹن نے وزیراعظم نواز شریف سے پوچھا تھا کہ کیا یہ بات ان کے علم میں ہے کہ ان کی (پاکستانی) فوج جوہری ہتھیاروں سے لیس میزائل استعمال کرنے کی تیاری کر چکی تھی؟ مبینہ طور پر نوازشریف نے یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ انڈیا بھی کچھ ایسا ہی کر رہا تھا۔'

پروفیسر ہوئیٹ کے تجزیے کے مطابق کارگل بحران ہر لحاظ سے ایک جوہری بحران تھا، دونوں ایک دوسرے پر جوہری ہتھیاروں سے حملے کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔

پروفیسر ہوئیٹ کے مطابق تاہم یہ واضح نہیں کہ جوہری ہتھیاروں نے ان دونوں ممالک کی فیصلہ سازی میں درحقیقت کیا کردار ادا کیا۔

اور اگر بات سنہ 2002 کی کشیدگی کی کی جائے تو انڈیا نے اپنی فوجوں کی نقل وحرکت اس بیان کردہ مقصد کے تحت کی تھی کہ پاکستانی فوج کو دباؤ میں لا کر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرحد پار سے دراندازی روک دی جائے اور اسے محفوظ رکھا جائے۔

جون 2002 میں انڈین فوجی حکام نے دعویٰ کیا کہ سرحد پار سے مداخلت میں 53 فیصد کمی آ گئی ہے۔

لیکن عالمی سرحد پر انڈین مسلح افواج کی تعیناتی کی حقیقت اور فوج کی نقل و حرکت کے بیان کردہ مقصد کے باوجود انڈیا نے یہ کبھی نہیں کہا کہ سرحد پار سے مداخلت مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔

پاکستانی حکومت نے انڈیا کو 20 دہشت گردوں کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا جن کے بارے میں انڈین حکومت نے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں انڈیا کو دیا جائے۔

البتہ صدر پرویز مشرف نے پاکستانی علاقوں کے اندر پانچ دہشت گرد گروہوں کے خلاف ضرور کارروائی کی اور ان گروہوں کی قیادت گرفتار ہوئی، ان کے اکاؤنٹس کو منجمند (فریز) اور دفاتر سربمہر (سیل) کیے گئے۔

بہت سارے بین الاقوامی فوجی تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ جوہری صورتحال میں اشتعال انگیزی پر کیا ردعمل ہونا چاہیے، اس بارے میں انڈین حکومت کوئی فیصلہ نہ کر سکی۔

انڈین پارلیمنٹ پر حملے کے فوری بعد انھوں نے فوجی نقل وحرکت تو شروع کر دی لیکن اس کے بعد اگلے چھ ماہ تک وہ فوجی قیادت کو یہ حکم دینے میں ناکام رہی کہ پاکستان کو سزا دینے کے لیے کارروائی کرے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے جوہری کارروائی کرنے کی جو دھمکی دی تھی وہ کام کرگئی اور انڈین سیاسی اور فوجی قیادت اس سے ڈر کر کسی انتہائی قدم کو اٹھانے سے باز رہی؟ اس سوال کا کوئی واضح اور آسان جواب نہیں ہے۔

کارگل

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنکارگل میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی میتیں

پاکستان کی روایتی دانش کا اس بحران پر کیا نکتہ نظر ہے؟

فوجی بحرانوں میں جوہری ہتھیاروں کے عمل دخل کا جہاں تک تعلق ہے تو اس ضمن میں پاکستانی معاشرے میں کئی واہموں نے جنم لیا ہے۔

پاکستانی جوہری پروگرام کے بارے میں کئی ایک ایسی داستانیں یا سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھنے والی کہانیاں موجود ہیں اور تصورات مستعمل رہے ہیں جنھوں نے انڈیا کو پاکستان پر روایتی حملہ کرنے سے باز رکھا ہے۔

