پیغمبر اسلام کی مبینہ توہین پر ہندو درزی کا قتل: جودھ پور، الور اور اب اودے پور، راجستھان کے شہروں میں کیا ہو رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
’یہ 1970 کی بات ہے۔ یہاں ایک قبرستان کی زمین کو لے کر تنازعہ ہوا تھا۔ اس وقت حکومت نے فوری ایکشن لیا تھا۔ آٹھ دن تک علاقے میں کرفیو رہا تھا۔‘
’اس کے 22 سال بعد 1992 میں یہاں دو دن تک تناؤ کا ماحول رہا۔ پھر آپ کو 2017 کا شمبھولال ریگر کا واقعہ یاد ہوگا، جب قتل کی ویڈیو اسی طرح وائرل ہوئی تھی۔ اب 5 سال بعد ایسا دن دیکھنے کو ملا ہے۔‘
راجستھان کے شہر اودے پور کے اوگراسین راؤ کی عمر 65 سال ہے۔ وہ اودے پور کے صحافیوں میں علاقے کے پہلے صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
جب بی بی سی نے ان سے منگل کو اودے پور میں ہونے والے قتل کے واقعے کے بارے میں پوچھا تو پرانی باتوں کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس شہر میں ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘
راجستھان کا اودے پور شہر یوں تو خوبصورت جھیلوں کے باعث پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اس خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے ہیں لیکن انڈیا کی شمالی ریاست راجستھان میں منگل کو دو مسلمان نوجوانوں کے ہاتھوں ایک ہندو درزی کے مبینہ قتل کے بعد مذہبی تناؤ کے باعث حکومت نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
منگل کو اودے پور میں کیا ہوا تھا؟

،تصویر کا ذریعہPTI
کنہیا لال نامی درزی کو راجستھان کے شہر اودے پور میں منگل کو دو مسلمانوں نے قتل کیا تھا جنھوں نے اس واردات کی ویڈیو بھی بنائی اور پھر اسے آن لائن پوسٹ کر دیا۔ پولیس نے دونوں کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ راجستھان پولیس نے میڈیا سے درخواست کی ہے کہ قتل کی ویڈیو کو نشر نہ کیا جائے جو ’بہت بھیانک ہے۔‘
ملزمان نے دعویٰ کیا کہ مقتول کی جانب سے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان دینے والی نوپور شرما کی حمایت میں فیس بک پر پوسٹ لگائی تھی جس کا بدلہ لینے کے لیے انھوں نے کنہیا لال کو قتل کیا۔
ایک اور ویڈیو میں ملزمان نے قتل کی واردات پر فخر کرتے ہوئے اور چھریاں لہراتے ہوئے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی دھمکیاں دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق قتل سے تین ہفتے قبل کنہیا لال کو پولیس نے 'مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے' کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد کنہیا لال نے جان کے خطرے کے پیش نظر پولیس سے حفاظت کی درخواست بھی کی تھی۔
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ایک مقامی پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’پولیس نے مقامی مسلمانوں اور ہندووں کو بلا کر امن کے لیے ایک ملاقات کا اہتمام کیا جس کے بعد کنہیا لال نے کہا تھا کہ ان کو کسی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔‘
انڈیا کی حکومت نے علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے جب کہ وفاقی حکومت نے انڈیا کی نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی، جسے اعلی ترین انسداد دہشت گردی ایجنسی مانا جاتا ہے، کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس واردات کے دوران دونوں افراد کنہیا لال کی دکان میں خریدار کے طور پر داخل ہوئے اور انھوں نے اس وقت قتل کیا جب ان کا ناپ لیا جا رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA/BBC
مقتول پر الزام ہے کہ انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نور پور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی تھی جنھوں نے گزشتہ ماہ پیغمبر اسلام کے بارے میں ایک متنازع بیان دیا تھا۔
بہت سے اسلامی ممالک نے نوپور شرما کے متنازع بیانات پر مذمتی بیانات جاری کیے اور انڈیا سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ قطر نے انڈیا سے معافی کا مطالبہ کیا۔
بڑے پیمانے پر سامنے آنے ردعمل کے جواب میں انڈیا نے نوپور شرما کی بی جے پی سے رکنیت کو معطل کر دیا گیا تھا۔
اس تنازعے کے بعد انڈیا میں بھی پر تشدد مظاہرے ہوئے جن میں پتھراؤ ہوا اور سرکاری املاک کو نقصان ہوا۔

اس وقت اودے پور میں کیا صورت حال ہے؟
نتن شری واستوا، بی بی ہندی، اودے پور
اودے پور میں ایک ڈراونا سا سناٹا ہے۔ علاقے میں ڈر ہے، خوف ہے۔ ہر جگہ پولیس موجود ہے اور سب دکانیں بند ہیں۔ شہر میں اس وقت کرفیو نافذ ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
اس وقت یہاں اکثریتی ہندو اور اقلیتی مسلمان لوگوں کے درمیان تناؤ کافی واضح ہے جو اس گنجان آبادی والے شہر میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔
کنہیا لال کی آخری رسومات، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، کے دوران بھی نہایت سخت سکیورٹی تھی۔
یہاں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کو نہیں لگتا تھا کہ اودے پور میں ایسا کبھی ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ کیمرا پر بات کرنے سے کترا رہے ہیں لیکن جن لوگوں نے ہم سے بات کی، اس سے یہ بات واضح تھی کہ سوسائٹی مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو چکی ہے۔
