خوراک اور تیل کی قلت: سری لنکا میں سرکاری ملازمین کو پھل، سبزیاں اگانے کے لیے ایک دن کی اضافی چھٹی

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, پیٹر ہوسکنز
    • عہدہ, بزنس رپورٹر

سری لنکا کی حکومت نے سرکاری ملازمین کو ہفتے میں ایک دن کی اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد خوراک کی قلت کے خطرے کے پیش نظر پھل اور سبزیاں اگانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں تقریباً دس لاکھ افراد سرکاری ملازمین ہیں۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب دو کروڑ بیس لاکھ آبادی والا ملک اپنی 70 برس کی تاریخ میں بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔

مئی میں مہندا راجا پاکشے نے وزیر اعظم کے عہدے سے اس وقت استعفیٰ دے دیا تھا جب ان کے حامیوں کی پرامن مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جس نے 9 مئی کو تشدد کی لہر کو جنم دیا۔

وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے والے رانیل وکرما سنگھے نے کہا کہ ملک کے معاشی مسائل بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہوں گے۔ انھوں نے انڈیا سمیت بیرونی ممالک سے مالی مدد کی اپیل کی۔

وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے

زرمبادلہ ذخائر میں کمی کی وجہ سے سری لنکا کو خوراک، تیل اور ادویات جیسی ضروری اشیا کی درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سوموار کو سری لنکا کی حکومت نے اس تجویز کی باقاعدہ منظوری دی جس کے تحت سرکاری ملازمین کو اگلے تین ماہ تک ہر ہفتے میں ایک دن، جمعے کو، اضافی چھٹی دی جائے گی۔

سری لنکا کی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی وجہ سے دفاتر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ملازمین کی مدد کرنا بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ اس چھٹی کا استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے خاندان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سبزیاں اور پھل بھی اگائیں۔

آن لائن پورٹل پر حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ مناسب سمجھا گیا کہ سرکاری ملازمین کو ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دی جائے اور ان کو درکار سہولیات دی جائیں تاکہ وہ زرعی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے گھر کے باغیچے میں یا پھر کسی اور مناسب جگہ پر مستقبل میں خوارک کی قلت کے خطرے کے پیش نظر کام کر سکیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ادھر سوموار کے دن ہی امریکہ کی جانب سے سری لنکا کی مدد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

سری لنکا کے نئے وزیر اعظم وکرما سنگھے سے ٹیلیفون پر بات چیت کے بعد امریکی سیکرٹری خارجہ انتونی بلنکن نے کہا کہ ’امریکہ سری لنکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔‘

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں وزیر اعظم وکرما سنگھے نے کہا تھا کہ سری لنکا کو رواں مالی سال کے دوران انتہائی ضروری درآمدات کے لیے پانچ ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

سری لنکا کی حکومت اس وقت معاشی امدادی پیکج کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات میں مصروف ہے اور آئی ایم ایف کا وفد آئندہ سوموار کو کولمبو پہنچنے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بین الاقوامی منڈی میں افراط زر، سری لنکا کی مقامی کرنسی کی مالیت میں کمی اور کیمیکل فرٹیلائزر پر پابندی (جس کو اب ختم کر دیا گیا ہے) کی وجہ سے اپریل تک کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں 57 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

گزشتہ مہینے کے اختتام پر سری لنکا کے وزیر زراعت مہندا امرا ویرا نے کسانوں سے کہا کہ وہ زیادہ چاول اگائیں کیوںکہ یہ واضح ہے کہ خوارک کی صورتحال خراب ہونے والی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم درخواست کرتے ہیں کہ کسان اگلے پانچ سے دس دن کھیتوں میں جا کر چاول کاشت کریں۔‘

سری لنکا کی حکومت نے معاشی مسائل پر قابو پانے کے لیے ٹیکس میں بھی اضافہ کیا ہے۔