مثال کے طورپر ایک مشہور قصہ یہ ہے کہ سنہ 1986 میں ڈاکٹر اے کیو خان کے انڈین صحافی کو انٹرویو نے انڈیا کو عالمی سرحد پار کرنے سے ڈرایا تھا جس میں انھوں نے پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ اسی سے ملتی جلتی کہانی کارگل لڑائی کے بارے میں بھی ہے۔

سلامتی امور کے ماہر ایئر مارشل (ر) شہزاد چوہدری نے کہا کہ 'کارگل جنگ کے دوران دونوں فریقین جانتے تھے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور انڈینز نے صرف اس لیے لائن آف کنٹرول عبور نہ کی کیونکہ انھیں ہماری جوہری صلاحیت کا علم تھا۔'

سلامتی امور کے ماہرین کی اس قسم کے مطابق سنہ 2002 کے فوجی بحران میں جوہری ہتھیاروں کا کردار اور بھی زیادہ واضح اور نمایاں تھا۔ شہزاد چوہدری نے کہا کہ '2002 کے تقریباً پورے سال میں دونوں طرف مسلح افواج کی پوری نفری تعینات تھی لیکن اس کے باوجود دونوں نے جنگ نہ کی۔ آخر کار امریکیوں نے مداخلت کی اور دونوں کو پیچھے ہٹنے پر قائل کیا۔'

پاکستان کی جوہری پالیسی کے بارے میں صحیح معنوں میں حقیقت حال سے آگاہ لوگوں کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ فوجی بحران یا لڑائی کے دوران غیر پیشہ ور اور غیرمتعلقہ حکومتی وزرا اور عوامی شخصیات کی جانب سے عوامی سطح پر دیے جانے والے عامیانہ دھمکی بھرے بیانات میں جوہری اشاروں کے استعمال کو مسترد کرتے ہیں۔

جوہری اُمور سے راز ونیاز رکھنے والے موجودہ اور سابق حکام کے نزدیک محض دھمکیوں سے دشمن کے خوفزدہ ہو جانے کے بارے میں خیال آرائی بعض لوگوں کی حقائق سے ناسمجھی یا عدم آگاہی کا نتیجہ ہے۔

بریگیڈئیر (ر) نعیم سالک پاکستان نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے سیکریٹریٹ سٹرٹیجک پلانز ڈویژن میں 'آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ افئیرز' (انسداد و تخفیف اسلحہ سے متعلق امور) کے ڈائریکٹر کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ ملازمت کے دوران وہ ایک ماہر کی حیثیت سے بذات خود نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اعلی سطحی اجلاسوں میں شریک رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'بنیادی طور پر ڈیٹیرنس ریلیشنز کی بنیادی ضرورت کمیونیکیشن (بات چیت) ہے۔ دوسری طرف کو اس ڈیٹیرنٹ خطرے سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے مختلف طریقے ہیں جیسا کہ تیسرے فریق کے ذریعے اخباری بیانات، پریس کانفرنسز یا میزائل تجربات جیسے عملی مظاہر۔'

انڈیا

،تصویر کا ذریعہPIB

انھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں ہر کوئی بحران میں جوہری پالیسی کے بارے میں باتیں شروع کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں پس پردہ اتنا شور مچ جاتا ہے کہ جو اصل اشارہ دینا ہوتا ہے وہ اس شورشرابے میں گم ہو جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ابتدائی دنوں میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں ہم نے فیصلہ کیا کہ صرف صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ یا سیکریٹری خارجہ کو جوہری پالیسی پر بیانات دینے چاہییں۔ لوگوں کو نظم میں رکھنا بڑا مشکل ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'یہ لوگ آتش بازی اور جوہری بم میں فرق نہیں کر سکتے اور یہ ہمیشہ جوہری بم کے بارے میں بیانات دیتے ہیں۔ آخری بار بحران میں انڈین وزیراعظم نے انتہائی غیرذمہ دارانہ بیانات دیے۔ انڈین وزیراعظم کے پاس جوہری ہتھیار چلانے کا حتمی اختیار ہے۔ پہلے انھوں نے کہا کہ ہم نے یہ جوہری ہتھیار دیوالی کے لیے نہیں بنائے ہیں اور دوسری بار کہا کہ ہمارے پاس تمام جوہری ہتھیاروں کی ماں ہے۔'

ان کے مطابق 'میرے خیال میں عملی مظاہر بیانات سے زیادہ بڑے ڈیٹیرنٹ ہوتے ہیں۔ آپ کو یقینا یاد ہو گا کہ مئی 2002 میں جب بحران عروج پر تھا تو ایک ہفتے کی مدت میں چار یا پانچ میزائلوں کے تجربات ہوئے تھے۔ یہ فنی صلاحیت کا حقیقی اظہار تھا۔ یعنی ہمارے پاس اپنی دھمکی کو انجام دینے کی صلاحیت ہے۔'

بریگیڈئیر (ر) نعیم سالک کا کہنا تھا کہ کارگل بحران کے دوران سیکریٹری خارجہ شمشاد کا بیان 'پری میچور' (قبل از وقت) تھا۔ بریگیڈئیر (ر) نعیم سالک کے مطابق 'اس وقت تک ہمارا نیوکلیئر آپریشنلائزڈ (فعال) نہیں تھا۔'

جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ پھر انڈیا نے عالمی سرحد تک جنگ کیوں نہ بڑھائی؟ تو بریگیڈئیر (ر) نعیم سالک کا جواب تھا کہ 'انڈیا نے جنگ اس لیے نہیں بڑھائی کیونکہ کارگل بحران کے دوران عالمی حمایت انڈیا کے ساتھ تھی۔ وہ عالمی رائے عامہ کی حمایت اپنے ساتھ ہی رکھنا چاہتا تھا۔'

کیا انڈیا کی دباؤ کی سفارت کاری مطلوبہ نتائج کے حصول میں ناکامی سے دوچار ہوئی؟

پاکستان، جوہری ہتھیار

،تصویر کا ذریعہAFP

متجسس ذہن اکثر پوچھتے ہیں کہ پاکستان کے تناظر میں ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ فوج اور جوہری امور کے تجزیہ کار جوہری استعمال کے 'ڈیٹیرنٹ' کی افادیت پر بحث کرتے ہیں۔ جوہری ہتھیار انڈیا کے لیے ایک 'ڈیٹیرنٹ' کے طور پر کار آمد کیوں نہیں ہوتے؟

مثال کے طور پر اپریل 1999 میں جب پاکستانی فوجی دستے لائن آف کنٹرول سے انڈیا کی طرف داخل ہو رہے تھے تو پاکستانی فوجی قیادت کو یہ خوف کیوں محسوس نہیں ہوا کہ انھیں انڈیا کے جوہری ہتھیاروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ کیا یہ وہ وقت نہ تھا کہ جب انڈین جوہری ہتھیاروں کو پاکستان کو مہم جوئی سے روکنے کے لیے ایک 'ڈیٹیرنٹ' (خوف دلانے) کا کام کرنا چاہیے تھا؟

ان تمام سوالات کا جواب اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ انڈیا کو روایتی ہتھیاروں میں پاکستان پر برتری حاصل ہے۔ یہ روایتی برتری انڈین فوجی اور سیاسی قیادت کو سہولت کی سطح پر رکھتی ہے کہ وہ تنازع کے اولین مراحل میں جوہری آپشن کی طرف نہ جائیں۔

کارگل لڑائی کے معاملے میں انھوں نے اس مسئلے کو روایتی سطح پر نمٹ لیا تھا اور انھیں اپنے علاقے سے پاکستانی فوج کو نکالنے کا آسان ہدف پالنے میں کسی جوہری آپشن کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ اس حقیقت کے باوجود انڈیا کے اندر موجود غیرسنجیدہ سیاسی و مذہبی دایاں بازو لڑائی کے دوران پاکستان کے خلاف جوہری استعمال کی دھمکیوں سے باز نہ آیا۔

مزید پڑھیے

دوسری طرف انڈیا کے مقابلے میں پاکستان بنیادی طور پر اس پہلو سے کمزور ہے کہ 'سٹرٹیجک گہرائی' نہ ہونے سے وہ روایتی خطرے کی زد میں رہتا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہری مراکز، فوجی چھاؤنیاں اور صنعتی علاقے عالمی سرحد سے بالکل قریب ہیں۔ لہذا سٹرٹیجک گہرائی نہ ہونا اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ اپنی سرحدوں کے نزدیک کسی فوجی اجتماع پر پاکستان کی قیادت کیوں مضطرب ہوجاتی ہے۔

کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان سے تعلقات میں انڈین جوہری ہتھیار کوئی کردار ادا نہیں کرتے؟

انڈیا پاکستان

،تصویر کا ذریعہKAGENMI/GETTY IMAGES

فوجی تجزیہ نگار اور ماہرین 'ڈیٹیرنس' کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ 'شک یا نتائج کا خوف پیدا کر کے کوئی ایسا قدم اٹھانا جس سے دوسرے کو کسی کارروائی سے باز رکھا جائے۔' اسی سے ملتا جلتا ایک اور تصور فوجی تجزیہ نگار 'مجبوری یا لاچاری' کی اصطلاح سے بھی بیان کرتے ہیں۔

اس تصور کو ان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ 'ایک ریاست کی کسی دوسری ریاست کو عموماً سزا دینے کی دھمکی کے ذریعے حرکت میں آنے پر مجبورکرنے کی صلاحیت۔' باالفاظ دیگر 'ڈیٹیرنس' کے ذریعے ایک ریاست دوسری ریاست کو اپنے خلاف کارروائی کرنے سے روکتی ہے۔

'مجبوری' یا 'لاچاری' سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ ایک ریاست دوسری ریاست کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کوئی خاص حرکت یا اقدام کرے جیسا کہ انڈیا نے فوجی کارروائی کرنے کا خوف دلا کر پاکستان کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف بذات خود فوجی کارروائی کرے۔

لہذا 2002 میں انڈیا نے اپنے جوہری 'ڈیٹیرنٹ' کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو بعض وہ اقدامات کرنے پر مجبور کیا جو انڈیا کروانا چاہتا تھا۔ انڈین فوج نے بحران کے آغاز پر پنجاب کی سرحد کے ساتھ پرتھوی میزائل نصب کر دیے۔ اس بارے میں پوچھا گیا تو انڈین وزیر دفاع جارج فرنانڈس نے تصدیق کی کہ انڈین میزائل سسٹم اپنے مقامات پر نصب کر دیے گئے ہیں۔ پرتھوی جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا نظام ہے۔

جنوری 2002 میں بحران کے بیچ انڈیا نے 420 کلومیٹر فاصلے تک زمین سے زمین پر مار کرنے اور جوہری صلاحیت کے حامل اگنی ٹو کا تجربہ کیا۔ یہ وہ فاصلہ تھا جو تقریباً پاکستان کے تمام علاقوں کا احاطہ کرتا ہے۔ انڈین وزیر دفاع جارج فرنانڈس نے تجربے کو 'خامی سے پاک' قرار دیا تھا۔

پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کی طرف سے 'مجبور' کر دینے کی حکمت عملی کا زیادہ انحصار روایتی برتری پر ہے۔ اگر انڈین فوج کی نقل وحرکت اور جوہری 'ڈیٹیرنٹ' کی نمائش کا مقصد پاکستان کو عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور اور سرحد پار سے دراندازی کو روکنا ہی تھا تو پھر انڈین حکمت عملی ایک حد تک کامیاب رہی۔

تین سکیورٹی ماہرین پی آر چاری، سٹیون کوہن اور پرویز اقبال چیمہ نے 'فور کرائسیس اینڈ اے پیس پراسیس' (چار بحران اور ایک امن عمل) کتاب میں لکھا کہ 'جوہری ڈیٹیرنس کی حالت کے زیادہ بڑے حصے کی وضاحت (2002 میں) پاکستان کے اندر آپریشن نہ کرنے کی انڈین احتیاط سے ہوتی ہے، خاص کر یہ عیاں ہوا کہ سرحد پار دہشت گردی میں محض عارضی کمی واقع ہوئی تھی۔'

انڈین اصطلاح میں اپنے بچاؤ کی خاطر وار کرنے میں پہل یا سرجیکل سٹرائیک، اور پاکستان کا جوہری ڈیٹیرنٹ

جب انڈین فضائیہ پاکستانی علاقے میں گھس آئی اور بالاکوٹ میں نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کی تو فروری 2019 سے پاکستانی حکام اور رہنما اس خطرے کا بار بار ذکر کر رہے تھے کہ انڈیا ممکنہ طور پر پاکستان کے اندر حملہ کرنے میں پہل (پری ایمٹیو سٹرائیک) کرے گا۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کو 'پری ایمٹیو سٹرائیک' کا خوف سنہ 1998 کی اس تاریخ سے لاحق چلا آ رہا ہے جب امریکی فوج نے افغانستان کے اندر خوست کے مقام پر اسامہ بن لادن کے دہشت گرد کیمپ پر کروز میزائل سے حملے کیے تھے۔ یہ کروز میزائل بحیرہ عرب میں لنگر انداز امریکی جنگی بحری بیڑے سے داغے گئے تھے جو پاکستانی سرزمین کے اوپر سے اڑتے ہوئے افغانستان میں اپنے اہداف پر جا کر گرے۔

ماضی قریب میں سنہ 2016 میں اڑی سیکٹر میں حملے کے بعد پہلی بار تھا کہ انڈین افواج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کی۔ انڈین فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کے کمانڈو یونٹ کے دستے نے لائن آف کنٹرول پار کی اور دو درجن سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جو انڈینا علاقے میں داخل ہونے والے تھے لیکن اس سے پہلے ہی انڈیا نے کارروائی کر دی۔

دونوں مواقع پر پاکستانی اور انڈین رہنماوں کا رویہ واضح بتا رہا تھا کہ وہ کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتے۔ فوجی قیادت بیانات کے ذریعے ایک دوسرے کو خاصی بالغ نظری دکھا رہی تھی کہ وہ بحران کو طول دینے کے موڈ میں نہیں حالانکہ اڑی سیکٹر حملے سے ماحول بہت گرم تھا اور مبینہ طور پر انڈین فوج نے لائن آف کنٹرول پار کر کے سرجیکل سٹرائیک کی تھی۔

مختلف حکومتوں میں وزیر رہنے والے موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید اس خیال سے متفق ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے ہی پاکستان اور انڈیا میں جنگ نہیں ہوئی۔

شیخ رشید کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے انتہائی قریب رہے اور ان دونوں کی کابینہ میں شامل ہوتے ہوئے اور وہ جنوبی ایشیا میں فوجی اور جوہری بحران کے شاہد رہے ہیں۔

شیخ رشید کہتے ہیں کہ 'گذشتہ 20 سال میں پاکستان اور انڈیا میں جنگ صرف اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ دونوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں ورنہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان اس وقت بھی جھڑپیں جاری رہتی تھیں جب دونوں طرف مذاکرات ہو رہے ہوتے تھے۔۔۔ لاہور سربراہی اجلاس کے وقت بھی یہ صورتحال جاری تھی اور 1960 میں بھٹو اور اور سورن سنگھ میں بات چیت کے دوران بھی یہ ہو رہا تھا۔'