وہ موقع جب انڈیا، پاکستان کی وجہ سے او آئی سی کا رکن نہیں بن سکا

فخرالدین علی احمد

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES

،تصویر کا کیپشنفخرالدین علی احمد
    • مصنف, پردیپ کمار
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپور شرما کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں متنازع بیان کے بعد عرب لیگ کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

سب سے پہلے قطر نے اس معاملے پر غصے کا اظہار کیا جس کے بعد اسلامی تعاون کی تنظیم کے دیگر ارکان سعودی عرب، ایران، مالدیپ اور افغانستان نے بھی قطر کی پیروی کرتے ہوئے انڈیا پر تنقید کی اور مسلمانوں سے معافی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان ممالک کے ردِ عمل کی وجہ سے ہی بی جے پی کو اپنی ترجمان کے خلاف اقدامات کرنے پڑے۔

انڈیا کے عرب ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رہے ہیں مگر یہ کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ عرب ممالک اور او آئی سی کے دیگر ممالک نے انڈیا کے خلاف ایسی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

ویسے اس سے 53 سال قبل بھی انڈیا کو او آئی سی ممالک سے اس سے بھی زیادہ سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یہ سنہ 1969 تھا جب او آئی سی کی تشکیل عمل میں آئی۔ اس وقت گربچن سنگھ مراکش میں انڈیا کے سفیر تھے اور اُنھوں نے ہی او آئی سی کے ابتدائی اجلاس میں انڈیا کی نمائندگی کی تھی۔

گربچن سنگھ نے اس دور کا پورا احوال انڈین سفارتکاروں کی تنظیم کے جریدے انڈین فارن افیئرز جرنل میں رقم کیا ہے۔ اپریل تا جون 2006 کے شمارے میں رباط اسلامی سربراہی اجلاس (1969) کے حوالے سے ان سے گفتگو پر مبنی ایک مضمون شائع ہوا تھا۔

16 صفحات پر مبنی یہ پوری دستاویز سوال و جواب کی صورت میں ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 21 اگست 1969 کو ایک آسٹریلوی شخص نے یروشلم میں اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد الاقصیٰ پر حملے کی کوشش کی جس کے بعد عرب وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس طلب کر لیا گیا۔ تین دن کے اندر 24 اگست کو یہ اجلاس مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقد ہوا۔

اسی اجلاس میں تمام اسلامی ممالک کے اجلاس کا تصور پیش کیا گیا جو آٹھ سے نو ستمبر 1969 تک رباط میں ہوا۔ اس میں شرکت کا اہل ہونے کے لیے دو شرائط رکھی گئیں، ایک تو یہ کہ وہ مسلم اکثریتی ملک ہو اور دوسرا اس کا سربراہِ مملکت بھی ایک مسلمان ہو۔

پاکستان نے انڈیا کو عالمی سطح پر ایک ہندو ملک ثابت کرنے کی کوشش کی تھی مگر پاکستان اس میں کامیاب نہیں ہوا اور انڈیا کو ایک سیکیولر ملک تسلیم کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد بھی انڈیا میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد تھے۔ سنہ 1969 میں انڈیا عالمی سطح پر مسلم آبادی کے حساب سے دوسرا بڑا ملک تھا۔

سنہ 1969 میں اسلامی ممالک کا یہ سربراہی اجلاس انڈیا کے لیے پہلا موقع نہیں تھا جب وہ کسی مسلمان ممالک کے اجلاس میں شریک ہو رہا ہو بلکہ وہ پہلے بھی چار مرتبہ ایسے اجلاسوں میں شریک ہو چکا تھا۔

اسلامی ممالک کا سربراہی اجلاس

،تصویر کا ذریعہAMER HILABI/ GETTY IMAGES

تاہم یہ بات دلچسپ ہے کہ انڈیا کے پہلے وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو نے سنہ 1955 میں یہ تعین کر دیا تھا کہ انڈیا اسلامی ممالک کی کسی تنظیم کا حصہ نہیں بنے گا کیونکہ اُن کے مطابق اس طرح کی تنظیموں میں سیاسی سرگرمیوں کو مذہبی لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔

مگر سنہ 1964 تک اُن کی زیرِ قیادت انڈیا نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا کیونکہ انڈیا نہیں چاہتا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پاکستان کے لیے دستیاب رہیں۔

رباط میں مسلم ممالک کے اجلاس سے قبل انڈیا نے 26 دسمبر 1964 سے پانچ جنوری 1965 تک چھٹی مسلم کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

اس کے بعد انڈیا سے پانچ مسلم رہنماؤں کے ایک گروہ نے پہلی ایفروایشیائی اسلامی کانفرنس میں شرکت کی جو چھ سے 14 مارچ 1965 تک باندونگ میں منعقد ہوئی تھی۔ اس وقت مانا جا رہا تھا کہ یہ مبینہ پاکستانی پروپیگنڈے کا جواب ہے۔

اس کے بعد 17 سے 24 اپریل 1965 تک انڈیا کی ایک ٹیم نے مکہ میں غیر سرکاری تنظیم مسلم ورلڈ لیگ کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔ حالانکہ یہ اجلاس غیر سرکاری تھا مگر اس کے باوجود اس کا دعوت نامہ صدر کو آیا تھا اور اُن ہی کے نامزد کردہ افراد اس اجلاس میں گئے تھے۔

کیا انڈیا کو رباط کانفرنس کی دعوت دی گئی تھی؟

اس وقت مراکش میں انڈیا کے سفیر گربچن سنگھ نے بتایا کہ 22 ستمبر 1969 کو شام ساڑھے پانچ بجے اس اجلاس کی افتتاحی تقریب رباط میں ہلٹن ہوٹل میں منعقد کی گئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’اگلے دن صبح 11 بجے مجھے مراکش کے چیف آف پروٹوکول کی کال آئی۔ پھر وہ مجھے وزیرِ خارجہ احمد لراکی کے پاس لے گئے جنھوں نے مجھے بتایا کہ ویسے تو اجلاس شروع ہو چکا ہے مگر ہم سب نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ انڈیا کو بھی اس میں اپنا سرکاری وفد بھیجنا چاہیے۔‘

گربچن سنگھ کہتے ہیں کہ اُنھوں نے صرف ایک سوال پوچھا: ’کیا پاکستان انڈیا کو دعوت دینے پر راضی ہے؟‘

اُنھیں اثبات میں جواب دیا گیا۔

اب گربچن سنگھ کے سامنے انڈین وفد کو بلانے کی مشکل درپیش تھی۔ ایسی صورتحال میں احمد لراکی نے مشورہ دیا کہ اگر یورپ میں انڈیا کا کوئی وفد موجود ہے تو اُنھیں مراکش بلا لیا جائے۔

الجزائر کے رہنما اور لیبیا کے رہنما معمر قذافی 1969 رباط میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنالجزائر کے رہنما اور لیبیا کے رہنما معمر قذافی 1969 رباط میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں

گربچن سنگھ نے وزیرِ خارجہ لراکی کو بتایا کہ اُنھوں نے انڈین حکومت سے وفد بھیجنے کی درخواست کی ہے تاہم یہ ٹیم اگلے دن ہی رباط پہنچ پائے گی۔

گربچن سنگھ نے یہ بھی مشورہ دیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالعلیم کو مدعو کیا جائے جو اس وقت مراکش میں ہی تھے۔

مگر احمد لراکی نے اُن سے کہا کہ بہتر ہو گا کہ سرکاری وفد اس میں حصہ لے اور چونکہ آپ یہاں سفیر ہیں، اس لیے آپ کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔

گربچن سنگھ کو وزارتِ خارجہ سے اس کے لیے اجازت لینی تھی چنانچہ وہ واپس اپنے دفتر گئے اور یہ سب سیکرٹری خارجہ کیول سنگھ کو بتایا۔

کیول سنگھ نے گربچن سنگھ کو کانفرنس میں شرکت کی اجازت دے دی۔ گربچن سنگھ نے ڈاکٹر عبدالعلیم اور اُن کے سیکرٹری عشرت عزیز کے ساتھ اس اجلاس میں شرکت کی۔

گربچن سنگھ کے مطابق یہ تمام باتیں لراکی نے شام کی پریس کانفرنس میں بھی دہرائیں اور اگلے دن یہ اخبارات میں شائع ہوئیں۔

گربچن سنگھ کی اس بات کی تصدیق او آئی سی کے 40 سال مکمل ہونے پر شائع ہونے والی کتاب ’نئی صدی میں اسلامی دنیا‘ سے بھی ہوتی ہے۔ یہ کتاب ترک سکالر اور سفارت کار اکمل الدین احسان اوغلو نے لکھی، جو سنہ 2005 میں او آئی سی کے پہلے منتخب سیکرٹری جنرل تھے۔

نو ابواب پر مشتمل اس کتاب کا ایک اہم حصہ او آئی سی کے افتتاحی اجلاس کا ہے اور یہ کہ جب انڈیا بانی رکن کی حیثیت گنوا بیٹھا تھا۔

گربچن سنگھ جب اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو اُن کا استقبال افغانستان اور سوڈان کے وزرائے خارجہ نے کیا۔ اُنھوں نے شاہِ ایران اور سعودی فرمانروا سے بھی اپنا تعارف کروایا۔

وہ کہتے یہں کہ جب اُنھوں نے پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمران یحییٰ خان کو اپنا تعارف کروایا تو وہ بہت پرسکون تھے۔

یحییٰ خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصدرِ پاکستان یحییٰ خان نے اعلان کیا تھا کہ اگر انڈین وفد نے اس اجلاس میں شرکت کی تو پھر وہ اس میں شریک نہیں ہوں گے

شام پانچ بجے مراکش کے بادشاہ نے انڈیا کے وفد کا استقبال کیا اور کہا کہ اگلے دن انڈین وفد اجلاس میں شرکت کرے گا۔

جب گربچن سنگھ کو اجلاس سے خطاب کرنے کا موقع ملا تو اُنھوں نے بتایا کہ انڈیا کے صنعتی ترقی کے وزیر فخرالدین علی احمد رباط کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

یہ اجلاس رات 10 بجے تک جاری رہا اور انڈیا کے خلاف تب تک کوئی بات نہیں کی گئی مگر 24 ستمبر کی صبح کو احمد لراکی نے ایک مرتبہ پھر گربچن سنگھ سے ملنے کے لیے کہا اور اُنھیں بتایا کہ کچھ رکن ممالک احمد آباد فسادات کے باعث انڈیا کی شمولیت پر معترض ہیں۔ اُنھوں نے انڈین وفد کو صبح کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے لیے کہا۔

گربچن سنگھ دوپہر ساڑھے تین بجے انڈین وفد کو وصول کرنے کے لیے تیار ہونے لگے مگر اسی دوران اُنھیں پاکستانی صدر کی ناراضگی کا علم ہوا۔ اُنھیں جو معلومات ملیں اس کے مطابق صدرِ پاکستان یحییٰ خان نے اعلان کیا تھا کہ اگر انڈین وفد نے اس اجلاس میں شرکت کی تو پھر وہ اس میں شریک نہیں ہوں گے۔

اس کی وجہ سے صبح کا اجلاس دوپہر ایک بجے تک شروع نہیں ہو سکا۔ کئی سربراہانِ مملکت نے یحییٰ خان سے بات کرنے کی کوشش مگر وہ فون پر دستیاب نہیں تھے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایران اور سعودی عرب کے سربراہان نے بھی ان سے ملاقات کی کوشش کی تاہم اُنھوں نے اس حوالے سے ملنے سے انکار کر دیا۔

ساڑھے تین بجے فخرالدین علی احمد کی قیادت میں ہندوستانی وفد رباط پہنچا اور ان لوگوں کا سرکاری استقبال کیا گیا۔ جب وہ مقررہ جگہ پہنچے تو مراکش کے شاہ حسن نے فخرالدین علی احمد کو سلیوٹ کیا۔

اس کانفرنس کے چیئرمین کی حیثیت سے شاہ حسن نے فخرالدین علی احمد کو احمد آباد فسادات کے باعث کچھ ارکان کی مخالفت کے بارے میں بتایا اور پوچھا کہ کیا انڈیا اس اجلاس میں صرف مبصر کے طور پر شرکت کر سکتا ہے۔ انڈیا نے یہ بات تسلیم نہیں کی۔

جب پاکستانی صدر اپنی بات پر ڈٹ گئے

اس کے بعد یہ تجویز دی گئی کہ انڈیا کو رضاکارانہ طور پر اس اجلاس سے الگ ہو جانا چاہیے۔ فخرالدین علی احمد نے واضح طور پر کہا کہ کیونکہ وہ بہت مختصر نوٹس پر سرکاری دعوت نامے پر آئے ہیں، اس لیے انڈیا یہ تجویز قبول نہیں کرے گا۔

گربچن سنگھ کے مطابق افغانستان، ملائیشیا اور نائجر جیسے ممالک کے سربراہان رات کے 8 بجکر 20 منٹ پر انڈیا کے وفد سے ملنے آئے۔

او آئی سی

،تصویر کا ذریعہINDIAN FOREIGN AFFAIRS JOURNAL

ان لوگوں نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے انڈین وفد سے مدد مانگی۔ پاکستان کی جانب سے انڈیا کی مخالفت کی کئی وجوہات بتائی جانے لگیں، جن میں احمد آباد میں فسادات، ابتدائی اجلاس میں انڈین وفد میں گربچن سنگھ جیسے سکھ سرداروں کی موجودگی اور ملاقات کے لیے حکومتی وفد کی آمد کو ان وجوہات میں شمار کیا گیا۔

لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ جب انڈیا کو سرکاری دعوت کا معاملہ پاکستان پہنچا تو اصغر خان، ذوالفقار علی بھٹو اور ممتاز دولتانہ جیسے لیڈروں نے شدید مخالفت کا اظہار کیا جس کے بعد یحییٰ خان کو اپنے سیاسی مستقبل کے لیے خطرہ محسوس ہوا۔ اس کی نشاندہی پاکستان ٹائمز نے 25 ستمبر 1969 کو اپنے اداریے میں بھی کی تھی۔

لیکن اس دن جو ہوا اس کا تذکرہ پاک فضائیہ کے سکواڈرن لیڈر اور بعد میں سفارتکار بننے والے ارشد سمیع خان نے اپنی یادداشت ’تھری پریذیڈنٹس اینڈ این ایڈ‘ میں کیا۔ معروف گلوکار عدنان سمیع کے والد اور سنہ 1965 کی پاکستان انڈیا جنگ میں اہم کردار ادا کرنے والے ارشد سمیع خان کو سنہ 2012 میں بعد از مرگ پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا تھا۔

ان کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ایوب خان، یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو یعنی تین صدور کے اے ڈی سی رہے۔

انھوں نے اپنی یادداشت میں لکھا کہ ’رباط میٹنگ میں جب انڈین وفد سے بات کی گئی تو یحییٰ خان نے کوئی احتجاج نہیں کیا لیکن رات کو تین پاکستانی صحافی ان سے ملنے آئے اور ان تینوں نے ان کو اپنا مؤقف بدلنے کا مشورہ دیا۔‘

’اس کے بعد وہ اگلی صبح ہوٹل کے کمرے سے نہیں نکلے اور رباط سے واپس لوٹنے کی بات کی۔ اگر وہ واپس آ جاتے تو اس بیٹھک کا کوئی مطلب ہی باقی نہ رہتا کیونکہ اس وقت پاکستان دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک تھا۔‘

اس سارے تنازعے کے باعث 24 ستمبر کو کوئی سیشن میٹنگ نہیں ہوئی جس کے بعد یہ ملاقاتیں 25 ستمبر کو کرنے پر اتفاق ہوا لیکن انڈین ٹیم کو بتایا گیا کہ 25 ستمبر کو کوئی میٹنگ نہیں ہو رہی۔

جب انڈیا کے وفد کو معلوم ہوا کہ میٹنگ 4 بجے سے ہو رہی ہے تو انھوں نے خط لکھ کر منتظمین سے شرکت کے بارے میں پوچھا لیکن ان کو کوئی جواب نہیں ملا۔

بعد ازاں انڈین وفد کی غیر موجودگی میں پانچ بجے ہونے والے اجلاس میں اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کی تشکیل کی تجویز منظور کی گئی۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ انڈیا کی مسلم کمیونٹی نے ابتدائی میٹنگ میں حصہ لیا جبکہ فخرالدین علی احمد کی قیادت میں جانے والا وفد انڈیا کا سرکاری وفد تھا۔

یہ انڈین دستے کے لیے شرمندگی کا باعث تھا کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب کسی بھی ملک کو بین الاقوامی سطح پر مدعو کیا گیا لیکن کسی بھی میٹنگ میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی لیکن 24 ستمبر سے 26 ستمبر تک انڈین وفد مکمل طور پر مراکش حکومت کا مہمان رہا۔

انڈین پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اندرا گاندھی کی حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ تب تک انڈیا کی حکومت نے گربچن سنگھ کو رباط سے واپس بلا لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناندرا گاندھی

اس سارے واقعے میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوا تھا کہ عرب ممالک کے بہت قریب ہونے کے بعد بھی روس اور چین کو اسلامی ممالک کے پہلے اجلاس میں شرکت کا موقع نہیں ملا لیکن انڈیا کو کیسے ملا؟

اس کی ایک بڑی وجہ عرب ممالک کے ساتھ انڈیا کے تجارتی تعلقات اور انڈیا میں مسلمانوں کی بڑی آبادی تھی۔

اس حوالے سے 19 اکتوبر سنہ 1965 کو انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انڈیا کے متعدد مسلم رہنماؤں نے مراکش کے بادشاہ سے درخواست کی تھی کہ انڈیا کے مسلمان بھی مسجد اقصیٰ پر حملے کی کوشش کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ انڈیا کی وزارت خارجہ ابتدائی طور پر اس میٹنگ میں شرکت پر تیار نہیں تھی لیکن بعد میں انڈیا نے نئی دہلی میں عرب ممالک کے سفیروں سے کہا تھا کہ انڈیا کو اس میٹنگ سے دور نہیں رکھنا چاہیے۔

ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ سیکولر ہونے کا دعوی کرنے والا انڈیا اس اجلاس میں شرکت کے لیے تیار کیوں ہوا؟

اس حوالے سے انڈیا کے معروف سیاسی تجزیہ کار اور وکیل اے جی نورانی نے نیوز میگزین فرنٹ لائن میں اندرا گاندھی کی جانب سے لکھے گئے ایک خط کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ رباط میٹنگ مذہبی بنیادوں پر ہو سکتی ہے لیکن میٹنگ میں جن مسائل پر بات کی جائے گی وہ خالصتاً سیاسی معاملات ہیں۔

اے جی نورانی نے یہ بھی لکھا کہ اس وقت بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ انڈیا کی حکومت نے یہ قدم مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے اٹھایا تھا۔

ویسے سنہ 1962 میں چین کے ساتھ جنگ کے بعد بین الاقوامی سطح پر انڈیا کے لیے یہ دوسرا موقع تھا جب اس کی ساکھ کو اتنا نقصان پہنچا۔

لیکن سینیئر سفارتکار کے سی سنگھ، جنھوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں انڈیا کے سفیر کے طور پر برسوں کام کیا ہے، کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انڈیا تیزی سے سنبھل گیا اور آج بھی اس کے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔

رباط اجلاس کے صرف دو سال کے اندر اندرا گاندھی کی سفارتکاری کے سامنے پاکستان کے صدر یحییٰ خان کو بنگلہ دیش کی جنگ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور بنگلہ دیش کی تشکیل نے بین الاقوامی سطح پر انڈیا کو مضبوط کیا۔