ہیمو: ہندوستان کے ’نپولین‘ جن کی معمولی غلطی 14 سالہ اکبر سے شکست کا باعث بنی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
ہیمو انڈین ریاست ہریانہ میں ریواڑی کے رہنے والا تھے۔ ان کے سر عہدِ وسطیٰ کے ہندوستان میں حریف مسلم حکمرانوں کے درمیان مختصر وقت کے لیے 'ہندو راج' قائم کرنے کا سہرا جاتا ہے۔
انھوں نے اپنے پورے کرئیر میں کل 22 جنگیں جیتیں۔ اسی بنا پر بعض مورخین نے انھیں 'عہد وسطیٰ کے سمندر گپت' کا خطاب دیا ہے۔ ہیمو کو قرون وسطیٰ کا نپولین بھی کہا گیا ہے۔
وہ ایک اچھے جنگجو ہونے کے ساتھ ساتھ ایک موثر منتظم بھی تھے۔ ان کی جنگی صلاحیتوں کا ان کے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ دشمنوں نے بھی اعتراف کیا۔
مشہور مورخ آر پی ترپاٹھی اپنی کتاب 'Rise and Fall of the Mughal Empire' میں لکھتے ہیں: 'اکبر کے ہاتھوں ہیمو کی شکست بدقسمتی تھی، اگر قسمت اس کا ساتھ دیتی تو اسے یہ شکست نہ ہوتی۔'
ایک اور معروف مورخ آر سی مجمدار شیر شاہ پر کتاب کے ایک باب 'ہیمو - اے فارگوٹن ہیرو' میں لکھتے ہیں: 'ہیمو کی فتح پانی پت کی لڑائی میں ایک حادثے کی وجہ سے شکست میں بدل گئی، ورنہ انھوں نے دہلی میں مغلوں کی جگہ ایک ہندو خاندان کی بنیاد رکھ دی ہوتی۔'

،تصویر کا ذریعہSpl
معمولی گھرانے میں جنم
ہیم چندر عرف ہیمو سنہ 1501 میں ہریانہ میں ریواڑی ضلعے کے ایک گاؤں قطب پور میں پیدا ہوئے۔
ان کی ایک خاندانی کریانے کی دکان تھی۔ اکبر کے سوانح نگار، ابوالفضل نے حقارت سے اسے ایک پھیری والے یعنی ہاکر کے طور پر بیان کیا ہے جو ریواڑی کی گلیوں میں نمک بیچا کرتے تھے۔
لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا پیشہ جو بھی رہا ہو وہ شیر شاہ سوری کے بیٹے اسلام شاہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جلد ہی وہ شہنشاہ کے معتمد بن گئے اور انتظامیہ میں ان کی مدد کرنے لگے۔ شہنشاہ نے انھیں محکمہ انٹیلی جنس اور ڈاک کا سربراہ بنا دیا۔
بعد میں اسلام شاہ نے ان میں عسکری خوبیاں دیکھیں جس کی وجہ سے انھوں نے ہیمو کو اپنی فوج میں جگہ دی جو شیر شاہ سوری کے زمانے میں برہمجیت گور کو دی گئی تھی۔
عادل شاہ کے دور میں ہیمو کو 'وکیل اعلیٰ یعنی وزیراعظم کا درجہ ملا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دہلی پر قبضہ
جب عادل شاہ کو یہ خبر ملی کہ ہمایوں نے واپس آ کر دہلی کے تخت پر قبضہ کر لیا ہے تو انھوں نے ہیمو کو مغلوں کو ہندوستان سے بھگانے کی ذمہ داری سونپی۔
ہیمو نے اپنی 50,000 کی فوج، 1000 ہاتھیوں اور 51 بندوقوں کے ساتھ دہلی کی طرف کوچ کیا۔ کالپی اور آگرہ کے گورنر عبداللہ ازبیگ خان اور سکندر خان خوف کے مارے اپنے شہروں سے بھاگ نکلے۔
کے کے بھردواج اپنی کتاب 'ہیمو نپولین آف میڈیول انڈیا' میں لکھتے ہیں کہ ’دہلی کے مغل گورنر تارڈی خان نے ہیمو کو روکنے کے لیے تمام انتظامات کیے تھے۔ ہیمو 6 اکتوبر سنہ 1556 کو دہلی پہنچے اور اپنی فوج کے ساتھ تغلق آباد میں ڈیرہ ڈالا۔
اگلے دن ان کی فوج اور مغل فوج کے درمیان جنگ ہوئی جس میں مغلوں کو شکست ہوئی اور تارڈی خان اپنی جان بچانے کے لیے پنجاب کی طرف بھاگ نکلے جہاں اکبر کی فوج پہلے سے موجود تھی۔
’ہیمو فاتح کے طور پر دہلی میں داخل ہوا اور اپنے سر پر شاہی چھتری لے کر ہندو راج قائم کیا۔ اور مشہور مہاراجہ وکرمادتیہ کا لقب اختیار کیا۔ اس نے اپنے نام کے سکے بنائے اور دور دراز کے صوبوں میں گورنر مقرر کیے۔'

،تصویر کا ذریعہMITTAL PUBLICATIONS
بیرم خان نے تارڈی خان کا قتل کروایا
دہلی میں شکست کی خبر اکبر کو اس کی 14ویں سالگرہ سے دو دن پہلے 13 اکتوبر 1556 کو پہنچی۔ اس وقت اکبر پنجاب کے جالندھر میں بیرم خان کے ساتھ تھے۔ اکبر کے دل میں دہلی سے زیادہ کابل کی اہمیت تھی۔ لیکن بیرم خان نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔
پاروتی شرما اکبر کی سوانح عمری 'اکبر آف ہندوستان' میں لکھتی ہیں: 'اکبر کے سامنے آپشنز واضح تھے۔ یا تو وہ ہندوستان کا شہنشاہ بن جائے یا پھر آرام سے کابل واپس آ جائے اور صرف علاقائی بادشاہ ہی رہے۔ ہوا یوں کہ جب تارڈی خان دہلی سے بھاگ کر اکبر کے خیمے میں پہنچے تو اکبر شکار کے لیے گئے ہوئے تھے، بیرم خان نے تارڈی خان کو اپنے خیمے میں بلوا بھیجا، کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد بیرم خان اپنی مغرب کی نماز کے لیے وضو کرنے کے لیے چلے گئے، اسی دوران بیرم خان کے آدمی خیمے میں داخل ہوئے اور تارڈی خان کو قتل کر دیا۔
'جب اکبر شکار سے واپس آئے تو بیرم خان کے نمبر دو پیر محمد نے انھیں تارڈی خان کی موت کی خبر سنائی۔ بیرم خان نے پیر محمد کے ذریعے اکبر کو پیغام بھیجا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وہ اس کے اقدام کی حمایت کریں گے تاکہ دوسروں کو سبق ملے کہ جنگ سے بھاگنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہیمو نے بڑی فوج کے ساتھ پانی پت کی طرف کوچ کیا
دوسری طرف جب ہیمو کو معلوم ہوا کہ مغل جوابی کارروائی کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو اس نے پہلے ہی پانی پت کی طرف اپنا توپ خانہ بھیج دیا۔
بیرم خان نے بھی علی قلی شیبانی کی قیادت میں 10000 لوگوں کا لشکر پانی پت کی طرف روانہ کیا۔ شیبانی ازبک تھا اور مشہور جنگجوؤں میں شمار ہوتا تھا۔
ابوالفضل اکبر کی سوانح عمری 'اکبر نامہ' میں لکھتے ہیں: 'ہیمو نے دہلی کو بہت جلد چھوڑ دیا۔ دہلی سے پانی پت کا فاصلہ 100 کلومیٹر سے بھی کم تھا۔
اس علاقے میں شدید خشک سالی تھی۔ اس لیے راستے میں انسانوں کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ ہیمو کی فوج 30,000 تجربہ کار گھڑسواروں اور 500 سے 1500 کے درمیان ہاتھیوں پر مشتمل تھی۔ہاتھیوں نے اپنی سونڈوں پر تلواریں اور نیزے لیے ہوئے تھے، اور جنگی مہارت کے ماہر تیر انداز ان کی پشت پر سوار تھے۔
یہ بھی پڑھیے
'اس سے پہلے مغل فوج نے میدان جنگ میں اتنے لمبے چوڑے ہاتھی کبھی نہیں دیکھے تھے۔ وہ کسی بھی فارسی گھوڑے سے زیادہ تیز دوڑ سکتے تھے اور گھوڑے اور سوار کو اپنی سونڈ سے اٹھا کر ہوا میں پھینک سکتے تھے۔'
ہیمو راجپوتوں اور افغانوں کی ایک بڑی فوج کے ساتھ پانی پت پہنچے۔ جے ایم شلت اپنی کتاب 'اکبر' میں لکھتے ہیں: 'اکبر کو اس لڑائی سے تھوڑی دور ایک محفوظ جگہ پر رکھا گیا تھا۔ بیرم خان نے بھی خود کو اس لڑائی سے دور رکھا اور لڑائی کی ذمہ داری اپنے خاص لوگوں پر چھوڑ دی۔'

،تصویر کا ذریعہMURTY CLASSICAL LIBRARY OF INDIA
ہیمو کی بہادری
ہیمو اپنے سر پر کوئی زرہ بکتر پہنے بغیر اس جنگ میں اترا۔ وہ مسلسل چیخ چیخ کر اپنے ساتھیوں کے حوصلے بلند کر رہا تھا۔ وہ اپنے ہاتھی 'ہوائی' پر سوار تھے۔
بدایونی اپنی کتاب 'منتخب التواریخ' میں لکھتے ہیں: 'ہیمو کے حملے اس قدر مضبوط تھے کہ اس نے مغل فوج کے دائیں اور بائیں دونوں جانب خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ تاہم وسطی ایشیا کے گھڑ سواروں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
’انھوں نے براہ راست سامنے سے حملہ نہ کر کے ان کناروں سے ترچھا حملہ کیا تاکہ ہاتھی پر سوار سپاہی گر جائیں اور ان کو تیز رفتار گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند دیا جائے۔'
اس جنگ کو بیان کرتے ہوئے ابوالفضل لکھتے ہیں کہ بادلوں کی طرح گرجنے والی اور شیروں کی طرح دہاڑنے والی دونوں فوجیں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئیں، علی قلی شیبانی کے تیر اندازوں نے دشمن پر تیروں کی بارش کی لیکن لڑائی کا رخ پھر بھی ان کی طرف بھی نہ ہو سکا۔
پاروتی شرما لکھتی ہیں: ’شاید اکبر اس وقت سوچ رہا تھا کہ پانی پت کی پہلی جنگ میں اس کے دادا بابر کی فوج نے ابراہیم لودی کے ایک لاکھ سپاہیوں کو صرف 10،000 سپاہیوں کے ساتھ کیسے شکست دی۔ لیکن اکبر کو یہ بھی اندازہ تھا کہ تب بابر کے پاس ایک خفیہ ہتھیار یعنی بارود تھا۔ لیکن 30 سال بعد اس کے پاس ایسا کوئی پراسرار ہتھیار نہیں تھا۔
’اس وقت تک یہ اتنا ہو چکا تھا کہ اکبر نے جنگ شروع ہونے سے پہلے اپنے توپ خانے کے سربراہ کو یہ حکم دیا تھا کہ اسے ہیمو کے پتلے میں بھر کر جلایا جائے تاکہ اس کے سپاہیوں کے حوصلے بلند ہوں۔'

ہیمو کی آنکھ میں تیر لگا
لیکن پھر ایک معجزے نے مغل فوج کا ساتھ دیا۔ ہیمو نے مغل فوج کے دائیں اور بائیں طرف کھلبلی مچا دی تھی۔ علی قلی شیبانی کے سپاہی ہیمو کی فوج پر تیروں کی بارش کر کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا ایک تیر نشانے پر لگا۔
ابوالفضل لکھتے ہیں: 'ہیمو نے کبھی گھڑ سواری نہیں سیکھی تھی، شاید یہی وجہ تھی کہ وہ ہاتھی پر جنگ لڑ رہا تھا، لیکن شاید یہ بھی وجہ تھی کہ اگر کمانڈر ہاتھی پر ہو تو سارے سپاہی اسے دور سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ہیمو نے اوپر سے کوئی زرہ نہیں پہنی تھی۔
’یہ ایک بہادرانہ لیکن غیر دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ لڑائی کے دوران اچانک اڑنے والا ایک تیر ہیمو کی آنکھ میں داخل ہو گیا اور اس کی کھوپڑی میں پھنس گیا۔‘
جے این یو کے سابق پروفیسر اور معروف مورخ ہربنس مکھیا اپنی کتاب 'دی مغلز آف انڈیا' میں محمد قاسم فرشتہ کے حوالے سے بتاتے ہیں: ’اس حادثے کے بعد بھی ہیمو نے حوصلہ نہیں ہارا، اس نے اپنی آنکھ کی ساکٹ سے تیر نکال کر اپنے رومال سے ڈھانپ لیا، یہاں تک کہ وہ لڑتا رہا۔ ہیمو میں اقتدار کی بھوک اکبر سے کم نہیں تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہBLACKWELL PUBLISHING
بیرم خان نے ہیمو کا سر قلم کر دیا
تاہم تھوڑی ہی دیر میں ہیمو اپنے ہاتھی کے ہودے میں بے ہوش ہو کر گر گیا۔ اس طرح کی جنگ میں جب بھی کمانڈر اس طرح زخمی ہوتا تھا تو ان کی فوج کی لڑائی میں دلچسپی جاتی رہتی تھی۔
چنانچہ جب اکبر اور بیرم خان میدان جنگ میں پہنچے تو انھوں نے اپنے سپاہیوں کو لڑائی کے بجائے فتح کا جشن مناتے دیکھا۔
نظام الدین احمد اپنی کتاب 'طبقاتِ اکبری' میں لکھتے ہیں: 'ایک شاہ قلی خان نے ایک ہاتھی کو بغیر مہاوت کے گھومتے ہوئے دیکھا، اس نے اپنے مہاوت کو ہاتھی پر چڑھنے کے لیے بھیجا، جب مہاوت ہاتھی پر چڑھ گیا تو اس نے ہاتھی کے ہودے میں ایک زخمی آدمی کو پڑا ہوا دیکھا۔
’غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ زخمی شخص کوئی اور نہیں بلکہ ہیمو تھا۔ اس سارے معاملے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے قلی خان ہاتھی ہانکتا ہوا شہنشاہ اکبر کے سامنے لے گیا۔ اس سے پہلے اس نے ہیمو کو زنجیروں سے باندھ دیا تھا۔'

،تصویر کا ذریعہPARSHURAM GUPTA
ابوالفضل لکھتے ہیں: '20 سے زائد لڑائیوں کے فاتح ہیمو کو 14 سالہ اکبر کے سامنے خون آلود حالت میں پیش کیا گیا۔ بیرم خان نے اکبر سے جو حال ہی میں شہنشاہ بنا تھا، اپنے دشمن کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کو کہا۔ اپنے سامنے زخمی ہیمو کو دیکھ کر اکبر ہچکچائے۔
انھوں نے بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ 'میں نے پہلے ہی اس کے ٹکڑے کر دیے ہیں۔' اردگرد کھڑے کچھ لوگوں نے بیرم خان کی بات کی تائید کرتے ہوئے اکبر کو ہیمو کو مارنے کے لیے اکسایا۔ لیکن اکبر نہ مانے۔'
فرشتہ کا خیال ہے کہ اکبر نے زخمی ہیمو کو اپنی تلوار سے محض چھوا، لیکن ونسنٹ اے سمتھ اور ہربنس مکھیا کا خیال ہے کہ اکبر نے ہیمو پر اپنی تلوار کا استعمال کیا۔ لیکن عام خیال یہ ہے کہ بیرم خان نے اپنی تلوار سے ہیمو کا سر قلم کر دیا۔

وطن کی آزادی کے لیے جان کا نذرانہ
نیرود بھوشن رائے نے اپنی کتاب 'شیر شاہ کے جانشین' میں لکھا ہے کہ 'ہیمو نے ہمیشہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو اپنی دو آنکھیں سمجھیں۔ پانی پت میں اس نے ہندوستان کی خودمختاری کے لیے مغلوں سے جنگ کی، ان کے فوج کی دائیں طرف کی کمان شادی خان کاکر نے جبکہ بائیں جانب کی کمان رامیہ نے سنبھال رکھی تھی۔
کہتے ہیں کہ اگر وہ کچھ سال اور زندہ رہتے تو ہندوستان میں ہندو راج کی مضبوط بنیاد رکھ دیتے۔
ونسنٹ اے سمتھ اکبر کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں: 'اکبر کا تعلق غیر ملکی تھا۔ اس کی رگوں میں خون کا ایک قطرہ بھی ہندوستانی نہیں تھا۔ اپنے والد کی طرف سے وہ تیمورلنگ کی ساتویں نسل سے میں آتا تھا جبکہ اس کی ماں فارسی نژاد تھی۔ اس کے برعکس ہیمو کا تعلق ہندوستان کی سرزمین سے تھا اور ہندوستان کے تخت اور خودمختاری پر اس کا زیادہ دعویٰ تھا۔
شتریہ یا راجپوت نہ ہونے کے باوجود ہیمو نے اپنے ملک کی آزادی کے لیے میدان جنگ میں آخری سانس لی، اس سے بہتر انجام اور کیا ہوسکتا ہے۔؟
ایک کرانے کی دکان سے دہلی کے تخت تک پہنچنا کم از کم ان دنوں ایک بڑی بات تھی۔ اگر قسمت فتح کو شکست میں نہ بدلتی تو ہندوستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔











