پیغبراسلام کے بارے میں متنازع بیان اور انڈیا میں بڑھتی کشیدگی: ’نوپور شرما کی مقبولیت بہت بڑھ گئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
’بھارتیہ جنتا پارٹی نے اگرچہ نوپور شرما کو معطل کر دیا ہے اور خود کو ان سے الگ کر لیا ہے لیکن بی جے پی کے جو حامی ہیں، جو ان کے نظریے کے لوگ ہیں ان کے لیے نوپور شرما ہیروئن ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ معطل تو ہو گئی ہیں لیکن انھوں نےمستقبل کی سیاست میں اپنی جگہ بنا لی ہے ۔وہ بہت مقبول ہو گئی ہیں۔‘
یہ خیالات ہیں تجزیہ کار آرتی جیرتھ کے۔
انڈیا کے ٹی وی چینلز کے بحث و مباحثوں اور اخبارات کے مضامین میں کئی روز تک یہ بحث ہوتی رہی کہ بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما اور ’آلٹ نیوز‘ کے صحافی محمد زبیر کے خلاف ایک ہی نوعیت کے الزامات ہونے کے باوجود زبیر کو گرفتار کر لیا جاتا ہے جبکہ نوپور شرما کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ یہ سوالات کئی حلقوں سے کیے گئے کہ آخر ایک ہی قانون میں دونوں کے خلاف یکساں قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
سپریم کورٹ کے وکیل نظام پاشا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زبیر کے خلاف ان کی ایک چار برس پرانی ٹویٹ کے بارے میں ایک گمنام اکاؤنٹ کی شکایت پر رپورٹ درج کی گئی اور گرفتار کر لیا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایک قانونی پہلو یہ بھی ہے کہ کسی معاملے میں تین برس کے بعد کسی ایسے جرم میں جس کی سزا تین برس یا اس سے کم ہو اس میں ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی۔ محمد زبیر کے خلاف جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ قانونی اعتبار سے رجسٹر ہی نہیں ہونی چاہئیے تھی۔‘
لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان شازیہ علمی کہتی ہیں کہ نوپور نے وہی کہا تھا جو ایک مستند کتاب بخاری شریف میں درج ہے۔
نوپور نے خود اس کے بارے میں معافی مانگ لی اس کے باوجود ان کے خلاف کاروائی کر تے ہوئے پارٹی نے انھہیں معطل کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے برعکس اگر آپ زبیر کو دیکھیں تو انھوں نے ایک بار نہیں کئی بار ہندو دیوی دیوتاؤں کے بارے میں غلط باتیں کہیں، ان کا مذاق اڑایا۔‘

،تصویر کا ذریعہMOHAMMAD ZUBAIR
’اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے مذہب کا احترام ہو تو آپ کو بھی اںڈیا جیسے کثیر المذہب ملک میں دوسرے مذاہب کا احترام کرنا چاہیے۔ جہاں تک نوپور شرما کی بات ہے تو ان کےخلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ان کے معاملے میں تفتیش ہو رہی ہے۔ قانون اپنا کام کررہا ہے۔ مجھے اپنے ملک کے قانون پر پورا بھروسہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تجزیہ کار آرتی جیرتھ زبیر کی گرفتاری کا ذکر کرتی ہوئے کہتی ہیں کہ ’زبیر نے اپنی گرفتاری پر کہا تھا میری غلطی تو میرا نام ہے ۔ لیکن انہیں صرف اس لیے نہیں گرفتار کیا گیا کہ وہ مسلمان ہیں۔ یہ تو ایک پہلو ہے۔‘
’دوسرا پہلو جو اس سے بھی اہم ہے وہ ہے جھوٹی یا فیک خبروں کو سامنے لانے کے لیے انھوں نے جو آلٹ نیوز قائم کی جس نے فیک خبروں کو سامنے لانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے یہ پریس فریڈم پر بھی حملہ ہے۔ اظہار کی آزادی اس وقت دباؤ میں ہے۔ زبیر ہوں، تیستا سیتلواڑ جیسی سول رائٹس کارکن ہوں، ایسے بہت سے لوگوں کو ان کی پرانی تحریروں، ٹویٹس یا بیانات کی بنیاد پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس وقت پوری سول سوسائٹی اور پریس پر حملہ ہو رہا ہے۔‘
لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان شازیہ علمی کہتی ہیں کہ اس وقت جو ملک کی فضا خراب ہے، اسے نام نہاد سیکولر جماعتوں نےخراب کیا ہے۔
’مسلسل جھوٹ بولا گیا کہ ملک کا مسلمان خطرے میں ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان خطرے میں ہے کہ ملک کا ہندو خطرے میں ہے۔ آپ نے دیکھا کہ اودے پور میں ایک ہندو درزی کو دو مسلم نوجوانوں نے کس بے رحمی سے قتل کیا۔ اس طرح کے اسلامی سخت گیر رویے سے جتنا ہندوؤں کو خطرہ ہے اتنا ہی خطرہ عام مسلمانوں کو بھی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTwitter
تجزیہ کار آرتی جیرتھ کہتی ہیں کہ بی جے پی کی حکومت عوامی موڈ دیکھ کر کام کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے فیصلے اور اقدام سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر پبلک موڈ سے متعین ہوتے ہیں۔
’بی جے پی نے نوپور شرما کو پارٹی سے معطل تو کر دیا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں حکومت ان کے خلاف مزید قدم اٹھانے سے ہچکچا رہی ہے کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ گرفتاری کی صوررت میں نوپور کے دفاع میں کوئی تحریک نہ شروع ہو جائے اور یہ آگ مزید پھیل جائے۔ حکومت اس مرحلے پر مزید کسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہتی۔‘
آرتی کہتی ہیں انڈیا کا معاشرہ اور سیاست بری طرح منقسم ہو چکی ہے۔ وہ غصہ ہو یا مایوسی، انڈیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کا تعین عوامی موڈ ہی کر رہا ہے۔
تاہم آرتی جیرتھ کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال کے بارے میں حکومت بھی فکر مند ہے۔ وہ صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں بھی پتہ ہے اگر سماجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ افراتفری اور نراجیت کی طرف لے جائےگا ۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں حکومت کے اندر بھی کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ تو ایک شیر ہے، اسے آپ کیسے روکیں گے ۔ یہ تو دیکھنے والی بات ہوگی کہ حکومت اسے روک پاتی ہے کہ نہیں۔‘










