آخری مغل بادشاہ کی پڑپوتی کو نوکری

ہندوستان کا ایک سرکاری ادارہ کول انڈیا نے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی ایک غریب پڑپوتی کو غربت سے نکالنے کے لیے نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی مادہو اپنی ماں سلطانہ بیگم کے ہمراہ کلکتہ کے مضافات میں ایک چائے کا کھوکہ چلاتی ہیں۔مادھو بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی بیٹی ہیں۔
محمد بیدار بخت کی پانچ بیٹیاں ہیں جن میں چار شادی شدہ ہیں جبکہ مادھو کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔
بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کو سرکاری محکمے میں نوکری دینے کی وجہ آخری مغل بادشاہ کا 1857 کی جنگ آزادی میں عمدہ کردار ہے۔
انڈیا کول اگلے ماہ ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کر رہی ہے جس میں وزیر کوئلہ نوکری کا باقاعدہ لیٹر بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کے حوالے کریں گے۔
بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کی مدد کے لیے سرکاری محکمے میں نوکری کا سبب ایک بھارتی صحافی شیوناتھ جھا کی وہ مہم ہے جو وہ بھارت کے بھولے بسرے ہیروز کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کے بارے میں چلا رہے ہیں۔
اس سے پہلے شیوناتھ جہا نے کاسیکل موسیقار بسم اللہ خان سے عدم توجہی کے بارے میں ایک مہم چلائے جس سے عظیم بسم اللہ خان اور ان کے اولاد کو کچھ مدد ملی۔
بھارت میں 1857 کی جنگ آزادی میں آخری مغل بادشاہ کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے شیوناتھ جہا نے سابق وزیر ریلوے لالو پرساد کے ذریعے 1857 کے ایک اور ہیرو تانتیا توپ کے دو پڑپوتیوں کو نوکری دلوائی تھی۔
بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی پانچ بیٹیاں ہیں جن میں چار شادی شدہ جبکہ مادھو کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔محمد بیدار بخت کی بیوہ سلطانہ بیگم کا کہنا ہے کہ ان کی باقی چار بیٹیاں بھی غربت کی زندگی گزار رہی ہیں۔
بھارت کے ایک صنعت کار مادھوسدھن اگروال نے بھی بھارت شاہ ظفر کی پڑپوتی کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔
انگریز حکمرانوں نے جنگ آزادی پر قابو پانے کے بہادر شاہ ظفر کو ملک بدر کر کے رنگون بھجوا دیا تھا جہاں نے اپنے آخری شعر لکھا تھا۔
’کتنا ہے بد نصیب ظفر، دفن کے لئے دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں‘