جے پال ورما مارکیٹنگ ایگزیکٹیو ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ہندو اکثریتی ملک میں رہتے ہیں اس لیے یہاں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے کہوں گا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔‘
یہاں کی آبادی کا بیشتر حصہ اچانک کرفیو کے لیے تیار نہیں تھا اور اسی لیے اب اکثریت کو روز مرہ کی بنیادی اشیا کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی مکیش گردیا کہتے ہیں کہ ’دیہاڑی دار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ لوگ ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں سامان کے لیے۔ آج صبح امتحان بھی ہونا تھا تو باہر سے آنے والے طالب عملوں کو ناشتے کے لیے کچھ نہیں ملا۔ جو بھی ہوا وہ بہت بڑا صدمہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے
فرقہ وارانہ کشیدگی
ویسے حالیہ چند مہینوں میں راجستھان سے فرقہ وارانہ کشیدگی کی خبریں پہلے سے زیادہ آرہی ہیں۔
اس طرح کی پہلی خبر کرولی سے آئی، جہاں 2 اپریل کو نئے سال کے موقع پر ہندو تنظیموں نے بائیک یاترا نکالی جس میں 22 افراد زخمی ہوئے۔
دوسری بار 3 مئی کو عید کے موقع پر جودھ پور میں فرقہ وارانہ کشیدگی دیکھی گئی۔ یہ سارا تنازعہ جھنڈوں اور لاؤڈ سپیکر کو ہٹانے سے شروع ہوا جس کے بعد بات کرفیو کے نفاذ تک جا پہنچی۔ اس میں تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے بعد الور میں بھی کشیدگی کی صورتحال تھی اور اب اودے پور میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا جس کے بعد سے علاقے میں کشیدگی ہے۔
کچھ ماہرین ان تمام واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ جوڑ کر دیکھنے کی بات کر رہے ہیں۔
ویسے راجستھان میں فرقہ وارانہ تشدد کا ریکارڈ پہلے کبھی ایسا نہیں تھا۔
2014 سے، NCRB فرقہ وارانہ تشدد کے اعداد و شمار الگ سے شائع کر رہا ہے۔
تب راجستھان میں وسندھرا راجے سندھیا کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ 2018 میں کہانی بدل گئی اور اشوک گہلوت کی حکومت بن گئی۔
دونوں کے دور حکومت کے اعداد و شمار کم و بیش ایک ہی کہانی بتاتے ہیں
سال 2020 میں، ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد کے تین واقعات رپورٹ ہوئے، جب ریاست زیادہ تر وقت لاک ڈاؤن میں رہی۔
اس بار کچھ ہی مہینوں کے دوران اتنے فرقہ وارانہ فسادات کی خبر راجستھان کے لیے کتنی نئی ہے؟
اس پر ریاست کے سینئر صحافی وویک بھٹناگر کا کہنا ہے کہ ان تمام معاملات میں ایک پیٹرن نظر آتا ہے۔
راجستھان کی روایت کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’ایک سماج کے طور پر، راجستھان کے لوگ لڑائی جھگڑے نہیں کرتے، اس معاشرے میں لوگوں میں غرور نہیں دیکھا جاتا، ہاں، بدلے کے طور پر کچھ کرنا الگ بات ہے۔ لیکن کرولی میں جو بھی ہوا، جودھ پور میں ہوا، جو الور میں ہوا اور اب اودے پور میںجو ہوا، یہ راجستھان کے لوگوں کی فطرت نہیں ہے، یہ انتقام نہیں ہے۔‘
’جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک فریم ورک کے طور پر، ٹول کٹ کے طور پر ہو رہا ہے، یہ ہو رہا ہے۔ اصل میں، راجستھان کے امن و سکون کو خراب کرنا چاہتا ہے۔‘
اتنی بڑی بات وہ کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں ’اگر ایک واقعہ ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے لیکن ایک کے بعد ایک واقعہ ہونے اور دن دیہاڑے کسی کو مارنے کے لیے ایک ذہنیت کی ضرورت ہے، تربیت کی ضرورت ہے۔ میں یا آپ یہ نہیں کر سکتے۔ ایسی ذہنیت ایک دن میں نہیں بنتی، یہ سوچنے کی بات ہے، تو اس میں ایک پیٹرن نظر آتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
کنہیا لال قتل کیس اور ردعمل
انڈیا میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر تمام رہنماوں نے اس کی مذمت کی ہے۔
راجستھان کے سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے، جن کا تعلق بی جے پی سے ہے، نے کانگریس کے وزیر اعلی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’ریاست میں مذہبی جنونیت اور تشدد کی کیفیت ہے۔‘
بی جے پی کے چند رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ اس قتل کے خلاف دارالحکومت دلی میں مارچ کریں گے۔
کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ ان کو ’اس قتل سے بہت صدمہ پہنچا۔‘ انھوں نے حملہ آوروں کو جلد از جلد سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انڈیا کی چند ممتاز مسلمان تنظیموں نے بھی اس قتل کی مذمت کی ہے۔ آل انڈیا پرسنل لا بورڈ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انڈین قوانین کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
ایک بیان میں آل انڈیا پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ ’کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور کسی کو بھی مجرم قرار دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ یقینا ایک انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔‘









